عشق و محبت والی انوکھی ہیرو گیری | دستک | DW | 08.12.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

عشق و محبت والی انوکھی ہیرو گیری

ہسپتال میں کام کرنے کا مطلب ہے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں مختلف لوگوں اور ہزاروں مختلف سوچوں سے کا سامنا کرنا۔ ان مختلف سوچوں سے پھوٹنے والی روزانہ کی کشمکش میں آپ خود کو کتنا غیرجانبدار رکھ پاتے ہیں؟

اس غیرجانبداری سے پتا لگتا ہے کہ زندگی کے اس سفر میں بطور انسان آپ کہاں کھڑے ہیں؟ یہ اُن دنوں کی بات ہے، جب میں پروبیشن پیریڈ پر تھی اور ذمہ داری نبھانے کے لیے مجھے کڈنی ٹرانسپلانٹ وارڈ میں بھیجا گیا۔ معمول کی طرح میں اپنا کام کر رہی تھی کہ اچانک ایک نرس کے چیخنے کی آوازیں آئی۔ میں نے آواز پر دھیان دیا تو وہ ایک مسلمان اسٹاف کو ڈانٹ پلاتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ تم نے قرآن پاک کو اس کیبنٹ میں کیسے رکھ دیا، اگر کسی ہندو اسٹاف نے قرآن پاک کو اٹھا کر شہید کر دیا، تو؟

اس دن ایک بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ہمارے سماج میں محبت کی سب سے بڑی جزا ہی نفرت ہے۔ جس محبت میں نفرت کی جزا نہ ہو، اسے ہم محبت سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ جب کبھی ہمیں محبت کا اظہار کرنا پڑ جائے تو اس کے لیے لازم ہے کہ ہم کسی سے نفرت کا اظہار بھی کریں۔

 پاکستان سے محبت کا اظہار کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہندوستان سے نفرت کا اظہار کرو۔ اپنے مسلک سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ دوسرے مسلک سے نفرت کرو۔ ہماری نرس کو بھی قرآن سے محبت تھی، مگر محبت کا یہ راستہ ہندو کی نفرت سے ہو کر گزرتا تھا۔

سیالکوٹ میں جمعے کے روز ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں سری لنکا کے شہری کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا۔ نفرت کا الاؤ اس قدر دہکا ہوا تھا کہ اس کی مسخ شدہ لاش کو جلا بھی دیا گیا۔ اور جلتی ہوئی انسانی جسم اور روح کے ساتھ سیلفیاں اس طرح لی گئیں، جیسے لوگ نماز جمعہ کے بعد کسی میلے ٹھیلے میں تفریح کے لیے نکلے ہوئے ہوں۔

یہ سوچ کر ہی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ چند منٹوں میں انسان کے بنائے ہوئے حروف اور دوسری اشیاء کیسے خدا کی بنائی ہوئی مخلوق سے بھی اہم ہو جاتی ہیں؟ ہر وہ چیز جو خدا سے نسبت رکھتی ہے مقدس ہو جاتی ہے۔ خدا کی بنائی ہوئی سب سے اشرف مخلوق ہونے کے ناطے انسان کبھی مقدس کیوں نہیں ہوا؟ خدا کی بنائی ہوئی مخلوق کو یوں بے دردی سے سنگسار کر دینا توہین مذہب کے زمرے میں کیوں نہیں آتا؟

خدا اور اس کے رسول سے محبت کی بات کی جائے تو بیچ میں نفرت کے حوالے کیسے آ جاتے ہیں؟ محبت کی کوکھ سے ہمیشہ ہمیشہ محبت ہی جنم لے سکتی ہے۔ محبت کا ٹائٹل لگا کر جب دنگے فساد کیے جاتے ہیں تو کسی کا نقصان نہیں ہوتا۔ خود ان تعلیمات کا نقصان ہوتا ہے، جسے اہلِ مذہب اچھا دکھانا چاہتے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے میلاد کے پنڈال کے لیے کچھ ٹینٹ لینے کے لیے بازار گئے۔ دکاندار نے سب سے پہلے یہ پوچھا، ٹینٹ کس لیے چاہئیں؟ ہم نے میلاد کا بتایا تو ٹینٹ دینے سے صاف انکار کر دیا۔ ہم نے وجہ پوچھی تو بات گھما دی۔ کچھ دیر کے بحث مباحثے سے جب دکاندار کو اعتبار ہو گیا کہ ہم بے ضرر لوگ ہیں تو اس نے کہانی کھولی۔ اس نے بتایا سامنے گلی والی مسجد میں میلاد کے لیے کچھ لوگ مجھ سے ٹینٹ لے گئے تھے۔

 میلاد کے بعد پیسوں کا تقاضا کیا تو کسی نے کچھ خاص جواب نہیں دیا۔ ایک بار جب میں پیسے وصول کرنے مسجد گیا تو بات بگڑ گئی۔ مجھے کہا گیا کہ ابھی کے ابھی یہاں سے چلے جاؤ، ایک فتوی جاری ہو گیا تو درگت بن جائے گی تمہاری۔ میں نے اسی وقت واپسی کا راستہ لیا اور عہد کیا کہ آئندہ مندر والوں کو تو ٹینٹ دیدوں گا مسجد والوں کو کبھی نہیں دوں گا۔

سوال یہ ہے کہ ٹینٹ والے کے دل دماغ میں مسجد کی یہ بھیانک تصویر کس نے بٹھائی؟ اس میں ٹینٹ والے کا اپنا کوئی قصور نہیں ہے۔ مگر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دماغ میں بری تصویر بنا دیتے ہیں اور پھر دماغ کو جلاتے بھی ہیں کہ اس پر یہ تصویر کیوں بنی؟ ہماری اس حرکت کو ہم عشق و محبت کا نام دیتے ہیں اور ہیرو بن جاتے ہیں۔