فلسطینی ارب پتی تاجر، رہائی کے بعد اردن پہنچ گئے | حالات حاضرہ | DW | 19.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فلسطینی ارب پتی تاجر، رہائی کے بعد اردن پہنچ گئے

فلسطینی ارب پتی تاجر اور اردن کے با اثر ترین کاروباری شخصیت اور سب سے بڑے بینک ’عرب بینک‘ کے سربراہ صبیح المصری اردن واپس پہنچ گئے ہیں۔ سعودی عرب میں زیر حراست المصری کو اتوار کے روز رہا کیا گیا تھا۔

صبیح المصری کو گزشتہ ہفتے سعودی عرب میں اس وقت حراست میں لے لیا گیا تھا جب وہ اپنی ملکیتی سعودی کمپینوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری حضرات کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد واپس اردن کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ المصری کی یہ گرفتاری سعودی عرب میں انتہائی امیر اور طاقتور لوگوں کے خلاف انسداد بد عنوانی کی مہم کے سلسلے میں عمل میں آئی تھی۔

المصری کےخاندانی ذرائع کے مطابق وہ اردن کے دارالحکومت عمان میں واقع اپنے گھر پہنچ چکے ہیں۔

المصری نے جو سعودی شہریت رکھتے ہیں، اتوار کے روز رہائی کے بعد ریاض میں اپنی رہائش پر کہا تھا کہ سعودی حکام ان کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آئے۔ سعودی حکام کی جانب سے اب تک ان کی حراست اور رہائی کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے جبکہ اردنی حکام کے مطابق ان کی رہائی سعودی بادشاہ، عبداللہ کی مداخلت کے باعث ممکن ہو سکی ہے۔

معتبر ذرائع کے مطابق المصری سے سعودی وزارت میں ان کے شراکت داروں، حکام اور شاہی خاندان کے ساتھ روابط سے متعلق سوالات کیے گئے۔ ان ذرائع کے مطابق المصری کے ساتھ جو معاملات طے پائے ہیں، اس کے مطابق انہیں سعودی عرب کو ایک بڑی رقم واپس کرنا ہو گی۔

سعودی حکومت آئندہ برس کیا کرنا چاہتی ہے؟

فلسطینی ارب پتی تاجر سعودی عرب میں زیر حراست

مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق المصری کو زیر حراست لیے جانے سے اردن اور فلسطینی سرمایہ کاروں کے لیے پریشانی کا باعث بنی۔ المصری کی اربوں کی سرمایہ کاری نہ صرف ملکی معیشت کی بنیاد ہے بلکہ ہزاروں افراد کو روزگار بھی فراہم کرتی ہے۔ وہ اردن اور فلسطینی علاقوں میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والی شخصیت ہیں۔

المصری کو عرب بینک کا سربراہ سن 2012 میں منتخب کیا گیا تھا۔ صبیح المصری کا خاندان فلسطین کے امیر ترین خاندانوں میں سے ایک ہے جس کے ریئل اسٹیٹ، ہوٹل اور ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹرز سے متعلق کاروباروں میں بڑے شیئرز ہیں۔

DW.COM

اشتہار