1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار
اشتہار
اشتہار
چینی صدر شی جن پنگ

چین کے صدر شی جن پنگ نے غربت کے خلاف ’کامیابی‘ حاصل کرلی

Deutschland Berlin | Razzia, Zusammenhang Verbot der Jihad-salafistischen Vereinigung Jama'atu

برلن: انتہا پسند مسلم تنظیموں پر پابندی عائد

Kaschmir | Indien | Pakistan | Grenze | Chakothi

پاک بھارت افواج کا جنگ بندی پراتفاق: مبصرین کا محتاط رد عمل

Myanmar Kunstszene Punkmusik

فیس بک نے میانمار کی فوج سے مربوط تمام اکاؤنٹ بند کر دیے

FATF Treffen 2018 Sitzung

ایف اے ٹی ایف کا فیصلہ: ماہرین اور حکومت کو مایوسی

فواد چوہدری، بائیں، پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ

’لاپتا افراد کی تعداد چھ ماہ بعد صفر ہو گی،‘ فواد چوہدری

معاشرہ
دستک

اہم عالمی خبریں | 25.02.2021 | 10:02

برلن میں انتہاپسند گروہ کے خلاف چھاپے

جرمن دارالحکومت برلن اور اس کے مضافاتی علاقے برانڈنبرگ میں پولیس نے انتہا پسند مسلمانوں کے ایک گروہ کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے ہیں۔ اس شدت پسند گروہ کا نام ’جماعة برلن‘ بتایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس گروہ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مقامی اخبار ٹاگس اشپیگل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ گروہ شدت پسند تنظیم داعش کی حمایت کرتا ہے اور یہودیوں کے قتل کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس گروہ کے ممبران کی آپس میں واقفیت ایک ایسی مسجد میں ہوئی جو اب بند ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ برلن کے برائٹ شائڈٹ پلاٹز پر سن 2016 میں دہشت گردانہ حملہ کرنے والے انیس عامری کی بھی اسی مسجد سے وابستگی کی اطلاعات ہیں۔

فوجی بغاوت کا خطرہ ہے، آرمینیا کے وزیراعظم

آرمینیا کی فوج کی جانب سے ملکی وزیراعظم نکول پَشنیان سے استعفی کا مطالبہ کرنے کے بعد وزیراعظم نے اپنے خلاف فوجی بغاوت کی کوشش سے خبردار کیا ہے۔ وزیراعظم پَشنیان نے فیس بک پر قوم سے براہ راست خطاب میں کہا کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسے ’فوجی بغاوت‘ سمجھتے ہیں۔ گزشتہ برس آرمینیا اور آذربائیجا ن کے درمیان نگورنو کاراباخ خطے میں تنازعہ کے خاتمے کے بعد سے پَشنیان کو احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق وہ اس تنازعہ سے مؤثر طریقے سے نمٹ نہیں سکے تھے لہٰذا ان کو اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ وزیراعظم پَشنیان نے اپنے خطاب میں استعفی دینے سے انکار کرتے ہوئے مسلح افواج کے سربراہ کو برخاست کردیا اور کہا کہ جلد ہی متبادل کا اعلان کیا جائے گا۔

بھارت میں یکم مارچ سے عام شہریوں کے لیے کووڈ ویکسینیشن کا آغاز

بھارت میں یکم مارچ سے عام شہریوں کے لیے ویکسینیشن کا مرحلہ شروع کیا جارہا ہے۔ پہلے مرحلے میں ایک کروڑ سے زائد فرنٹ لائن ورکرز کی کووڈ ویکسینیشن کے بعد اب ساٹھ برس سے زیادہ عمر کے افراد اور کسی مرض میں مبتلا 45 برس سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ویکسین لگائی جائیں گی۔ اطلاعات کے مطابق تقریبا ً دس ہزار سرکاری ہسپتالوں میں مفت ٹیکے لگانے کا انتظام کیا گیا ہے جبکہ اس سے دوگنا زیادہ تعداد میں لوگ پرائیوٹ ہسپتالوں میں ٹیکے لگوا سکیں گے جہاں انہیں اس ویکسین کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ بھارت میں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 56 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ متاثرین کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ سے زیادہ ہے۔

