فوجی پریڈ پر حملہ، امریکا اور اسرائیل سے بدلہ لیں گے، ایران | حالات حاضرہ | DW | 24.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

فوجی پریڈ پر حملہ، امریکا اور اسرائیل سے بدلہ لیں گے، ایران

پاسداران انقلاب کے نائب سربراہ نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تہران کی طرف سے ’تباہ کن‘ ردعمل کی اُمید رکھیں۔ انہوں نے ان دونوں ملکوں پر اہواز حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

آج ایرانی شہر اہواز میں ہزاروں شہریوں نے ہفتے کے روز ایک فوجی پریڈ میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں مارچ کیا۔ اس حملے میں پچیس افراد ہلاک ہو گئے تھے، جن میں پاسداران انقلاب کے بارہ اہلکار بھی شامل تھے۔

اس حملے کو ایران کی فوجی طاقت کے خلاف ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے، جب امریکا اور اس کے خلیجی اتحادی تہران کو تنہا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

اہواز میں ہلاک شدگان کی نماز جنازہ سے پہلے حسین سلامی کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’تم ہمارا بدلہ پہلے بھی دیکھ چکے ہو۔ تم دیکھو گے کہ ہمارا ردعمل تباہ کن اور کچل دینے والا ہوگا۔ تم پچھتاؤ گے کہ تم نے کیا کیا؟‘‘ 

Karte Iran Tehran Ahvaz Khuzestan EN

دوسری جانب ایران میں انٹیلی جنس کے وزیر نے کہا ہے کہ اہواز میں فوجی پریڈ پر حملے میں ملوث ہونے کی بنیاد پر ایک ’بڑے مشتبہ نیٹ ورک‘ کو پکڑ لیا گیا ہے۔ محمود علوی کا میزان نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس حملے سے منسلک تمام دہشت گردوں کی شناخت کر لی جائے گی۔

ایران مخالف عرب ریاستوں کو امریکا اشتعال دلا رہا ہے، روحانی

 دریں اثناء ایران بھر میں آج بروز پیر یوم سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ صوبہ خوزستان کے تمام تعلیمی ادارے، عوامی دفاتر اور بینک بند رکھے جائیں گے۔

 ایرانی حکام کے مطابق چار حملہ آوروں نے یہ کارروائی کی تھی جبکہ داعش کی نیوز ایجنسی عماق نے ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں تین افراد یہ کہتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں کہ وہ حملہ کرنے جا رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں ایک مبینہ حملہ آور کہتا ہے، ’’ہم طاقتور اور گوریلا حملوں سے ان کو تباہ کر دیں گے۔‘‘

حملے میں امریکی حمایت یافتہ عرب ریاستیں ملوث ہیں، خامنائی

دوسری جانب اہواز قومی مزاحمتی تحریک نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ عرب نسلی ایرانی تحریک تیل کی دولت سے مالا مال صوبہ خوزستان کی آزادی چاہتی ہے۔ تاہم پاسداران انقلاب کے نائب سربراہ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ ان عسکریت پسندوں نے کیا تھا، جنہیں خلیجی ممالک اور اسرائیل نے تربیت فراہم کی تھی اور انہیں امریکی حمایت حاصل ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس صوبے کی سکیورٹی بڑھاتے ہوئے گرفتاریوں کا سلسلہ تیز کر سکتا ہے۔

ا ا / ص ح (ڈی پی اے، اے ایف پی، روئٹرز)

 

DW.COM