فرانس: ’ماکروں، لے پین سے زیادہ متاثر کن ہیں‘ | حالات حاضرہ | DW | 04.05.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فرانس: ’ماکروں، لے پین سے زیادہ متاثر کن ہیں‘

فرانس میں قبل ازانتخابات ہونے والے آخری مباحثے کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ماکروں نے اپنی حریف لے پین کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ دونوں امیدواروں نے اس دوران ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ بھی کی۔

فرانس میں صدارتی انتخابات کے فیصلہ کن مرحلے سے قبل گزشتہ شب منعقد ہونے والے مباحثے میں دونوں امیدواروں کے مابین جملوں کا سخت تبادلہ ہوا۔ اس موقع پر مارین لے پین نے کہا کہ جب امانوئل ماکروں ملک کے وزیر اقتصادیات تھے، تو انہوں نے فرانس کی کچھ سرکاری کمپنیوں کو فروخت کیا تھا۔ ثبوت کے طور پر لے پین نے کچھ دستاویزات بھی پیش کیں۔

 جواب میں آزاد امیدوار ماکروں نے اپنی دائیں بازو کی حریف سیاستدان پر غلط بیانی کے ذریعے  معاشرے کو تقسیم کرنے کی کوشش کے الزامات عائد کر ڈالے۔ اس پر لے پین نے کہا کہ ماکروں کو ریموٹ کنٹرول کی مدد سے چلایا جا رہا ہے اور وہ ایک بے لگام عالمگیریت کے حامی ہیں۔

 اس مباحثے کے بعد کرائے جانے والے عوامی جائزے میں شامل دو تہائی افراد نے کہا کہ اس مباحثے کے فاتح سوشل لبرل امیدوار ماکروں ہیں جبکہ بقیہ 34 فیصد کی رائے میں لے پین زیادہ متاثر کن تھیں۔ فرانس میں اتوار سات مئی کو صدارتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ منعقد ہو رہا ہے، جس میں ملک کے آئندہ سربراہ مملکت کا فیصلہ ہو گا۔

قبل از انتخابات کرائے جانے والے تمام عوامی جائزے ماکروں کے حق میں ہیں۔ مارین لے پین مہاجرین اور یورپی یونین مخالف اپنی سوچ کی وجہ سے شہرت رکھتی ہیں اور اسی لیے یہ انتخابات یورپی یونین کے لیے بھی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

فرانس میں تیئس اپریل کو صدارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ منعقد ہوا تھا، جس میں انتالیس سالہ ماکروں تقریباً چوبیس فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے پہلے نمبر پر رہے جبکہ لے پَین کو تقریباً 21.5 فیصد ووٹ مل سکے۔ قدامت پسند اور سوشلسٹ امیدواروں فرانسوا فیوں اور بے نوآ آموں کو تاریخی شکست اٹھانا پڑی اور دونوں نے فوری طور پر ماکروں کی حمایت کا اعلان کر دیا۔