’فرانسیسی مسجد کے گارڈز پر گاڑی چڑھانا دہشت گردی نہیں تھا‘ | حالات حاضرہ | DW | 02.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’فرانسیسی مسجد کے گارڈز پر گاڑی چڑھانا دہشت گردی نہیں تھا‘

فرانس میں ایک شہری نے یکم جنوری کے روز اپنی گاڑی ایک مسجد کے باہر حفا‌ظتی ڈیوٹی پر موجود فوجیوں پر چڑھا دینے کی جو کوشش کی، وہ ’دہشت گردی کا کوئی واقعہ نہیں‘ تھا لیکن ملزم فوجیوں کو مارنا اور خود مرنا چاہتا تھا۔

Frankreich Sicherheitsmaßnahmen Polizist Moschee

فرانس میں مسلمانوں اور یہودیوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے دس ہزار سے زائد فوجی تعینات ہیں

وسطی فرانس کے شہر والانس Valence سے ہفتہ دو جنوری کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ کل جمعہ یکم جنوری کی شام ایک 29 سالہ ڈرائیور نے، جو ایک تیونسی نژاد فرانسیسی شہری ہے، اس شہر کے ایک مضافاتی علاقے میں ایک مسجد کے باہر سکیورٹی ڈیوٹی پر موجود چار سرکاری فوجیوں پر اپنی گاڑی چڑھانے کی کوشش کی تھی۔

اس ملزم نے پہلی کوشش ناکام رہنے پر جب دوبارہ یہی کاوش کی تو وہاں موجود فوجیوں نے اسے روکنے کے لیے فائرنگ شروع کر دی تھی۔ اس فائرنگ میں یہ ملزم اور ایک بزرگ راہگیر مسلمان زخمی ہو گئے تھے۔ ساتھ ہی اس گاڑی کی زد میں آ کر ایک فوجی بھی زخمی ہو گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد حکام کا فوری طور پر خیال یہ تھا یہ واقعہ شاید پیرس میں 130 افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے 13 نومبر کے دہشت گردانہ حملوں کے جواب میں کوئی انتقامی کارروائی تھا، جس میں یہ ملزم غالباﹰ والانس کی مسجد کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔

لیکن آج ہفتے کے روز اس حملے کی چھان بین کرنے والے حکام نے بتایا کہ اب تک کی تفتیش کی روشنی میں یہ بات خارج از امکان ہے کہ یہ واقعہ منظم دہشت گردی کی کوئی کوشش تھا۔ فرانسیسی دفتر استغاثہ کے مطابق ملزم نے دوران تفتیش بتایا کہ اس نے اپنی گاڑی بڑی تیز رفتاری سے مسجد کے باہر موجود فوجیوں پر چڑھانے کی کوشش اس لیے کی کہ وہ ان فوجیوں کو مارنا چاہتا تھا۔

والانس کے پراسیکیوٹر آلیکس پاریں نے اس واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا، ’’ملزم کا کہنا ہے کہ وہ فوجیوں کو بھی مارنا چاہتا تھا اور خود بھی مرنا چاہتا تھا۔ اس نے کہا ہے کہ وہ فوجیوں کو اس لیے مارنا چاہتا تھا کہ وہ بھی لوگوں کو مارتے ہیں۔‘‘

Frankreich Valence Anschlag Moschee Auto

اس حملے میں فوجیوں کی فائرنگ سے تیونسی نژاد فرانسیسی ڈرائیور زخمی ہو گیا تھا

اے ایف پی نے ریاستی دفتر استغاثہ کے اس اہلکار کے حوالے سے یہ بھی لکھا ہے کہ بظاہر یہ ملزم انفرادی طور پر اس جرم کا مرتکب ہوا اور اس کا کسی بھی انتہا پسند تحریک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حکام نے یہ بھی بتایا کہ ملزم ممکنہ طور پر ’غیر واضح خیالات اور ذہنی انتشار کا شکار‘ ہو سکتا ہے۔

فرانس کے تقریباﹰ سبھی شہروں اور قصبوں میں ان دنوں مسلمانوں اور یہودیوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے ملکی فوج کے دس ہزار سے زائد فوجی تعینات ہیں۔

DW.COM