غریب اور غیر تعلیم یافتہ افراد کے لیے جرمنی کی طرف ہجرت مشکل | مہاجرین کا بحران | DW | 02.10.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

مہاجرین کا بحران

غریب اور غیر تعلیم یافتہ افراد کے لیے جرمنی کی طرف ہجرت مشکل

جرمنی ميں مزيد سخت اميگريشن قوانين پر اتفاق رائے ہو گيا ہے۔ نئے قوانين کے تحت کم وسائل والے اور کم تعليم يافتہ افراد کے ليے جرمنی ہجرت کرنا مشکل ہو جائے گا۔

اميگريشن پاليسی پر گزشتہ کئی ماہ سے سوچ بچار اور بحث و مباحثے کے بعد منگل کی صبح برلن حکومت نے اتفاق رائے قائم ہونے کا اعلان کر ديا ہے۔ جن صحافيوں نے نئی پاليسی کا مسودہ ديکھا ہے ان کا کہنا ہے کہ يہ کينيڈا کی اميگريشن پاليسی سے کافی حد تک مماثلت رکھتا ہے۔ نئی پاليسی سياسی پناہ کے متلاشی افراد اور افرادی قوت کے ليے ہونے والی اميگريشن ميں واضح تفريق کا سبب بنے گی۔ اس پالیسی  کے خلاصے کے مطابق يورپی يونين کے رکن ممالک سے باہر کے ملکوں کے افراد کے پاس اگر اعلی تعليم اور ملازمت کی پختہ آفر نہ ہو، تو ان کے ليے يورپ آنا مشکل ہو گا۔ علاوہ ازيں کينيڈا کی طرح درخواست گزاروں کو ان کی تعليم، عمر، زبان بولنے کی اہليت، ملازمت کی پیشکش اور مالی صورتحال کی بنياد پر چنا جائے گا۔

اميگريشن سے متعلق اس معاہدے پر سوشل ڈيموکريٹس کے ليبر منسٹر ہوبورٹس ہائل اور وزير داخلہ ہورسٹ زيہوفر نے پير اور منگل کی درميانی شب دستخط کيے۔ زيہوفر کافی عرصے سے اميگريشن قوانين ميں اصلاحات کا مطالبہ کرتے آئے ہيں۔ رواں سال جون ميں ايک موقع پر ان کے اور چانسلر انگيلا ميرکل کے درميان اختلافات اس قدر شدت اختيار کر گئے تھے کہ زيہوفر نے استعفی دينے کی دھمکی بھی دے دی تھی۔

نئی ڈيل ميں ان مہاجرين کے ليے بھی رعايت شامل نہيں، جو جرمن معاشرے ميں اچھے طريقے سے ضم ہو چکے ہو ليکن ان کی پناہ کی درخواستيں مسترد ہو جائيں۔ ايس پی ڈی نے بالخصوص اس سلسلے ميں رعايت طلب کی تھی۔ ہائل نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتايا کہ وزير داخلہ نے البتہ يہ ضرور کہا ہے کہ اس بارے ميں باريکی سے جائزہ لے کر کام کرنا ہو گا کہ غلط لوگوں کو ملک بدر نہ کر ديا جائے۔ حکومت کو يہ اختيار ہو گا کہ جب کسی مخصوص شعبے میں ملازمتيں دستياب نہ ہوں، تو اس ميں اميگريشن کو روک ديا جائے۔

ع س / ع ا، نيوز ايجنسياں

DW.COM