1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار
اشتہار
اشتہار

حالات حاضرہ

عالمی خبریں | 07.05.2021 | 07:00

کورونا بحران: بھارت ميں ايک ہفتے ميں ڈيڑھ کروڑ نئے کيسز

بھارت ميں گزشتہ چوبيس گھنٹوں کے دوران کورونا کے 414,188 نئے کيسز کی تصديق ہوئی، جس کے بعد پچھلے ايک ہفتے ميں سامنے آنے والے نئے کيسز کی مجموعی تعداد ڈيڑھ ملين سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس ملک ميں متاثرين کی تعداد اب تقريباً ڈھائی کروڑ ہو گئی ہے۔ جمعے کو ملک بھر ميں 3,915 اموات بھی ريکارڈ کی گئيں، جس کے بعد ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 234,083 ہو گئی ہے۔ طبی ماہرين کا البتہ کہنا ہے کہ متاثرين اور ہلاک شدگان کی حقيقی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے دس گنا تک زائد ہو سکتی ہے۔ دريں اثناء بيرونی ممالک سے امداد کی آمد جاری ہے۔ جمعے کو پولينڈ، ہالينڈ اور سوئٹزرلينڈ سے امدادی ساز و سامان کی تازہ کھيپ بھارت پہنچی۔

اسرائيل آباد کاری کی پاليسی ترک کرے، يورپی قوتيں

يورپی ممالک نے اسرائيل پر زور ديا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے ميں يہودی آباد کاری کا عمل روک ديا جائے۔ فرانس، برطانيہ، جرمنی، اٹلی اور اسپين کی جانب سے جمعرات کی شب اس سلسلے ميں ايک مشترکہ بيان جاری کيا گيا جس ميں ہر ہوما ای نامی علاقے ميں قريب ساڑھے پانچ سو مکانات کی تعمير کے منصوبے کو ترک کرنے سميت آباد کاری کی پاليسی سے پيچھے ہٹنے کا مطالبہ کيا گيا ہے۔ يورپی قوتوں نے يہ بيان مشرقی يروشلم ميں بڑھتی ہوئی کشيدگی کے تناظر ميں ديا ہے۔ ان دنوں اس علاقے ميں ايک کيس کی سماعت جاری ہے، جس ميں امکان ہے کہ شيخ جرہ نامی علاقے سے فلسطينی خاندانوں کو بے دخل کر ديا جائے۔

ويانا ميں ايران اور امريکا کے مابين بالواسطہ مذاکرات کا تازہ دور

ويانا ميں آج سے ايران اور امريکا کے مابين بالواسطہ مذاکرات کا تازہ دور شروع ہو رہا ہے۔ امريکی محکمہ خارجہ کے ايک اہلکار کے مطابق ايرانی جوہری ڈيل کو بچانے کے ليے جو رعايات دی جانی ہيں، انہيں طے کر لیا گيا ہے۔ ويانا ميں امريکی و ايرانی نمائندگان کی بالواسطہ بات چيت کا يہ چوتھا دور ہے۔ ايران پر اصرار ہے کہ اس پر عائد تمام پابندياں ختم کی جائيں اور فی الحال اس کی جانب سے ايسا کوئی اشارہ نہيں سامنے آيا کہ وہ کسی ڈيل کو حتمی شکل دينے کا خواہاں ہے۔ اب چوتھے دور سے قبل واشنگٹن نے بھی عنديا ديا ہے کہ مزيد رعايات کی توقع نہ کی جائے اور يہ کہ جوہری ڈيل کو بچانا يا نہ بچانا اب تہران کے ہاتھوں ميں ہے۔