ایک جرمن شہری پر پارلیمان کا ڈیٹا روسی خفیہ اداروں تک پہنچانے کا الزام

جرمنی میں ایک شہری پر وفاقی پارلیمان کی معلومات روسی خفیہ اداروں کو فراہم کرنے پر جاسوسی کی فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔ وفاقی دفتر استغاثہ کے مطابق ملزم نے روسی انٹیلیجنس کو یہ معلومات تین سال پہلے دینا شروع کی تھیں۔ برلن میں دفتر استغاثہ نے بتایا کہ اس مشتبہ ملزم کا نام ژینس ایف ہے اور وہ ایک ایسی کمپنی کے لیے کام کرتا تھا، جسے وفاقی جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں یا بنڈس ٹاگ کی عمارت میں الیکٹرانک تنصیبات کی معمول کی نگرانی اور دیکھ بھال کا کام سونپا گیا تھا۔

کورونا کے خلاف بائیو این ٹیک ویکسین کی اعلٰی افادیت کی تصدیق

اسرائیل میں ہونے والے ایک جامع مطالعے کے بعد امریکا اور جرمن کمپنی کی مشترکہ طور پر تیار کردہ کووڈ ویکسین کی اعلٰی افادیت کی تصدیق کی گئی ہے۔ امریکی طبی جریدے ’نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن‘ کے مطابق اس مطالعے کے لیے بارہ لاکھ افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے بعد یہ تصدیق کی گئی کہ جرمن دواساز کمپنی بائیواین ٹیک اور امریکی کمپنی فائزر کے اشتراک سے تیار کی گئی ویکسین کووڈ انیس کی مہلک بیماری کا 94 فیصد تک مقابلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ اسرائیل میں یہ طبی مطالعہ بیس دسمبر سے یکم فروری کے دوران کیا گیا۔ اس دوران وہاں برطانیہ میں جنم لینے والی کورونا وائرس کی نئی قسم بھی پھیلنا شروع ہوچکی تھی۔

پاکستان اور بھارتی افواج لائن آف کنٹرول پر فائربندی پر رضامند

پاکستان اور بھارتی افواج کشمیر کی متنازعہ سرحد پر فائرنگ بند کرنے پر راضی ہوگئے ہیں۔ آج جمعرات کو دونوں ممالک کے فوجی آپریشنل سربراہان نے فون پر بات چیت کرتے ہوئے سرحد پر فائربندی پر رضامندی پر اتفاق کیا۔ کشمیر کے متنازعہ سرحدی علاقے میں حالیہ مہینوں میں اس طرح کی فائرنگ کا تبادلہ اکثر ہوتا رہا ہے۔ ایک مشترکہ بیان میں مزید بتایا گیا کہ دونوں ممالک کے فوجی آپریشنل سربراہوں نے ٹیلیفون پر گفتگو میں ایک دوسرے کے اُن خدشات پر تبادلہ خیال کرنے پر بھی اتفاق کیا جو امن کو خراب کر سکتے ہیں اور جو ہمالیہ کے خطے میں تشدد کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

افغانستان میں جرمن فوجی مشن کی مدت میں ایک سال تک توسیع

جرمن حکومت افغانستان میں اپنے فوجی مشن کی مدت کو سن 2022 تک توسیع دینے پر رضامند ہوگئی ہے۔ حکومتی کابینہ کی جانب سے کیے گئے اس فیصلے کے بعد اب بُنڈس ٹاگ یعنی ایوانِ زیریں کی منظوری کی ضرورت ہوگی۔ جرمن افواج کی افغانستان میں قیام کی مدت رواں برس مارچ کے آخر میں ختم ہو رہی تھی۔ چانسلر انگیلا میرکل کی کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے نئے مسودے کے تحت جرمن فوج جنگ زدہ ملک میں 31 جنوری 2022 تک رہ سکے گی۔ افغانستان میں اس وقت گیارہ سو سے زیادہ جرمن فوجی موجود ہیں جو وہاں امریکی فوجیو ں کے بعد دوسری سب سے زیادہ تعداد ہے۔

