عید کے موقع پر لاکھوں مسلمانوں کی عارضی مہاجرت | معاشرہ | DW | 13.06.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عید کے موقع پر لاکھوں مسلمانوں کی عارضی مہاجرت

مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کا اختتام قریب ہے۔ اس مہینے کے ختم ہونے پر سبھی مسلمان عیدالفطر کا مذہبی تہوار جوش و خروش سے مناتے ہیں۔

مسلمان ملکوں میں عیدالفطر کے موقع پر ایک طرح سے عبوری مہاجرت دیکھی جاتی ہے۔ کروڑوں مسلمان روزگار کی تلاش میں دوسرے شہروں میں مصروف ہوتے ہیں لیکن عید منانے کے لیے وہ اپنے اپنے خاندانوں کے پاس پہنچتے ہیں۔ سبھی ملازمت پیشہ افراد اپنے اپنے آبائی شہروں کو روانہ ہونے کی تیاریوں میں مصروف ہو چکے ہیں۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی بندرگاہی شہر کراچی سے مشرقِ بعید کے ملک انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ اور ملائیشیائی شہر کوالالمپور تک ان دنوں ایک افراتفری کی کیفیت پھیلی ہوئی ہے۔ تقریباً مسلمان ممالک کے دارالحکومت اور بڑے شہر رمضان کی گہما گہمی کے بعد عید کے موقع پر ویران ہو جاتے ہیں جبکہ روزمرہ زندگی کا معمول سست ہو کر رہ جاتا ہے۔

 ملازمت پیشہ اور کاروباری حضرات عید کے تحائف کی خریداری کے ساتھ ساتھ ریل گاڑیوں، بسوں اور ہوائی جہازوں سے روانہ ہونے کے لیے ٹکٹوں کی ریزرویشن کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Opferfest Eid Al-Adha in der moslemischen Welt Bangladesch (Reuters)

عید کے موقع پر صرف بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکا میں سے گیارہ ملین سے زائد مسلمان عارضی مہاجرتی عمل سے گزرتے ہیں

پاکستان میں عید کے موقع پر خصوصی عید ٹرین چلائی جاتی ہیں جو ہزاروں پاکستانیوں کو مختلف شہروں تک پہنچاتی ہیں۔ عید کے موقع پر خاص طور پر پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد ایک ویران شہر کا منظر پیش کرتا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق مسلمان ممالک میں سے تقریباً ستر فیصد مسلمان اپنے اپنے آبائی شہروں یا قصبوں کا سفر کرتے ہیں۔ انڈونیشیا میں بتیس ملین افراد ہر سال عید الفطر کے موقع پر روزگار کے شہر سے اپنے اپنے شہروں کی جانب روانہ ہوتے ہیں۔ ملائیشیا کی وسیع آبادی بھی ایسا ہی کرتی ہے۔

بنگلہ دیش میں ایسے مسلمانوں کی تعداد پچاس ملین بتائی جاتی ہے۔ صرف ڈھاکا میں سے گیارہ ملین سے زائد مسلمان عارضی مہاجرتی عمل سے گزرتے ہیں۔ بھارت میں 180 ملین مسلمان آباد ہیں۔ ان کی بھی بڑی آبادی اپنے قریبی رشتہ داروں کی جانب عید منانے جاتی ہے۔

رواں برس افغانستان میں افغان عوام بھی عید کے لیے پرجوش ہیں۔ ایک طرف افغان حکومت کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے تو طالبان قیادت نے بھی عید کے تین ایام پر فائربندی کا فیصلہ کیا ہے۔ سن 2001 کی امریکی فوج کشی کے بعد یہ پہلی عید ہے، جس پر افغان عوام عید کی خوشیوں کا حقیقت میں لطف لے سکتے ہیں۔ دارالحکومت کابل میں خشک میوہ جات کی کمیابی عید کی چھٹیوں سے قبل ہی پیدا ہو چکی ہے۔

 

DW.COM

اشتہار