علی گڑھ مسلم یونیورسٹی: کورونا سے مسلسل اموات پر گہری تشویش | حالات حاضرہ | DW | 11.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی: کورونا سے مسلسل اموات پر گہری تشویش

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کورونا وائرس کے باعث اسٹاف کے درجنوں ارکان کا انتقال ہو چکا ہے۔

برصغیر کے تاریخی تعلیمی ادارے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث گزشتہ صرف چند ہفتوں کے دوران اسٹاف کے درجنوں ارکان کا انتقال ہو چکا ہے۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ صورت حال سے نمٹنے کی کوششیں کر رہی ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں حالیہ ہفتوں کے دوران کووڈ انیس کی وجہ سے تقریباً 75 افراد کی موت ہو چکی ہے، جن میں اساتذہ، سابق اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے افراد سبھی شامل ہیں۔ یونیورسٹی اور اس کے کیمپس کے اطراف میں رہنے والوں کی اتنی بڑی تعداد میں اموات پر کئی طرح کے شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی انتظامیہ اگرچہ اب تک ان اموات کی وجہ 'مختصر علالت‘ بتاتی رہی ہے تاہم پیر دس مئی کو اس جامعہ نے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر تسلیم کیا کہ کووڈ انیس کی وبا کی دوسری لہر کے دوران اس یونیورسٹی کے 'اٹھارہ فیکلٹی ممبران‘ کا انتقال ہو چکا ہے۔

کووڈ انیس کے باعث ہلاک ہونے والے اے ایم یو کے اسٹاف کے ارکان کی اموات کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ پریس بیانات میں جس طرح کے جملوں کا استعمال کیا جا رہا تھا، ان سے یہ تاثر پیدا ہو گیا تھا کہ جیسے یونیورسٹی انتظامیہ کورونا وائرس سے اتنی بڑی تعداد میں اموات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہو۔ یہ شبہ اس لیے بھی پیدا ہو رہا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایسے کم از کم 22 موجودہ اور 23 سابقہ فیکلٹی ممبران کے ناموں کی فہرست گردش کر رہی تھی، جو گزشتہ بیس دنوں کے دوران کووڈ انیس کی وجہ سے چل بسے تھے۔ اسی یونیورسٹی کے غیر تدریسی عملے کے انتقال کر جانے والے 33 ارکان کے ناموں کی فہرست اس کے علاوہ ہے۔

یونیورسٹی کی طرف سے وضاحت

اے ایم یو کے جواہر لال نہرو میڈیکل کالج کے پرنسپل اور چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر شاہد علی صدیقی نے پیر کو ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ ذرائع ابلاغ کے ایک حصے اور سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں ایسی غیر مصدقہ خبریں شائع ہوئی ہیں، جن میں اے ایم یو میں کووڈ 19 کی وجہ سے ہونے والی افسوس ناک اموات کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

اس بیان کے مطابق، ”ملک میں کووڈ انیس کی دوسری لہر کے دوران یونیورسٹی کے 18 اساتذہ کی افسوس ناک موت واقع ہوئی،  جن میں سے 15 اموات کووڈ انیس کے باعث اور تین اموات دماغی تپ دق اور جگر وغیرہ کے امراض سے ہوئیں۔ میڈکل کالج میں گیارہ اموات ہوئی ہیں، جب کہ تین اموات علی گڑھ کے پرائیویٹ ہسپتالوں میں ہوئیں۔ اس کے علاوہ چار اساتذہ کا انتقال علی گڑھ سے باہر ہوا۔"

شبہات برقرار

اے ایم یو نے تاہم غیر تدریسی عملے کی اموات کا کوئی ذ کر نہیں کیا۔ اے ایم یو نان ٹیچنگ اسٹاف کوآرڈینیشن کمیٹی نے گزشتہ دنوں اپنے 17 ارکان کے نام اور تصویریں جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان تمام افراد کی اموات کووڈ انیس کی وجہ سے ہوئیں۔

دوسری طرف آج منگل کے روز متعدد اخبارات میں اے ایم یو کے موجودہ اور سابقہ کارکنوں میں سے 33 غیر تدریسی افراد کے ناموں کی ایک فہرست بھی شائع ہوئی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ہلاکتیں بھی کورونا وائرس کی وجہ سے ہوئیں۔

