غزہ میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے حماس اور اسرائیل کے مابین مفاہمت | حالات حاضرہ | DW | 01.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

غزہ میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے حماس اور اسرائیل کے مابین مفاہمت

محصور غزہ پٹی پر کنٹرول رکھنے والے فلسطینی گروپ حماس کا کہنا ہے کہ اس نے قطر کی ثالثی سے اسرائیل کے ساتھ گزشتہ تین ہفتوں سے زائد عرصے سے جاری کشیدگی کو ختم کرنے کاایک معاہدہ کیا ہے۔

حماس کے رہنما یحیی سنوار کے دفتر سے پیر کے روزجاری ایک بیان کے مطابق قطری سفیر محمد العمادی سے بات چیت کے بعد 'تازہ کشیدگی کو ختم کرنے اور ہمارے عوام کے خلاف (اسرائیلی) جارحیت کو ختم کرنے کے لیے ایک مفاہمت ہوگئی ہے۔"

اسرائیل نے تاہم اس پیش رفت پر ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

العمادی نے ایک بیان میں حماس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ 'وہ غزہ کے شہریوں کی مشکل صورت حال‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے لیے تیار ہوگئی۔

حماس کے ذرائع نے خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیل پر غباروں کے ذریعہ اور دیگر حملے پوری طرح روک دیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ حماس او راسرائیل کے درمیان تازہ ترین کشیدگی میں گزشتہ چھ اگست سے اسرائیل غزہ پر تقریباً روزانہ فضائی حملے کررہا تھا جو اس کے مطابق سرحد پار سے آنے والے بارودی مواد سے لیس غباروں اور راکٹ حملوں کے جواب میں کیے جارہے تھے۔

اسرائیلی فائر بریگیڈ محکمے کے مطابق غباروں میں بھرے ان بارودی مواد سے آگ لگنے کے 400 سے زائد واقعات پیش آئے اور جنوبی اسرائیل میں کھیتوں کو نقصان پہنچا۔

سرحد پار سے ہونے والے حملوں کے جواب میں اسرائیل نے غزہ کو ایندھن کی فراہمی بند کردی تھی اور اپنے گرِڈ سے غزہ کو دی جانے والی بجلی کی سپلائی بھی دن میں صرف چار گھنٹے کردی تھی۔

خیال رہے کہ ایک مصری وفد حماس اور اسرائیل کے درمیان اس غیر رسمی امن معاہدے کی تجدید کی کوشش کررہا ہے، جس کے تحت اسرائیل نے سرحد پر امن کے بدلے غزہ میں تیرہ سال سے جاری پابندیوں میں نرمی کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اسرائیل نے غزہ میں 50 فیصد سے زیادہ بے روزگاری کو ختم کرنے کے لیے دیگر اقدامات پر بھی رضامندی ظاہر کی تھی لیکن ان اقدامات پرعمل درآمد کے معاملے میں اختلافات کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا۔

کشیدگی میں اضافہ کے نتیجے میں 2008، 2012 اور 2014 میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے واقعات پیش آئے۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان ان تین بڑی جنگوں کے علاوہ چھوٹی موٹی کئی جنگیں ہوچکی ہیں۔  ثالثین کسی نئی جنگ کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔

ج ا/ ص ز  (اے ایف پی)

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات