’عزیر بلوچ کی گرفتاری‘ کیا سیاسی چپقلش کا نتیجہ ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 30.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’عزیر بلوچ کی گرفتاری‘ کیا سیاسی چپقلش کا نتیجہ ہے؟

لیاری گینگ وار کا سرغنہ اور مطلوب دہشت گرد عزیر جان بلوچ کراچی کے مضافات سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث اس گرفتاری کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

رینجرز کے ترجمان میجر سید سبطین رضوی نے ڈوچے ویلے کو بتایا کہ رینجرزکو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ لیاری گینگ وار کا سرغنہ اور انتہائی مطلوب دہشتگرد کراچی میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا۔ اس حوالے سے علی الصبح شہر کے مضافات میں ایک ٹارگیٹڈ کارروائی کی گئی جس میں ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔

عزیر بلوچ دو ہزار تیرہ میں کراچی آپریشن شروع ہونے کے بعد سمندر کے راستے دبئی فرار ہو گیا تھا، جہاں دبئی پولیس نے اسے جعلسازی کے مقدمہ میں گرفتار کیا تھا۔ حکومت پاکستان نے عزیر کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری کرائے اور حوالگی کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیم دبئی بھی بھیجی گئی۔ لیکن عزیر کے قبضہ سے ایرانی پاسپورٹ کی برآمدگی اور دیگر قانونی پیچیدگیوں کے باعث ملزم کی پاکستان حوالگی ممکن نہ ہو سکی اور عزیر چھ ماہ قبل جیل سے رہائی کے بعد پھر مفرور ہو گیا۔

تاہم تجزیہ کاروں کی رائے میں یہ معاملہ اتنا سیدھا اور سادہ نہیں ہے۔ کہیں نہ کہیں اس کا تعلق پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کے رینجرز کو خصوصی اختیارات میں توسیع کے معاملے سے ہو سکتا ہے۔ معروف صحافی امین شاہ کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت کی جانب سے رینجرز کے اختیارات میں دو ماہ کی توسیع کے باوجود سندھ حکومت کی جانب سے نوٹیفیکیشن جاری نہ کرنا اور رینجرز کی درخواست پر گرفتار ملزمان سے تفتیش کے لیے جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیمیں تشکیل نہ دینے سے واضح ہو گیا تھا کہ سندھ حکومت رینجرز کو غیر مشروط اختیارات نہ دینے کے موقف پر قائم ہے۔ ایسے میں گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان کا سندھ رینجرز کے سربراہ کو ٹیلی فون کر کے آپریشن جاری رکھنے کا کہنا اور پھر چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اس دہشتگرد کا انتہائی آسانی سے گرفتار ہو جانا ،جو پورے ملک کی آنکھوں میں دھول جھونک کر فرار ہو گیا کوئی عام سے بات نہیں لگتی۔

قانون دان بھی گرفتاریوں کے اس طریقہ کار کی مخالفت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ معروف وکیل اور انسداد دہشتگردی کی عدالت کے سابق جج خواجہ نوید ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ نہ جانے قانون نافذ کرنے والے ادارے معاملات کو کیوں اتنا الجھا کر پیش کرتے ہیں کہ فائدہ ملزم کو ہی ہوتا ہے: ’’اس کی بجائے اگر گرفتاری کا صحیح طریقہ کار بتا دیا جائے تو عدالت میں شرمندگی بھی نہیں اٹھانا پڑے گی اور ملزم کو سزا کے امکانات بھی زیادہ ہوں گے۔‘‘

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ عزیر کو ماضی میں پیپلز پارٹی کی مکمل حمایت حاصل رہی ہے۔ سابق وزراء ذوالفقار مرزا، شرجیل میمن اور پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل لیاری گینگ وار کو کراچی میں ایم کیو ایم کے مدمقابل تیار کرتے رہے ہیں۔ ذوالفقار مرزا نے تو گینگ وار کے کارندوں کو ساڑھے تین لاکھ اسلحہ لائسنسز جاری کرنے کا بھی اعتراف کیا تھا۔ پیپلز پارٹی نے دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں لیاری سے عزیر بلوچ کے نامزد امیدواروں کو ٹکٹ دیے۔ گینگ وار نے سر عام ان نمائندوں سے عزیر سے وفاداری کا حلف لیا اور انتخابات میں کامیابی کے بعد عزیر کی جانب سے عشائیہ میں وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ اور آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپر بھی شریک ہوئیں۔

لیکن اب پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی کہتے ہیں کہ عزیر بلوچ کا پیپلز پارٹی سے کوئی تعلق رہا ہی نہیں۔’’ لیاری پیپلز پارٹی کا گڑھ تھا اور ہے‘‘۔ ان کے بقول عشائیہ لیاری کی عوام کی جانب سے دیا گیا تھا، جس میں کئی سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی اور سیاسی شخصیات کے ساتھ کوئی بھی تصاویر بنوا سکتا ہے۔

لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس معاملے سے پیپلز پارٹی کی جان صرف یہ کہہ کر نہیں چھوٹ سکتی کہ عزیر بلوچ کا پیپلز پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ عزیر کو عدالت میں پیش کیا جائے گا پھر اس سے تفتیش کے لیے جے آئی ٹی ٹیم کی تشکیل کو سندھ حکومت کیسے روکے گی؟ اور اگر اجازت دیتی ہے تو پارٹی قیادت کس سطح تک عزیر کے اعترافات کی زد میں آتی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب کے لیے بہت زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

اشتہار