فرانسیسی فٹ بال ٹیم نسل پرستی کے اسکینڈل کی زد میں | کھیل | DW | 05.07.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

فرانسیسی فٹ بال ٹیم نسل پرستی کے اسکینڈل کی زد میں

فرانسیسی قومی فٹ بال ٹیم کو یوئیفا یوڑو کپ سن دو ہزار بیس سے باہر ہوئے ابھی ایک ہفتے سے زیادہ کا وقت بھی نہیں ہوا تھا کہ اسے نسل پرستی کے ایک اسکینڈل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

فرانس کی قومی فٹ بال ٹیم کے دو کھلاڑیوں کی ایک ایسی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس میں بظاہر دو فٹ بالر ایشیائی نسل کے باشندوں کا مذاق اڑاتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ لا لیگا کے مشہور زمانہ کلب ایف سی بارسلونا کی نمائندگی کرنے والے معروف فرانسیسی کھلاڑی  گریزمان اور عثمان ڈیمبلے کی اس ویڈیو کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس ویڈیو میں یہ کھلاڑی ایشیائی نسل کے باشندوں کی نقل اتارتے اور ان کا مذاق اڑاتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ یہ ویڈیو کب بنائی گئی تھی۔ یہ ویڈیو ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب عالمی چیمپئن یورو کپ کے ایک کوارٹر فائنل مقابلے میں سوئٹزرلینڈ سے پنلٹی شوٹ آؤٹ میں شکست کے بعد اس اہم یورپی ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی تھی۔

ایسی خبریں بھی میڈیا میں گردش کرتی رہی ہیں کہ اس شکست کے بعد فرانسیسی ٹیم کے ہیڈ کوچ دی دی دشاں کے اسٹار کھلاڑیوں کلیان ایمباپے، آڈریوں روبیو اور اونٹوآن گریزمان کے ساتھ مبینہ اختلافات شدید تر ہو چکے ہیں۔

اس ویڈیو کو مبینہ طور پر ڈیمبلے نے شوٹ کیا جبکہ اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گریزمان اُن چار ایشیائی نسل کے باشندوں کا مذاق اڑا رہے ہیں، جو ان کے ہوٹل کے کمرے میں ان کا ٹیلی وژن کا کوئی نقص دور کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اس ویڈیو میں گریزمان ہنس رہے ہیں اور بظاہر ان کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

اس ویڈیو میں گریزمان اور ڈیمبلے ان ایشائی لوگوں کو مبینہ طور پر 'بدنما چہروں والا‘ کہتے  سنے جا سکتے ہیں اور ان کی زبان کا تمسخر اڑا رہے ہیں۔ بظاہر یہ ویڈیو نئی نہیں ہے بلکہ کچھ برس پرانی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس ویڈیو میں گریزمان کا ہیئر اسٹائل وہ نہیں جو آج کل ہے۔

Ungarn Budapest | UEFA EURO 2020 | Ungarn vs Frankreich | Trainer Didier Deschamps

فرانسیسی ٹیم کے ہیڈ کوچ دی دی دشاں کے اسٹار کھلاڑیوں کے ساتھ مبینہ اختلافات شدید تر ہو چکے ہیں

تاہم سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ چاہے یہ ویڈیو پرانی ہی کیوں نا ہو لیکن ان دونوں کھلاڑیوں کی طرف سے ایسا رویہ قابل قبول نہیں ہے۔ فرانسیسی فٹ بال فیڈریشن پر دباؤ دیا جا رہا ہے کہ وہ اس حوالے سے بیان جاری کریں اور ان کھلاڑیوں کے خلاف مناسب ایکشن لیا جائے۔

یورو کپ دو ہزار بیس سے باہر ہونے کے بعد اب فرانسیسی ٹیم عالمی کپ کی تیاریوں میں مصروف ہے اور اس کی کوشش ہے کہ قطر میں اپنے ٹائٹل کا دفاع کیا جا سکے۔ تاہم ٹیم کے اندر اختلافات کی وجہ سے اس 'جھگڑالو ٹیم‘ کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔

جیمز تھوروگوڈ ع ب / ع آ

DW.COM