عمران خان کا پہلا اور ’تاریخی‘ دورہ افغانستان | حالات حاضرہ | DW | 19.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

عمران خان کا پہلا اور ’تاریخی‘ دورہ افغانستان

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اپنے پہلے دورے پر کابل پہنچے جہاں انہوں نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں جاری امن مذاکرات اور باہمی اعتماد سازی پر گفتگو کی۔

افغان صدر اشرف غنی نے عمران خان کی کابل آمد کو ايک تاریخی موقع قرار دیا جب کہ عمران خان نے انہیں یقین دلایا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے 'تمام ممکنہ‘ اقدامات کرے گا۔

دونوں رہنماؤں نے افغان صدارتی محل میں ملاقات کے بعد مختصر تقاریر کیں۔ افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ عمران خان 'اہم پیغامات لے کر آئے ہیں جن کا تذکرہ وہ خود کریں گے لیکن سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ تشدد کوئی جواب نہیں‘۔

عمران خان نے کیا کہا؟

وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد عمران خان پہلی مرتبہ پڑوسی ملک کے دورے پر گئے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ ذاتی طور پر بھی پہلی مرتبہ کابل پہنچے ہیں۔

اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا، ''میں کم از کم پچاس برس سے افغانستان اور کابل آنے کا منصوبہ بناتا رہا ہوں لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ میں خوش ہوں کہ آپ نے دعوت دی اور مجھے يہ تاریخی دورہ کرنے کا موقع ملا۔‘‘

عمران خان نے اپنی گفتگو کی شروعات ہی میں بتایا کہ وہ 'افغانستان کی تاریخ کے بارے میں سب کچھ‘ جانتے ہیں۔

ماضی میں دونوں ممالک کے شہریوں کے باہمی تعلقات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا، ''ساٹھ اور ستر کی دہائی میں پاکستانیوں کا سیاحت کے لیے پسندیدہ مقام کابل تھا اور افغانستان سے بہت سے لوگ پشاور جایا کرتے تھے۔ ہمارے تاریخی روابط اور تعلقات ہیں۔‘‘

پہلے دورے کے لیے وقت کا انتخاب

پاکستانی وزیر اعظم کا یہ دورہ امریکی حکومت کے اس اعلان کے محض چند دن بعد عمل میں آیا ہے کہ وہ جنوری کے وسط تک افغانستان میں موجود اپنے فوجیوں کی تعداد  4,500 سے کم کر کے 2,500 کر دے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتطامیہ نے طالبان کے ساتھ اپنے ابتدائی معاہدے میں امریکی افواج کے بتدریج انخلا کی بات کی تھی۔ تاہم تازہ فیصلے کے بعد افغانستان میں تشویش پائی جاتی ہے کہ اس فیصلے سے طالبان اور دیگر شدت پسند جنگجو زیادہ مضبوط ہو سکتے ہیں۔ عمران خان اور اشرف غنی نے اس موضوع پر گفتگو کرنے سے اجتناب کیا۔

دوسری جانب عمران خان کا دورہ ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات بظاہر تعطل کا شکار ہو گئے ہیں اور افغانستان میں تشدد میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

امریکا کا افغانستان اورعراق میں فوجیوں کی تعداد کم کرنے کی تصدیق

وقت کے چناؤ کے بارے میں عمران خان نے کہا، ''ایک ایسے وقت، جب افغانستان میں پر تشدد واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، افغانستان آنے کا مقصد آپ کو یقین دلانا ہے کہ پاکستان کے عوام اور حکومت کو بھی صرف ایک ہی تشویش ہے اور وہ ہے جو آپ یہاں محسوس کر رہے ہیں کہ آپ امن چاہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے عوام چار دہائیوں سے تکلیف میں ہیں۔‘‘

واشنگٹن اور کابل حکومتیں طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے رہے ہیں تاہم پاکستانی وزیر اعظم نے پہلی مرتبہ کھل کر اس بات کا ذکر کیا۔

افغانستان میں جب تک ضروری ہے فوج موجود رہےگی: نیٹو

عمران خان نے کہا، ''پاکستان نے طالبان اور امریکا کے مابین مذاکرات کرانے میں کردار ادا کیا ہے اور بعد میں انٹرا افغان مذاکرات میں بھی کردار ادا کیا۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ مذاکرات کے باوجود افغانستان میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت کا انتخاب کرنے کا مقصد آپ کو یقین دلانا ہے کہ پاکستان تشدد کے واقعات میں کمی لانے اور سیز فائر کرانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 01:32

عمران خان کا اولین دورہ افغانستان

دونوں ممالک نے سلامتی سے متعلق اداروں کے مابین معلومات کے تبادلے کے لیے مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دینے کا اعلان بھی کیا۔

افغانستان میں قیام امن کے بارے میں پاکستان کی سنجیدگی کا تذکرہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا، ''خود افغانستان کے بعد پاکستان وہ ملک ہے جو افغانستان میں امن کی سب سے زيادہ خواہش رکھتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان ميں سابق فاٹا کا علاقہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت زیادہ متاثر ہوا۔ نصف سے زیادہ آبادی ہجرت پر مجبور ہوئی، شہريوں کی زندگياں متاثر ہوئيں اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ ان لوگوں کی يا سرحد کے دونوں طرف کے لوگوں کی مدد کرنے کا سب سے اچھا طریقہ امن، تجارت اور باہمی رابطہ کاری ہے۔ تجارت کے وزرا کے مابین گزشتہ تین روز کے دوران مثبت گفتگو ہوئی ہے اور ہمیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت اور روابط میں اضافہ ہو گا لیکن اس کے لیے امن کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔‘‘