’عرب نیٹو‘ کی مصر میں جنگی مشقیں | حالات حاضرہ | DW | 03.11.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’عرب نیٹو‘ کی مصر میں جنگی مشقیں

عرب ممالک کی بری، بحری اور فضائی فوجیں مصر پہنچ رہی ہیں، جہاں وہ مصری فوج کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقیں کریں گی۔

تین برس قبل مصر میں عرب سربراہی اجلاس میں عرب ممالک کی مشترکہ عسکری فورسز کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ عرب دنیا کے مختلف ممالک کی افواج ایک ساتھ اس انداز کی عسکری مشقوں میں مصروف ہیں۔ واشنگٹن حکومت نے اس عسکری اتحاد کو ’عرب نیٹو‘ کا نام دیا تھا۔

بدھ کی شام سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور اردن کی جانب سے جاری کردہ ایک فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مشقیں تین نومبر سے 16 نومبر تک جاری رہیں گی اور ان کا کوڈ نام ’عرب شیلڈ‘ یا ’عرب ڈھال‘ ہو گا۔ اس بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ جنگی مشقیں مصر کے مغربی حصے میں کی جائیں گی، جن میں لبنان اور مراکش بہ طور مبصر حصہ لیں گے۔

سعودی بادشاہ امریکی مدد کے بغیر اقتدار میں نہیں رہ سکتے، ٹرمپ

حملے میں امریکی حمایت یافتہ عرب ریاستیں ملوث ہیں، خامنائی

مصری فوج ان پانچوں ممالک کی فوجوں کے ساتھ الگ الگ جنگی مشقیں تو کرتی آئی ہے، تاہم ’عرب ڈھال‘ مشقیں وہ پہلا موقع ہیں، جب ایک ہی وقت میں چھ عرب ممالک کی فوجیں ایک ہی مقام پر ایک ساتھ یہ مشقیں کریں گی۔

اس سے قریب ایک ماہ قبل امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے ان چھ ممالک کے وزرائے خارجہ سے نیویارک میں ملاقات کی تھی اور کہا تھا کہ عرب دنیا کی ان ’سنی اکثریتی ریاستوں‘ کے اتحاد کے خیال کو آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ تاہم مصری فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اس مجوزہ اتحاد اور ان جنگی مشقوں کے درمیان کسی تعلق پر کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔ مصر ایسے کسی سنی اتحاد میں شامل ہونے کے اعتبار سے نہایت محتاط رویے کا مظاہرہ کر رہا ہے، تاہم یہ بات اہم ہے کہ مصر مالی تعاون اور سرمایہ کاری کے اعتبار سے خلیجی ممالک پر بے حد انحصار کرتا ہے، جن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سرفہرست ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ ایسے کسی ایران مخالف اتحاد میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے مصری فیصلے کا بہت سا دارومدار سعودی عرب اور امارات کے موقف پر ہو گا۔

جمعرات کے روز ممتاز مصری تجزیہ کار عبداللہ السیناوی نے اپنے ایک اخباری مضمون میں ایسے کسی عرب اتحاد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ عرب ممالک کا اسرائیل کی بجائے ایران کو سب سے بڑے دشمن کے طور پر دیکھنا اس لیے غلط ہے کیوں کہ ایران اور عرب دنیا کے درمیان اختلافات سیاسی انداز سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’اسرائیل دوست نہیں ہے اور یہ اس لیے ایک حقیقت ہے کیوں کہ اسے تبدیل کرنے کے لیے اب تک کی جانے والی کوششیں بیکار گئیں ہیں۔‘‘

ع ت، الف الف (ایسوسی ایٹڈ پریس، روئٹرز)

DW.COM