عمران خان کے دورہ امریکا سے قبل مدارس میں اصلاحات پر اتفاق | حالات حاضرہ | DW | 20.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

عمران خان کے دورہ امریکا سے قبل مدارس میں اصلاحات پر اتفاق

پاکستانی حکام کے مطابق علما اور حکومت مدارس میں اصلاحات لانے پر متفق ہو گئے ہیں۔ اصلاحات کے ذریعے مدارس میں نفرت انگیزی اور انتہا پسندانہ سوچ کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

پاکستانی مدارس میں اصلاحات لانے کا فیصلہ ملکی وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکا سے قبل کیا گیا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پیر بائیس جولائی کے روز ملاقات کر رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ اسلام آباد حکومت سے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کا مسلسل مطالبہ کرتی رہی ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود کے مطابق مدارس میں اصلاحات لانے کے لیے حکومت ملک بھر میں موجود تیس ہزار سے زائد مدارس کو رجسٹر کرے گی۔ دینی مدارس میں انگریزی، ریاضی اور سائنس جیسے مضامین بھی پڑھائے جائیں گے۔ شفقت محمود کے مطابق اصلاحات کا عمل فوری طور پر شروع کر دیا جائے گا۔

پاکستان میں قائم ہزاروں مذہبی مدارس پر شدت پسندی اور نفرت انگیزی کو فروغ دینے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا، ''کسی بھی مذہب یا فرقے کے خلاف نفرت کی تعلیم نہیں دی جائے گی۔ ہم ان کے نصاب کا جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ مذہبی منافرت پر مبنی کوئی چیز نہ ہو۔‘‘

پاکستان نے سن 2014 میں آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کے بعد ایسے مدارس کے خلاف کارروائی شروع کی تھی جن پر شدت پسندی کو فروغ دینے کا شبہ تھا۔ تاہم مذہبی حلقوں کی جانب سے ان کارروائیوں کے خلاف ردِ عمل سامنے آیا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 03:48

پشاور کے وسط میں مسجد اور گرجا گھر ساتھ ساتھ

ش ح / ع س، نيوز ايجنسياں

Audios and videos on the topic