غازی عبدالرشید کے بیٹے اسلحے اور فوجی وردی کے ساتھ گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 23.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غازی عبدالرشید کے بیٹے اسلحے اور فوجی وردی کے ساتھ گرفتار

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے لال مسجد آپریشن میں ہلاک ہونے والے نائب خطیب غازی عبدالرشید کے دو بیٹوں کو اسلحہ اور فوجی وردی رکھنے کے الزام میں گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

Pakistan Rote Moschee Islamabad 2007

پاکستانی دارالحکومت کی لال مسجد کے خلاف دو ہزار سات میں ایک فوجی آپریشن کیا گیا، جس کے بعد ملک بھر میں دہشت گردی کی وارداتوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا تھا

پولیس کے مطابق رینجرز اور پولیس کی مشترکہ پٹرولنگ ٹیم نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات سیکٹر ایف سکس کے علاقے سپرمارکیٹ میں معمول کی تلاشی کے دوران ایک گاڑی سے ایک عدد پستول اور فوجی وردی برآمد کی۔

اس گاڑی میں لال مسجد میں دو ہزار سات کے فوجی آپریشن میں مارے گئے غازی عبدالرشید کے دو بیٹے تئیس سالہ ہارون رشید، اکیس سالہ حارث رشید اور ان کا ایک دوست آصف موجود تھے، جنہیں گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان کے خلاف اسلحہ رکھنے اور دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی پر تھانہ کوہسار میں ایف آئی آر درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔

دوسری جانب لال مسجد کے ایک ترجمان حافظ احتشام کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے دونوں بھائی عید منانے کے لیے اپنے دوست کے ہمراہ آبائی علاقے روجھان ضلع ڈیرہ غازی خان جا رہے تھے کہ انہیں ایک پولیس ناکے پر گرفتار کر لیا گیا۔

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ’ان کے پاس سے جو پستول برآمد ہوا ہے، وہ لائسنس یافتہ ہے، جو اپنی حفاظت کے نقطہٴ نظرسے رکھا گیا تھا، اس کے علاوہ پولیس جس ڈریس کو فوجی وردی کہہ رہی ہے، وہ شکار کے لیے استعمال ہونے والی وردی ہے کیونکہ دونوں بھائی شکار کے شوقین ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ دونوں بھائی مدرسے کے طالبعلم ہیں اور کبھی بھی کسی غیر قانونی یا مشکوک سرگرمی میں ملوث نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل میں ہارون رشید غازی عبدالرشید قتل کیس میں سابق فوجی صدر جنرل مشرف کے خلاف مقدمے کے مدعی ہیں، جس کی وجہ سے ان پر مقدمے سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

Pakistan Armee stürmt belagerte Moschee in Islamabad Jamia Hasfa Abdul Rashid Ghazi

2007ء کے فوجی آپریشن میں اس مسجد کے نائب خطیب کی اپنی والدہ، بھتیجے اور دیگر طالب علموں کے ہمراہ ہلاکت کے بعد اُس وقت کے حکمران پرویز مشرف کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے

ترجمان کے مطابق انہوں نے وکیل کی خدمات حاصل کر لی ہیں اور جلد ہی ضمانت کے لیے درخواست دائر کر دی جائے گی۔

Pakistan Proteste gegen Musharraf

لال مسجد کے نائب خطیب غازی عبدالرشید 2007ء کے فوجی آپریشن میں مارے گئے تھے

اسلام آباد پولیس اور رینجرز کی طرف سے اسلام آباد اور اس کے مضافاتی علاقوں میں غیر قانونی اسلحے اور مشکوک افراد کے خلاف گزشتہ کچھ دنوں میں آپریشن میں تیزی لائی گئی ہے۔

تاہم تجزیہ کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ لال مسجد کے سابق نائب خطیب کے بیٹوں کی گرفتاری ایک اہم پیشرفت ہے، جس کے سیاسی مضمرات بھی ہیں۔ انہوں نے کہا:’’لال مسجد اور اس سے جڑے خاص کر غازی عبدالرشید کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے بہت سے لوگ اب بھی موجود ہیں، جو ان گرفتاریوں سے ناراض ہو سکتے ہیں لیکن حکومت کو اس بنیاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے اور معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے اگر کسی کو قصور وار پاتی ہے تو اسے سزا دینی چاہیے۔‘‘

خیال رہے کہ اسلام آباد کی لال مسجد میں دو ہزار سات کے فوجی آپریشن میں اس مسجد کے نائب خطیب کی اپنی والدہ، بھتیجے اور دیگر طالب علموں کے ہمراہ ہلاکت کے بعد دہشت گردانہ اور خودکش حملوں میں تیزی آ گئی تھی۔ خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں لال مسجد سے منسلک غازی بریگیڈ کے شدت پسند ملوث تھے۔

اشتہار