ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار
اشتہار
اشتہار

حالات حاضرہ

عالمی خبریں | 13.05.2022 | 05:00

ساٹھ لاکھ یوکرینی ملک چھوڑ چکے ہیں

اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے 60 لاکھ سے زائد افراد یوکرین سے انخلاء کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان ماتھیو سالٹمارش کے مطابق کل چوبیس لاکھ افراد یوکرین کے سرحدی ممالک سے آگے دیگر ممالک میں جا چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ قریب سولہ لاکھ افراد یا تو عارضی یا مستقل بنیادوں پر یوکرین واپس پہنچ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ یہ اعدادوشمار سرحد پر لوگوں کی آمدورفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ آیا یوکرینی عوام مستقل بنیاد پر وطن واپس آ رہی ہے۔

پاکستان گرمی کی شدید لہر کے لیے تیار

پاکستان کا جنوبی صوبہ سندھ ہائی الرٹ پر ہے۔ جنوبی ایشائی ملک پاکستان میں شدید گرمی کی لہر متوقع ہے۔ خدشہ ہے درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا۔ سندھ حکومت نے بندرگاہی شہر کراچی میں درجنوں ایسے سینٹرز کے قیام کا حکم دے دیا ہے جو عوام کی مدد کے لیے تیار ہوں گے۔ ایک حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ خاص طور پر کراچی میں ہوا میں نمی اور تیز طوفان یا ’ٹروپیکل ڈپریشن‘ کے باعث گرمی کی لہر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے افسر سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گرمی کی یہ لہر اگلے ہفتے منگل تک جاری رہ سکتی ہے۔

’ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی معاہدے پر پہنچا جا سکتا ہے‘، یورپی یونین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین کسی معاہدے تک پہنچنے کے حوالے سے پرامید ہیں۔ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان بات چیت کا عمل اس وقت رک گیا جب ایران کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکہ ایرانی فورس پاسدارن انقلاب کو دہشت گردانہ تنظیم قرار دینے کا حکم واپس لے۔ جرمنی میں گروپ آف سیون اکانمیزکی ملاقات کے موقع پر جوزیف بوریل کا کہنا تھا کہ اس ہفتے ایک یورپی اہلکار نے تہران کا دورہ کیا۔ اس دورے میں توقع سے بہتر نتائج حاصل ہوئے۔

یوکرین: روسی فوجی کے خلاف جنگی جرائم کا کیس شروع

یوکرین میں ایک روسی فوجی کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات کے تحت مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔ یوکرین پر روسی حملے کے بعد جنگی جرائم کا پہلا کیس ہے۔ جمعے کو کییف میں عدالتی کمرے میں درجنوں صحافی موجود تھے۔ سماعت کے دوران مشتبہ روسی فوجی کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ اکیس سالہ سارجنٹ وادیم شیشہی مارین پو 62 سالہ یوکرینی شہری کے سرمیں گولی مارنے کا الزام ہے۔ جرم ثابت ہونے پر روسی فوجی کو عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ سارجنٹ وادیم ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ انہیں اس یوکرینی شہری کو گولی مارنے کا حکم دیا گیا تھا۔

روس کے ممکنہ جنگی جرائم کے باعث ایک ہزار افراد ہلاک، یو این اہلکار

اقوام متحدہ کی کمشنر برائے انسانی حقوق میشیل بیشیلٹ کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں یوکرینی دارالحکومت کییف کے قریب ایک ہزار لاشیں ملی ہیں۔ بیشیلٹ نے کہا کہ بہت سے ہلاک افراد روس کے ممکنہ جنگی جرائم کا نشانہ ہو سکتے ہیں۔ ویڈیو لنک کے ذریعے بیشیلٹ نے جنیوا میں قائم ہیومن رائٹس کونسل کو بتایا کہ یہ غیر قانونی ہلاکتیں انتہائی حیرت ناک ہیں۔ کونسل یہ فیصلہ کرے گی کہ اس سال فروری اور مارچ میں کییف اور یوکرین کے دیگر علاقوں میں رونما ہونے والے واقعات کی تحقییقات کی جائے یا نہیں۔ روس نے یوکرین کے خلاف اپنی فوجی کارروائی میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تردید کی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین سے اسلحوں کا خاتمہ چاہتا ہے۔

