فلپائن: ڈینگی سے بچاؤ کی ویکسین سے چودہ بچے ہلاک | صحت | DW | 11.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

فلپائن: ڈینگی سے بچاؤ کی ویکسین سے چودہ بچے ہلاک

فلپائن میں ڈینگی سے بچاؤ کی ویکسین چودہ بچوں کی ہلاکت کا سبب بن گئی۔ ہلاک ہونے والے بچوں میں ویکسین کے انجیکشن لگنے کے بعد ڈینگی کی شدید علامات پائی گئی تھیں۔

گزشتہ دنوں فلپائن میں ایک مہم چلائی  میں آٹھ لاکھ تیس ہزار سے زائد بچوں کو ڈینگی سے بچاو کے ٹیکے لگائے گئے۔ یہ دنیا میں عوامی سطح پر ہونے والی اپنی نوعیت کی پہلی امیونائزیشن مہم تھی اور اس میں 'سنوفی ڈینگویکسیا‘ نامی متنازعہ دوا کا استعمال کیا گیا تھا۔

حکومت کی جانب سے گزشتہ ماہ 'سنوفی ڈینگویکسیا‘ کی فروخت پر اس وقت پابندی عائد کردی گئی تھی جب خبردار کیا گیا کہ ویکیسن کے ٹیکے لگنے کے بعد ان لوگوں میں ڈینگی کی علامات شدت سے نظر آئیں جو پہلے اس وائرس سے متاثر نہیں تھے۔

ڈینگی بخار کے خلاف ویکسین کی کامیابی

ڈینگی تیزی سے پھیلتا ہوا مرض

فلپائین کے وزیر صحت فرانسسکو ڈوکا کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے بچوں کے پوسٹ مارٹم کے بعد اس بات کی تصدیق کی جا سکتی ہے کہ ان بچوں میں شدید نوعیت کے ڈینگی کا انفیکشن پایا گیا یا نہیں۔ ڈوکا کے مطابق انہوں نے سنوفی بنانے والی کمپنی سے 1.5 بلین پیسوس یا 30 ملین ڈالر کے مساوی اس رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے جو ویکسین کی خریداری پر خرچ کی گئی تھی۔      

دوسری جانب سنوفی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں بچوں کی اموات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اب تک15 مملک میں کیے جانے والے طبی آزمائشوں میں 40 ہزار سے زائد افراد کو یہ ویکسین دی جا چکی ہے۔ تاہم کسی بھی ہلاکت کو اس ویکسین سے نہیں جوڑا گیا۔

DW.COM

اشتہار