عرب لیگ کے مبصرین کی شام آمد | حالات حاضرہ | DW | 26.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عرب لیگ کے مبصرین کی شام آمد

شام میں نو ماہ سے حکومت مخالفین کی تحریک کوکچلنے کے لیے دمشق حکومت کا کریک ڈاؤن جاری ہے۔ عرب دنیا میں پائی جانے والی تشویش کے تناظر میں عرب لیگ نے پہلے شام کی رکنیت معطل کی اور پھر اپنے مبصرین کی تعیناتی کا فیصلہ کیا۔

دمشق حکومت کی جانب سےعرب ملکوں کی تنظیم عرب لیگ کے پیش کردہ امن فارمولے کو تسلیم کرنے کے بعد اب مبصرین کا پہلے دستے کی آج شامی دارالحکومت دمشق آمد آمد ہے۔ مبصرین کا ہر اول دستہ پہلے ہی دمشق پہنچ چکا ہے۔ یہ مبصرین شام میں حکومتی کریک ڈاؤن کی پالیسی روکے جانے کی نگرانی کریں گے۔ بعض ذرائع کے مطابق پیر کے روز دمشق پہنچنے والے مبصرین کی ایک ٹیم کل منگل کے روز وسطی شامی شہر حمص جائے گی۔

شام کے مرکزی اپوزیشن گروپ شامی قومی کونسل نے مبصرین سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر حمص کی خبر لیں کیونکہ حکومتی فوج نے شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے اور اس باعث عام آدمی کی زندگی مشکلات سے عبارت ہے۔ ایسا ہی مطالبہ فرانس نے عرب لیگ سے بھی کیا ہے۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان Bernard Valero نے عرب لیگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مبصرین کو پیر کی شام تک حمص شہر میں تعینات کر دے تا کہ صورت حال میں بہتری کے آثار پیدا ہو سکیں۔

وسطی شامی شہر حمص مسلسل تیسرے روز بھی حکومتی سکیورٹی فورسز کی شیلنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ آج پیر کے روز تک اس شہر میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بیس تک پہنچ گئی ہے۔ اپوزیشن کی مرکزی جماعت شامی قومی کونسل کے مطابق حمص کے قرب میں واقع قصبے باب عمرو کو چار ہزار فوجیوں نے گھیر رکھا ہے۔ لندن میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بھی باب عمرو پر مارٹر اور بھاری گولہ بارود استعمال کیے جانے کا بتایا تھا۔ بشار الاسد کی حکومت کے خلاف جاری موجودہ موومنٹ میں حمص کا شہر تحریک کا مرکز تصور کیا جا رہا ہے۔ اس شہر کے قرب و جوار کی بستیاں اور قصبے بھی سرکاری سکیورٹی فورسز کے سخت ایکشن سے بچ نہیں پائے ہیں۔

شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے عرب لیگ کے مبصرین کے ہراول دستے سے دو روز قبل یعنی ہفتے کو ملاقات کی تھی۔ شامی وزارت خارجہ نے اس ملاقات کو مثبت قرار دیا ہے۔ ہراول دستے کے سربراہ عرب لیگ کے نائب سیکرٹری جنرل سمیر سیف الیزال ہیں۔ الیزال نے بھی پیر کے روز پچاس مبصرین کی آمد کی تصدیق کی ہے۔

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر معلوم ہو جائے گا کہ دمشق حکومت لیگ کے ساتھ کیے گئے وعدے کا احترام کرتے ہوئے مبصرین کو سہولیات اور معلومات فراہم کر رہی ہے یا نہیں۔ مبصرین کے ہراول دستے کی جانب سے شامی حکومت کے تعاون کا تذکرہ بھی سامنے آیا ہے۔ شام کی مجموعی سلامتی کی صورت حال اتنی خراب ہو چکی ہے کہ کرسمس کے موقع پر پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے اس کی بہتری کی خصوصی دعا مانگی تھی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار