فرانسيسی صدارتی انتخابات، فرانسوا اولانڈ دوڑ سے باہر | حالات حاضرہ | DW | 02.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فرانسيسی صدارتی انتخابات، فرانسوا اولانڈ دوڑ سے باہر

فرانس کے صدر فرانسوا اولانڈ نے عوامی سطح پر اپنی مقبوليت ميں بے انتہا کمی کے سبب دوسری مدت صدارت کے ليے آئندہ اليکشن ميں امیدوار نہ بننے کا اعلان کر ديا ہے۔

فرانسیسی صدر نے اپنے فيصلے کے بارے ميں اعلان کرتے ہوئے جمعرات کی شب اپنے ایک ٹيلی وژن خطاب ميں کہا، ’’ميں اس بات سے واقف ہوں کہ اگر ميں دوسری مدت صدارت کے لیے کوشش کروں، تو مجھے غالباً وہ حمايت نہيں حاصل ہو سکے گی جو درکار ہے۔ اسی ليے ميں نے يہ فيصلہ کيا ہے کہ ميں آئندہ اليکشن ميں بطور اميدوار حصہ نہيں لوں گا۔‘‘

صدر اولانڈ نے اپنے خطاب میں ترقی پسند سوچ کے حامل افراد کے اتحاد پر زور ديا۔ انہوں نے عواميت پسندانہ سياست اور انتہائی دائيں بازو کی قوتوں سے بھی خبردار کيا۔

ری پبلکن جماعت کے قدامت پسند فرانسوا فِيَوں اور انتہائی دائيں بازو کی پارٹی نيشنل فرنٹ کی سربراہ مارين لی پين

ری پبلکن جماعت کے قدامت پسند فرانسوا فِيَوں اور انتہائی دائيں بازو کی پارٹی نيشنل فرنٹ کی سربراہ مارين لی پين

فرانس ميں بے روزگاری کی شرح کافی اونچی ہے۔ اسی سبب صدر اولانڈ کا نام عوامی سطح پر ملک کے غير مقبول ترين صدور ميں شامل کيا جا رہا ہے۔ تاہم اس کے باوجود ان کے قريبی ساتھيوں کا ايک عرصے سے يہی ماننا تھا کہ وہ دوسری مدت صدارت کے ليے اليکشن ميں کھڑے ہوں گے۔ فرانسوا اولانڈ کے اس غير متوقع فيصلے نے کئی افراد کو سوچ ميں ڈال ديا ہے۔

اس پيش رفت کے نتيجے ميں اب فرانسيسی صدارتی انتخابات ميں ری پبلکن جماعت کے قدامت پسند فرانسوا فِيَوں اور انتہائی دائيں بازو کی پارٹی نيشنل فرنٹ کی سربراہ مارين لی پين کے مد مقابل بائيں بازو کا کوئی اور ہی اميدوار ميدان ميں اترے گا۔ پہلے ايک ريفرنڈم کے ذريعے برطانيہ کی جانب سے يورپی يونين سے اخراج کے فيصلے اور پھر امريکی صدارتی انتخابات ميں ری پبلکن جماعت کے ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کے بعد فرانس ميں آئندہ برس اپريل اور مئی ميں ہونے والے صدارتی اليکشن کو قوم پرست اور عواميت پسند سياست کے ايک اور امتحان کے طور پر ليا جا رہا ہے۔

دراصل گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہونے والی سياسی پيش رفت نے فرانسيسی سياست کا پورا منظر نامہ ہ یبدل دیا ہے۔ پہلے سابق صدر نکولا سارکوزی ری پبلکن جماعت کی پرائمريز ميں شکست سے دوچار ہوئے اور پھر فيورٹ تصور کيے جانے الاں يوپے بھی دوڑ سے باہر ہو گئے اور ری پبلکن پارٹی کے اميدوار کی حيثيت سے سامنے آئے،  فرانسوا فِيَوں۔

اولانڈ کے اعلان کے بعد اب سوشلسٹوں کو اپنا کوئی صدارتی امیدوار سامنے لانے کا مشکل مرحلہ درپیش ہے جبکہ آج کل فرانس ميں بائيں بازو کے سياسی دھڑے ميں گہری تقسيم پائی جاتی ہے۔ صدر اولانڈ اور وزير اعظم مانوئل والس کے مابين تناؤ جاری ہے اور والس ايک موقع پر يہ عنديہ بھی دے چکے ہيں کہ وہ امکاناً آئندہ صدارتی انتخابات ميں کھڑے ہو سکتے ہيں۔ علاوہ ازيں کئی ديگر سوشلسٹ سياستدانوں نے بھی کہہ رکھا ہے کہ وہ جنوری سن 2017 ميں ہونے والے پرائمريز ميں حصہ ليں گے۔ ان ميں سابق وزير اقتصاديات آرنوں مونٹے بورگ بھی شامل ہيں جبکہ اولانڈ کی کابيہ کے سابق رکن ايمانوئل ماکروں اور بائيں بازو کے ايک اور سرگرم سياستدان ژاں لو ملاشوں بھی صدارت کی دوڑ ميں حصہ لينے کے ليے دلچسپی کا اظہار کر چکے ہيں۔