عمران خان نے بھی مودی کو جوابی خط لکھ دیا | حالات حاضرہ | DW | 31.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

عمران خان نے بھی مودی کو جوابی خط لکھ دیا

اطلاعات کے مطابق بھارت اور پاکستان کے درمیان تجارتی روابط بحال کرنے کے سلسلے میں آج اسلام آباد میں ایک اہم میٹنگ ہو رہی ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے خط کا جواب بھیج دیا ہے،  جس میں انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان امن و دوستی کے لیے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب امور کے حل پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام پڑوسی ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے 23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر عمراں خان کے نام ایک خط میں انہیں مبارک باد پیش کرتے ہوئے پاکستان سے بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔  عمران خان نے اسی خط کا جواب بھیجاہے۔

خط میں کیا ہے؟

عمران خان لکھتے ہیں، ''یوم پاکستان کے موقع پر بھیجے گئے خط کے لیے میں آپ (مودی) کا شکر گزار ہوں۔ یہ دن پاکستانی عوام اپنے ان بانیوں کی بصیرت اور ذہانت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے مناتے ہیں، جنہوں نے ایک ایسی آزاد اور خود مختار ریاست کا خواب دیکھا جہاں لوگ آزادانہ طور پر رہتے ہوئے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لا سکتے ہیں۔'' 

عمران خانے مزید کہا، ''پاکستان کے لوگ بھی بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن باہمی تعاون کے خواہاں ہیں۔ اور ہمیں اس بات پر یقین ہے کہ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن اور استحکام بھارت اور پاکستان کے مابین، خاص طور پر تنازعہ جموں و کشمیر، سمیت تمام تصفیہ طلب امور کے حل سے ہی مشروط ہے۔'' 

عمران خان نے لکھا کہ ایک تعمیری اور،  ''نتیجہ خیز بات چیت کے لیے ایک مثبت اور مناسب ماحول بنا نا بہت ضروری ہے۔ میں اس موقع پر کورونا وائرس کی وبا سے لڑنے میں بھارتی عوام کی جد و جہد کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔''

دوشبنے میں وزراء خارجہ نے ملاقات نہیں کی

ادھر پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ایک بیان میں عمران خان کے اسی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں میں بہتر تعلقات کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل بہت ضروری ہے۔

تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ہونے والی  'ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کے اختتام پر منگل کے روز صحافیوں سے بات چیت میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہیں محسوس ہوا کہ اجلاس کے دوران بھارتی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں ماضی کی برعکس پاکستان پر نکتہ چینی سے گریز کیا۔

ان کا کہنا تھا، ''اب یہ تو بھارت پر منحصر ہے، اگر وہ پانچ اگست(2019) کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتا ہے، تو پاکستان پہلے سے ہی امن کو ترجیح دیتا رہا ہے۔'' ان کا کہنا تھا کہ ایل او سی پر جنگ بندی پر عمل ایک مثبت قدم ہے جس کو کشمیریوں نے بھی سراہا ہے۔ ''اب بھارت کو اس بات پر غور کرنا ہو گا کہ ہمسایوں کے ساتھ اس کا رویہ کیسا ہونا چاہیے۔''

ویڈیو دیکھیے 06:23

نہ ہم یہاں کی رہیں نہ وہاں کی، کشمیر میں پاکستانی دلہنیں

تجارتی روابط بحال کرنے کی کوشش

ادھر بھارتی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر بھی سہ سرخیوں میں ہے کہ پاکستانی حکومت بھارت کے ساتھ تجارتی روابط بحال کرنے کے سلسلے میں  بدھ 31 مارچ کو اسلام آباد میں ایک اہم میٹنگ کرنے والی ہے۔ اطلاعات کے مطابق معاشی امور سے متعق پاکستان کی کابینہ کمیٹی اس میٹنگ میں بھارت سے چینی اور کپاس کی درآمدات کے بارے میں اہم فیصلہ کر سکتی ہے۔

سن 2019 میں اگست کے اوائل میں بھارت نے جب کشمیر کو خصوصی اختیارات دینی والی آئین کی دفعہ 370 کو ختم کیا تھا تو بطور احتجاج پاکستان نے بھارت سے تمام تجارتی و کاروباری روابط منقطع کر لیے تھے۔ اس لیے اگر تجارتی روابط بحال ہوجاتے ہیں تو یہ ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔      

تعلقات کی بحالی کا عمل 

بھارت اور پاکستان کے درمیان گزشتہ تقریباً ڈھائی برسوں کے دوران تعلقات بہت کشیدہ رہے ہیں اور ہر طرح کی باضابطہ بات چیت بھی تعطل کا شکار تھی۔ تاہم امریکا میں اقتدار کی تبدیلی کا اثر یہ ہوا ہے کہ اب ان دونوں ملکوں میں بھی برف پگھلتی ہوئی محسوس ہونے لگی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 04:32

پاک بھارت کشيدگی کی مختصر تاريخ

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران حالات تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں۔ پہلے فریقین نے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے پر عمل کرنے کی بات کہی۔ بھارت نے عمران خان کے جہاز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی اور پھر پاکستان کی ایک نیزہ باز ٹیم ایک بین الاقوامی مقابلے میں شرکت کے لیے بھارت آئی۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے سندھ آبی کمشنروں کی دہلی میں میٹنگ بھی ہوئی۔

 اس کے بعد بھارتی وزیر اعظم مودی نے عمران خان کو خط لکھا اور اس طرح دونوں حریف ممالک کے مابینمثبت اشاروں کا سلسلہ شروع ہوا۔

میڈیا کی خبروں کے مطابق بھارتی صدر رام ناتھ کووند نے بھی اپنے پاکستانی ہم منصب عارف علوی کو تہنیتی خط بھیجا ہے۔ تاہم سرکاری طورپر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

حالیہ دنوں میں بھارت اور پاکستان کے لہجے اور بات چیت سے ایسا واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان تلخیاں پہلے سے کافی کم ہوئی ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے ماضی میں بھارتی رہنماوں کی جانب سے پاکستانی رہنماوں کوخط بھیجنے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے ’لو لیٹر‘ قرار دیا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 03:44

کارگل وار کی کہانی، دراس کے مقامی باشندوں کی زبانی

DW.COM