فرانس آبدوز معاہدہ کی منسوخی: اتحادیوں میں تعلقات کشیدہ | حالات حاضرہ | DW | 20.09.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

فرانس آبدوز معاہدہ کی منسوخی: اتحادیوں میں تعلقات کشیدہ

آسٹریلیا نے فرانس کے ساتھ روایتی آبدوزوں کی ایک اہم ڈیل کو ختم کرتے ہوئے امریکا سے جوہری آبدوزیں خریدنے کا پروگرام بنا لیا ہے۔ اس پیش رفت پر پیرس حکومت نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

فرانس نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں سے اس مسئلے پر جلد ہی بات چیت کی درخواست کی ہے، جس میں فرانس آسٹریلیا کی جانب سے دفاعی معاہدے کی منسوخی کے سلسلے میں امریکا سے وضاحت طلب کرے گا۔

فرانس نے امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان گزشتہ دنوں ہونے والے آکوس دفاعی معاہدے کے بعد ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے امریکا اور آسٹریلیا سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا تھا۔ حالانکہ اس نے برطانیہ سے فی الحال اپنے سفیر کو واپس نہیں بلایا ہے۔

آکوس معاہدے کے بعد آسٹریلیا نے فرانس کے ساتھ نیوکلیائی آبدوز تیار کرنے کے اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے کو منسوخ کردیا اور امریکا اور برطانیہ کے ساتھ مل کر آبدوز تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئی پیش رفت کے بعد فرانس نے سخت ناراضی اور غم و غصے کا اظہار کیا۔

فرانسیسی حکومت کے ترجمان گیبریل اتل نے اتوار کے روز بتایا کہ اگلے چند دنوں کے اندر امریکی صدر جو بائیڈن اور فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں کے درمیان ٹیلی فون پر بات ہوگی۔ یہ بات چیت امریکی صدر کی درخواست پر ہو رہی ہے۔

 فرانسیسی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا، ”ہم ان سے وضاحت چاہتے ہیں۔ امریکا نے جو کچھ کیا ہے اسے اس کا جواب دینا ہوگا کیونکہ یہ ایک بڑی اعتماد شکنی کے مترادف ہے۔"

قومی مفاد سرفہرست

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مجوزہ بات چیت بظاہر آبدوزوں کے فروخت کے حوالے سے دونوں اتحادیوں کے درمیان  پیدا ہونے والے تنازعے کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔

اس سے قبل فرانس سے آسٹریلیا پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے فرانسیسی آبدوزیں خریدنے کا معاہدہ منسوخ کرنے اور ان کے بجائے امریکا سے معاہدہ کرنے کے سلسلے میں غلط بیانی کی۔ لیکن آسٹریلوی وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ معاہدے کے حوالے سے چند ماہ قبل ہی اپنے خدشات کا اظہار کرچکے تھے۔

آسٹریلیوی وزیر اعظم موریسن کا کہنا تھا کہ وہ فرانس کی مایوسی کو بخوبی سمجھتے ہیں لیکن ”مجھے آسٹریلیا کے قومی مفاد کو سرفہرست رکھنے میں کوئی افسوس نہیں اور آئندہ بھی نہیں ہو گا۔"

چین کے خلاف امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کا دفاعی معاہدہ

فرانس تاہم اس نئے دفاعی معاہدے اور آبدوزوں کی خریداری منسوخ کرنے کے فیصلے سے سخت ناراض ہے۔ اس ناراضی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ صدر ماکروں نے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے واشنگٹن اور کینبرا سے اپنے سفیروں کو واپس بلالیا۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے بھی گزشتہ دنوں آسٹریلیا، امریکا اور برطانیہ کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے۔ انہوں نے فرانس کے ایک ٹیلی ویژن سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”جھوٹ، دوغلاپن، بداعتمادی اور توہین ہوئی ہے۔ فرانس کا دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سفیروں کو واپس بلانے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہم کتنے ناراض ہیں اور ہمارے درمیان شدید بحران ہے۔"

برطانوی وزیر اعظم کی اپیل

اس تنازعہ کے درمیان برطانوی اور فرانسیسی وزراء دفاع کی اس ہفتے ہونے والی میٹنگ منسوخ کر دی گئی ہے۔ خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق میٹنگ کو منسوخ کرنے کا فیصلہ مبینہ طورپر حکمراں جماعت کی درخواست پر کیا گیا ہے۔

آکوس دفاعی معاہدے سے فرانس اور یورپی یونین ناراض، چین برہم

دریں اثنا برطانو ی وزیر اعظم بورس جانسن نے فرانس سے اپیل کہ وہ تعلقات میں آ جانے والی دراڑ کو ختم کرنے اور تعلقات کو بحال کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اور فرانس کے درمیان انتہائی دوستانہ تعلقات ہیں، ”ان کے ملک کی فرانس کے ساتھ محبت بے مثال ہے۔"

ادھر فرانسیسی وزیر خارجہ سے جب پوچھا گیا کہ انہوں نے برطانیہ سے بھی اپنے سفیر کو واپس کیوں نہیں بلایا تو انہوں نے کہا کہ فی الحال اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ انہوں نے حالانکہ  ہفتے کے روز کہا تھا کہ برطانیہ اس معاملے میں 'تیسرا پہیہ‘ ہے، ”ہم ان کی موقع پرستی سے واقف ہیں۔"

ج ا/  ا  ا   (اے ایف پی، روئٹرز)