بھارتی کشمیرمیں سرکاری ملازم کشمیری پنڈت کے قتل کے خلاف احتجاج

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے کئی حصوں میں گزشتہ رات سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں کشمیری پنڈت برادری سے تعلق رکھنے والے ایک 36 سالہ سرکاری ملازم کو رات کے وقت قتل کر دیا کیا گیا تھا۔ مظاہرین حکومت سے وادی میں کام کرنے والے پنڈت ملازمین کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ قتل کے بعد پنڈت کمیونٹی کے ارکان اپنے ٹرانزٹ کیمپوں سے باہر نکل آئے اور سڑکوں کو جام کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مرکز کی مودی حکومت اور حکمران جماعت بی جے پی کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔ بھارتی کشمیر گزشتہ تقریبا تین برسوں سے مودی کی مرکزی حکومت کے زیر انتظام ہے۔ یہاں سخت سکیورٹی حصار ہے اور تمام طرح کی سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی مظاہروں پر پابندیاں عائد ہیں۔

فن لینڈ نیٹو اتحاد کا رکن بننا چاہتا ہے

فن لینڈ کے صدر اور وزیر اعظم نے روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے ردعمل میں عسکری اتحاد نیٹو میں شامل ہونے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہیلسنکی بنا کسی تعطل کے نیٹو کی رکنیت کی درخواست دے گا اور فن لینڈ کی شمولیت سے نیٹو مزید مضبوط ہو گا۔ ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ جلد یہ درخواست دے دیں گے۔ فن لینڈ کی روس کے ساتھ تیرہ سو کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ فن لینڈ میں چھہتر فیصد عوام نیٹو میں شمولیت کے حق میں ہیں۔ ہیلسنکی کے اس اعلان سے متعلق روسی ترجمان دیمیتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ روس کے لیے ایک خطرہ ہے جس سے یورپ مزید غیر مستحکم ہوگا۔

یورپ: انسانی اسمگلرز گرفتار

یورپی پولیس نے انسانی اسمگلنگ کے شبے میں 205 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ گرفتاریاں پانچ وسطی اور مشرقی یورپی ممالک میں ہوئی ہیں۔ آسٹریا کی پولیس نے بانوے مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا ہے۔ آسٹریا کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ حالیہ گرفتاریاں اسمگلر مافیا کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ یہ گروپ چھتیس ہزار سے زائد مہاجرین کی اسمگلنگ میں ملوث ہے۔ ان میں سے زیادہ تر مہاجرین کا تعلق شام سے ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ گروپ مہاجرین کو ہنگری سے ویانا تک پہنچانے کے لیے ہر مہاجر سے تین سے پانچ ہزار یورو وصول کرتا تھا۔ تفتیش کاروں کے مطابق اس گروپ نے مجرمانہ سرگرمیوں کے تحت ایک سو پچاس ملین یورو سے زیادہ رقم کمائی۔

مہندا راجاپاکسے ملک چھوڑ کر نہیں جا سکتے، سری لنکن عدالت

سری لنکا میں ایک عدالت نے سابق وزیر اعظم مہندا راجاپاکسے اور ان کے قریبی اتحادیوں کے ملک چھوڑنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس ہفتے حکومت مخالف مظاہرین اور راجاپاکسے کے حمایتیوں کے مابین تصادم کے بعد سابق وزیراعظم نے اسی ہفتے پیر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ سری لنکا شدید اقتصادی بحران کا شکار ہے اور کئی ہفتوں سے ملک گیر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ عدالت کی جانب سے مہندا راجاپاکسے ان کے بیٹے نمل اور پندرہ قانون سازوں کو کہا گیا ہے کہ وہ ملک نہیں چھوڑ سکتے۔ عدالت کی جانب سے پولیس کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ حکومت مخالف مظاہرین پر حملوں کی شفاف تحقیقیات کرے۔ ان پر تشدد واقعات میں دو سو پچیس افراد کو ہسپتال جانا پڑا تھا۔

کووڈ انیس ویکسین بنانے والی پہلی افریقی کمپنی کو کوئی آرڈر نہ مل سکا

افریقہ میں کووڈ انیس ویکسین بنانے والی پہلی کمپنی کو ابھی تک کوئی آرڈر موصول نہیں ہوا ہے۔ جنوبی افریقہ کی کمپنی ایسپن فارماکیئر نے اعلان کیا ہے کہ وہ آرڈرز نہ ملنے کے باعث کووڈ انیس ویکسین بنانا بند کر رہی ہے تاہم اینیستھیٹکس ادویات کی پڑودکشن جاری رہے گی۔ براعظم افریقہ میں کووڈ انیس کی ویکسین کی تیاری کو عالمی سطح پر سراہا گیا تھا۔ اس کمپنی کا کہنا ہے کہ کوویکس کی جانب سے دو اعشاریہ ایک ارب خوراکوں کا آرڈر تو دیا گیا تھا لیکن یہ آرڈر نہ تو ایسپن کمپنی کو ملا اور نہ ہی کسی اور افریقی کمپنی کو۔

ویڈیو دیکھیے 03:08
ویڈیو دیکھیے 02:16
آڈیو سنیے 04:00
اشتہار

ڈی ڈبلیو پکچر گیلری

ڈی ڈبلیو ویڈیو