’عید کل ہو گی‘ کی سائنس اور ’پہلے چاند دیکھو‘ کی روایت | معاشرہ | DW | 23.05.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

’عید کل ہو گی‘ کی سائنس اور ’پہلے چاند دیکھو‘ کی روایت

پاکستان میں چوبیس مئی کے روز عید ہونے کے بارے میں سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر فواد چوہدری کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر اب کی بار بھی چاند کی رویت سے متعلق بحث چھڑ گئی ہے۔

پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے خوش خبری سنائی کہ اس مرتبہ دنیا بھر کے مسلمان ایک ہی دن عید منانے جا رہے ہیں۔

انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں لکھا، ''بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ پوری اسلامی دنیا ایک ہی دن عید منائے، کل ایک طویل عرصے بعد سعودی عرب، ایران، ترکی، ملائیشیا، انڈونیشیا، پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ہی دن یعنی 24 مئی کو عید منائیں گے۔‘‘

فواد چوہدری نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سعودی عرب میں عام طور پر رویت ہلال کے بعد عید کے بارے میں فیصلہ کیا جاتا تھا لیکن اس مرتبہ انہوں نے کورونا وائرس کے باعث رویت کی بجائے اپنے کلینڈر کے مطابق عید منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

دنیا بھر میں ایک ساتھ عید ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے فواد چوہدری نے بتایا کہ مکہ اگر چاند سورج کے غروب ہونے کے ایک منٹ بعد چاند غروب ہو تو نئے مہینے کا اعلان کر دیا جاتا ہے، جب کہ پاکستان میں اڑتیس منٹ بعد غروب ہونے پر ہی نئے قمری ماہ کا اعلان کیا جاتا ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر نے دعویٰ کیا کہ اس مرتبہ سعودی عرب نے اپنا طریقہ کار بدلا جس کے باعث ان کی عید پاکستان مطابق ہو جائے گی۔

فواد چوہدری کے مطابق انہوں نے اپنی تجاویز وزیر اعظم کے دفتر بھجوا دی ہیں اور وزرت مذہبی امور بھی رویت ہلال کمیٹی سے متعلق اپنی تجاویز وزیر اعظم کو بھیج دیں گے، جس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

فواد چوہدری کی پریس کانفرنس کے بعد سوشل میڈیا پر چاند کی رویت کی روایت کے بارے میں ایک مرتبہ پھر سے بحث شروع ہو گئی ہے۔

پاکستانی صحافی سلیم صافی نے ٹوئٹر پر لکھا، '' فواد چوہدری اہم ترین وزیر ہیں اور ظاہر ہے کہ وزیراعظم کی اجازت سے ہی وہ چاند کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ستاروں پر کمند ڈال رہے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک وفاقی وزیر کی طرف سے باقاعدہ پریس اعلان کے بعد کیا سرکاری رویت ہلال کمیٹی یا مفتی پوپلزئی کی کمیٹی کے اجلاس کا کوئی جواز باقی رہتا ہے؟‘‘

دوسری جانب پاکستانی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ عید کا شرعی فیصلہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی ہی کرے گی۔

مقامی میڈیا کے مطابق نور الحق قادری نے اپنے بیان میں کہا، ''فواد چوہدری دوست ہیں لیکن آج کل چاند چاند کھیل رہے ہیں۔ رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے پر عوام اور حکومت عید منائے گی۔‘‘

فواد چوہدری کی حمایت بھی اور مخالفت بھی

پاکستان میں چاند دیکھنے کے لیے قائم کردہ سرکاری رویت ہلال کمیٹی ہی فیصلے کرتی ہے۔ کمیٹی میں مذہبی رہنماؤں کے علاوہ سائنس اور موسمیات کے محکموں کے ارکان بھی شامل ہوتے ہیں۔

گزشتہ برسوں کی طرح اب کی بار بھی سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ کیا چاند دیکھنے کے لیے سائنسی اصول مقدم رکھے جانا چاہییں یا پھر مذہبی رہنماؤں کا روایتی طریقہ کار ہی اس ضمن میں حتمی ہونا چاہیے۔

سوشل میڈیا پر اب کی بار بھی صارفین کی رائے منقسم دکھائی دے رہی ہے۔

حمزہ نامی ایک صارف نے فواد چوہدری کی حمایت کرتے ہوئے لکھا، ''جدید دور میں ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہیے، جس سے رویت صحیح ثابت ہو۔ ہم فواد چوہدری صاحب کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘

اس اعلان کے خلاف زیادہ تر رد عمل مذہبی رجحان رکھنے والے صارفین کی جانب سے سامنے آیا۔ کئی صارفین نے انہیں مذہبی معاملات سے دور رہنے کی تلقین کی۔ تاہم زیادہ تر ٹوئیٹس میں نامناسب الفاظ کا استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے اس رپورٹ میں ان کا ذکر ممکن نہیں۔

زوہیب نامی ایک صارف نے لکھا، '' فواد چودھری نے رویت ہلال کمیٹی کو ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔ محترم فواد صاحب، خدارا لبرلز والی سوچ کو یہاں نہ پھیلائیں۔ روہت ہلال کمیٹی بھی حکومت کے ماتحت ہے اور آپ بھی حکومت کا حصہ ہیں۔ مل بیٹھیں اور کوئی مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔ فتنے سے اجتناب کریں۔‘‘