بائیڈن نے گرین کارڈ پر ٹرمپ کی عائد کردہ پابندیاں ختم کردیں

امریکی صدر جو بائیڈن نے گرین کارڈ کے بہت سے درخواست گزاروں کی امریکا میں داخلے کے حوالے سے ممانعت کی پابندی ختم کردی ہے۔ یہ پابندیاں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس نافذ کی تھی۔ بائیڈن نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس پابندی سے امریکا کو ہی نقصان پہنچ رہا ہے کیونکہ اس پابندی سے قانون کے مطابق امریکا میں ہجرت کرنے والے افراد کا داخلہ رک گیا تھا۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ پابندی گزشتہ برس اپریل میں یہ کہتے ہوئے عائد کی تھی کہ کورونا وائرس کی وبا کے دور میں بڑھتی بے روزگاری پر قابو پانے کے لیے امریکیو ں کے لیے روزگار کا تحفظ ضروری ہے۔ ٹرمپ کے اِس فیصلے سے تقریبا ًایک لاکھ بیس ہزار ایسے خاندان متاثر ہوئے جنہیں ترجیحی بنیادوں پر ویزا حاصل کرنے کا قانونی حق حاصل تھا۔

یورپی یونین کا سربراہی اجلاس، کورونا پابندیاں ختم نہ کرنے پر غور

یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں کورونا وائرس سے منسلک عوامی پابندیاں ختم کرنے کے خلاف ممکنہ طور پر خبردار کیا جائے گا۔ ای یو کے رکن ممالک کے سربراہان مملکت آج جمعرات کو ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں کورونا وائرس کی نئی قسم کے پھیلاؤ کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سربراہی اجلاس کے اعلامیے کے مسودے میں موجودہ صورت حال کو ’سنگین‘ قرار دیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران تمام رکن ممالک کے سیاسی رہنما یورپی بلاک میں سفری پابندیوں پر بھی بات چیت کریں گے۔

میانمار کی فوج سے وابستہ فیس بک اکاؤنٹس پر پابندی

فیس بک نے میانمار کی فوج سے منسلک تمام اکاؤنٹس پر پابندی عائد کردی ہے۔ سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ نے یہ فیصلہ میانمار میں یکم فروری کی فوجی بغاوت کے بعد وہاں مظاہرین پر تشدد کے نتیجے میں کیا ہے۔ فیس بک کے مطابق میانمار فوج سے وابستہ اکاؤنٹس کے ساتھ ساتھ ملٹری کے زیر کنٹرول میڈیا اکاؤنٹس کو بھی یہ پلیٹ فارم استعمال کرنے سے فوری طور پر روک دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پابندی میں فوجی حمایت یافتہ کمپنیوں کے فیس بک اشتہارات اور انسٹاگرام اکاؤنٹس بھی شامل ہیں۔ قبل ازیں فیس بک میانمار ملٹری سے منسلک پیچز کو بھی بلاک کرچکا ہے۔

چین امریکا کا انتہائی سخت حریف ہے، سی آئی اے کے نامزد ڈائریکٹر

امریکی خفیہ ادارے سی آئے اے کے نامزد ڈائریکٹر وِلیم بَرنز مستقبل میں امریکا کے چین کے ساتھ معاملات کو خاص اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں۔ برنز نے امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کی سماعت کے دوران کہا کہ آنے والی دہائیوں میں چین کے ساتھ معاملات امریکی سلامتی کے لیے بہت اہم ہوں گے۔ امریکی سفارت کار ولیم برنز سی آئی اے کو سیاسی اثر و رسوخ سے بھی آزاد رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول، ’’سیاست کو وہاں رک جانا چاہیے جہاں سے انٹیلیجنس سروسز کا آغاز ہوتا ہے۔‘‘ ولیم برنز سابق صدر باراک اوباما کے دور حکومت میں نائب وزیر خارجہ کے عہدے پر فائض رہ چکے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 03:05

مزید ویڈیوز

دھوبی اور دھوبی گھاٹ، جو اپنا وجود کھو رہے ہیں

دھوبی اور دھوبی گھاٹ، جو اپنا وجود کھو رہے ہیں

ماحول دوست شمسی چولہے، جن کی تیاری بھی آسان

ماحول دوست شمسی چولہے، جن کی تیاری بھی آسان

ترکی میں موجود ایغور مسلمان، چین بدر کیے جانے کے خوف میں

ترکی میں موجود ایغور مسلمان، چین بدر کیے جانے کے خوف میں

دنيا بھر ميں ٹاپ کرنے والی پاکستانی طالبہ

دنيا بھر ميں ٹاپ کرنے والی پاکستانی طالبہ

اشتہار
آڈیو سنیے 04:00

ڈی ڈبلیو پکچر گیلری

ڈی ڈبلیو ویڈیو