فضائی آلودگی سے بچوں کی اموات، پاکستانی بچے بھی شامل ہیں | سائنس اور ماحول | DW | 03.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

فضائی آلودگی سے بچوں کی اموات، پاکستانی بچے بھی شامل ہیں

ایک تازہ رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیائی ممالک کے بچے فضائی آلودگی سے شدید متاثر ہیں۔ اس فضائی آلودگی نے نوزائیدہ بچوں کی نشو و نما اور زندگی کو سنگین انداز میں متاثر کر رکھا ہے۔

جنوبی ایشیا کے ممالک کے بچوں کی عمومی صحت پر فضائی آلودگی کے شدید اثرات کی تفصیلات اُس رپورٹ میں شامل ہیں، جسے امریکا میں قائم ہیلتھ ایفیکٹس انسٹیٹیوٹ نے مرتب کیا ہے۔ اس رپورٹ کا عنوان ’فضائی آلودگی کی عالمی رپورٹ‘ رکھا گیا ہے۔ اس رپورٹ نے ساری دنیا میں بچوں کی بے وقت موت کا سبب بننے والے عارضوں میں فضائی آلودگی کو بھی شمار کیا ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ فضائی آلودگی نے جنوبی ایشیا کے ملکوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی اوسط عمر میں بیس ماہ کی کمی کر دی ہے یعنی پیدا ہونے والے بچوں کی اوسط عمر وقت کے ساتھ بیس ماہ کم ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ فضائی آلودگی سے ہونے والی بچوں کی اموات کا تناسب سڑک پر ہونے والےحادثات، ملیریا اور کم غذائیت سے زیادہ ہے۔

بچوں کی اوسط عمر میں کمی کے حوالے سے واضح کیا گیا کہ  پیدا ہونے والے بچے میں عمر کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا تاہم آلودہ ماحول میں رہنے سے بچے کی عمر کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

Pakistan Smog in Lahore

شدید فضائی آلودگی نے کم عمر بچوں کا جینا محال کر دیا ہے

اوسط عمر میں کمی کی وجہ جنوبی ایشیائی ملکوں کی ناموافق فضا اور مکانات کے اندر کی گُھٹی ہوئی نقصان دہ ہوا کو قرار دیا گیا ہے۔ ان ملکوں کے کم آمدنی والے گھروں میں لکڑی یا کوئلہ جلایا جاتا ہے اور ان سے اٹھنے والا دھواں بچوں کے لیے شدید نقصان دہ ہوتا ہے۔

یہ رپورٹ سن 2017 کے اختتام تک کی صورت حال پر مبنی ہے۔ تمام تر اقدامات کے باوجود چین اب بھی وہ ملک ہے جہاں فضائی آلودگی سے بچوں کی اموات سب سے زیادہ ہے۔ اس ملک میں سن 2017 میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد آٹھ لاکھ باون ہزار کے قریب تھی۔ فضائی آلودگی کے حامل پانچ ایشیائی ممالک میں چین کے علاوہ بھارت، پاکستان، انڈونیشیا، اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔

اس رپورٹ میں خاص طور پر یہ واضح کیا گیا کہ فضائی آلودگی کی موجودہ صورت حال برقرار رہتی ہے تو پاکستان، بھارت اور نائجیریا کے بچوں کی اوسط عمر میں ایک سال تک کی کمی ہو جائے گی۔

DW.COM