سابق صدر محمد نشید پر مبینہ قاتلانہ حملہ

بحر ہند میں واقع جزیرہ رياست مالدیپ کے دارالحکومت مالے میں جمعرات کی شام ترپن سالہ سابق صدر محمد نشید پر مبینہ طور پر ناکام قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ نشید اپنی کار میں سوار ہو رہے تھے کہ قریب ہی کھڑی ایک موٹر سائیکل میں نصب بم پھٹ گیا۔ نشيد اس دھماکے ميں زخمی ہوئے ہيں اور ان کا ايک مقامی ہسپتال ميں علاج جاری ہے۔ حکام نے بتايا ہے کہ ان کے زخموں کی نوعيت سنجيدہ نہيں۔ وزیر خارجہ عبداللہ شاہد نے محمد نشید پر حملے کی مذمت کی ہے۔ حکمران اور سياست دان اسے ’جمہوريت پر حملہ‘ قرار دے رہے ہيں۔ نشید اس وقت پارلیمان کے اسپیکر ہیں۔ وہ اس عہدے پر مئی 2019 میں فائز ہوئے تھے۔

امريکی فوجيوں کی حفاظت کے ليے اضافی جنگی طيارے تعينات

امريکا نے افغانستان سے واپس آنے والے اپنے اور ديگر غير ملکی فوجيوں اور عسکری ساز و سامان کی حفاظت يقينی بنانے کے ليے مزيد جنگی طيارے طلب کر ليے ہيں۔ دور سے ہدف کو نشانہ بنانے والے چھ بی باون طيارے اور بارہ ايف اٹھارہ لڑاکا طيارے تعينات کيے گئے ہيں۔ پينٹاگون کے سربراہ مارک ملی نے بتايا کہ طالبان يوميہ بنيادوں پر 80 سے 120 حملے کر رہے ہيں، جن کا ہدف افغان حکومت کی تنصيبات ہيں۔ وزير دفاع لائیڈ آسٹن کے بقول اب تک غير ملکی افواج پر براہ راست کوئی حملہ نہيں کيا گيا۔ نيٹو اور امريکا کے فوجی دستے اس سال ستمبر تک افغانستان کی سرزمين چھوڑ ديں گے۔ آسٹن نے گزشتہ روز اپنی بريفنگ ميں بتايا کہ انخلاء کا عمل ايک ہفتے سے جاری ہے۔

پرتگال ميں دو روزہ يورپی سمٹ شروع

پرتگال ميں آج سے يورپی يونين کے رہنماؤں اور سفارت کاروں کا دو روزہ اجلاس شروع ہو رہا ہے۔ يہ ان کی اس سال آمنے سامنے پہلی ملاقات ہے۔ پہلے دن وبا کے دور ميں بگڑے ہوئے تعلقات بہتر بنانے سميت سماجی بہبود اور روزگار کے مواقع پر بات ہو رہی ہے۔ اس کانفرنس ميں ويڈيو کانفرنس کے ذريعے بھارتی وزير اعظم نريندر مودی سے بھی بات کی جائے گی جن کا ملک اس وقت ايک بحران سے گزر رہا ہے۔ مودی سے موسمياتی تبديليوں اور تجارت پر بھی تبادلہ خيال کيا جانا ہے اور يہ پہلا موقع ہے کہ بھارتی وزير اعظم اس طرح يورپی سمٹ کا حصہ بن رہے ہيں۔

مراکش اور جرمنی کے تعلقات کشیدہ

مراکش نے جرمنی پر متنازعہ مغربی صحارا خطے کے حوالے سے ’منفی موقف‘ اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے برلن میں اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔ جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مراکش کے اس فیصلے سے ’حیرت زدہ‘ ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران مراکش اور جرمنی کے تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں۔ مراکش کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا گيا ہے کہ جرمنی نے مراکشی صحارا کے مسئلے کا تعمیری حل تلاش کرنے سے خود کو الگ کر لیا اور منفی رویہ اپنايا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دسمبر میں مغربی صحارا علاقے پر مراکش کی خود مختاری کو تسلیم کر لیا تھا۔ تاہم جرمنی نے اس معاملے پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا بند کمرے میں اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مراکش کو اس بات سے ناراضی ہے کہ جرمنی متنازع خطے کے حوالے سے امریکی فیصلے کی مخالفت کیوں کر رہا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 05:36
ویڈیو دیکھیے 04:49
آڈیو سنیے 04:00
اشتہار

ڈی ڈبلیو پکچر گیلری

ڈی ڈبلیو ویڈیو