اے ایم یو کے اسٹاف کے ایک رکن نے اپنا نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ہلاک شدگان کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اسٹاف کے اس رکن کا کہنا تھا، ”یونیورسٹی صرف تدریسی عملے کی اموات پر پریس ریلیز جاری کرتی ہے۔ غیر تدریسی عملے اور یونیورسٹی کے دیگر ملازمین کی اموات کا کوئی ذکر ہی نہیں کرتا۔ اس لیے اموات کی اصل تعداد کا پتا لگانا بہت مشکل ہے۔"

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ماضی میں وابستہ رہنے والے سماجی کارکن ڈاکٹر جسیم محمد کا کہنا تھا کہ اموات کی حقیقی تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے لیکن یونیورسٹی انتظامیہ یہ اصل تعداد بتانا نہیں چاہتی۔ انہوں نے کہا، ”ہو سکتا ہے کہ اب تک سو سے زائد افراد کا انتقال ہو چکا ہو اور اگر حالات بہتر نا ہوئے تو اگلے ایک ماہ کے اندر اندر مزید ایک سو افراد کی جانین جا سکتی ہیں۔‘‘

ہلاکتوں پر گہری تشویش

یونیورسٹی کے وائس چانسلر طارق منصور کے بھائی کی بھی گزشتہ دنوں کووڈ انیس کے باعث موت ہو گئی تھی، جس کے بعد انہوں نے بھارت میں طبی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے والے ادارے انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ کو ایک خط لکھ کر یہ پتا لگانے کی درخواست کی کہ آیا یونیورسٹی اور اس سے ملحقہ علاقے میں کورونا وائرس کی کوئی خاص تبدیل شدہ شکل تو نہیں پھیل چکی؟

انہوں نے اپنے اس خط میں لکھا کہ یونیورسٹی کیمپس اور اس سے ملحقہ علاقوں میں رہائش پذیر افراد کا جتنی بڑی تعداد میں انتقال ہو رہا ہے، ”اس سے اس شبہے کو تقویت ملتی ہے کہ اس علاقے میں کورونا وائرس کی کوئی خاص شکل پھیل رہی ہے۔"

الزامات کا تبادلہ

کووڈ انیس سے ہونے والی اموات میں سے تقریباً ساٹھ فیصد ہلاک شدگان کی عمریں پچاس برس سے زیادہ تھیں جب کہ باقی ماندہ چالیس فیصد کی عمریں تیس سے پچاس برس کے درمیان تھیں۔ ایک پروفیسر نے اپنا نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یوں تو ہر روز کووڈ انیس کے باعث مرنے والے تقریباﹰ سات آٹھ افراد کی تدفین عام سی بات ہے لیکن گزشتہ ہفتے صرف ایک دن میں ہی ایسی 29 میتیں دفن کی گئیں۔

اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر ماذن حسین خان کا کہنا تھا" گزشتہ دس دنوں میں میں تقریبا ً ستر تدفین میں شرکت کرچکا ہوں اور میری طرح دوسرے لوگ بھی ہوں گے جو اتنی زیادہ تدفین میں شریک ہوئے ہوں گے۔ اے ایم یو کیمپس کا قبرستان تقریبا ً بھر چکا ہے۔"

اسٹوڈنٹس یونین کے ایک دوسرے سابق صدر فیض الحسن کا کہنا تھا، ”جب ہم نے ان اموات کا ذکر سوشل میڈیا پر کیا، تو وائس چانسلر نے آئی سی ایم آر کو خط بھیج دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اموات اس لیے ہوئیں کہ یونیورسٹی نے اپنے اساتذہ کو مرنے دیا۔"

دریں اثناء بھارت کے ایک اور اہم تعلیمی ادارے، دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھی اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے ارکان کی کورونا وائرس کی وجہ سے بڑی تعداد میں اموات ہو چکی ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تعلقات عامہ کے ذمے دار اہلکار احمد عظیم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اب تک ایک درجن سے زیادہ افراد کووڈ انیس کی وجہ سے انتقال کر چکے ہیں۔ دیگر ذرائع کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔


ویڈیو دیکھیے 02:07

’’ہمارے دل ٹوٹ رہے ہیں، لیکن ہم اور کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘

DW.COM