عرب لیگ کے اجلاس میں ایران مخالف جذبات کا اظہار | حالات حاضرہ | DW | 20.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عرب لیگ کے اجلاس میں ایران مخالف جذبات کا اظہار

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا ایک خصوصی اجلاس اتوار 19 نومبر کو منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں خاص طور پر سعودی عرب اور بحرین نے خطے میں ایرانی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں جارحانہ قرار دیا۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب ملکوں کی تنظیم عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس میں عرب ملکوں کے حوالے سے ایران کی پالیسیوں اور لبنان کی شیعہ عسکری تنظیم حزب اللہ کے کردار پر خاص طور پر گفتگو کی گئی۔ اتوار انیس نومبر کو منعقد ہونے والی عرب وزرائے خارجہ کی ہنگامی میٹنگ سعودی عرب کی درخواست پر طلب کی گئی تھی۔ اس درخواست کو متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت کی حمایت حاصل تھی۔

سعد الحریری لبنان واپس چلے جائیں گے

ایران نے فرانس کی ’متوازن‘ پوزیشن کو غلط سمجھا ہے، ماکروں

اسرائیل، ’ایران کے خلاف، سعودی عرب سے تعاون پر تیار ہے‘

’مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں مزید شدت پیدا ہو سکتی ہے‘

سعودی عرب نے عرب لیگ کے اجلاس میں دوسری رکن ریاستوں کو مشورہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف ایک شفاف، سخت اور سنجیدہ موقف اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا کہ تہران کے ساتھ نرمی رکھنے سے اُس کے جارحانہ عزائم میں اضافہ ہو گا۔

الجبیر کے مطابق نرم برتاؤ رکھنے سے ایران عرب اقوام کے معاملات میں مداخلت کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ انہوں نے عرب اقوام پر واضح کیا کہ ایران کے ساتھ عرب ممالک کا مجموعی رویہ غیر مفاہمانہ ہونا ضروری ہے۔ عرب لیگ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ سن 2015 سے اب تک یمن کی ایران نواز حوثی ملیشیا سعودی سلطنت کی جانب 80 بیلیسٹک میزائل داغ چکی ہے۔

Katar Außenminister von Saudi Arabien Adel bin Ahmed Al-Jubeir in Manama (Reuters/H. I. Mohammed)

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر

عرب لیگ کے اجلاس میں سعودی عرب کی حلیف خلیجی ریاست بحرین کے وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد الخلیفہ نے ایرانی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ لبنان کی شیعہ عسکری تنظیم حزب اللہ کے کردار پر بھی خاص طور پر گفتگو کی۔ بحرینی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت لبنان پر عملاً حزب اللہ کو کنٹرول حاصل ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لبنانی شیعہ تنظیم صرف اپنے ملک ہی میں پرتشدد  کارروائیوں میں مصروف نہیں بلکہ وہ دوسرے ملکوں میں بھی دہشت گردانہ آپریشن کرنے سے گریز نہیں کرتی۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ عرب دنیا میں لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری کے مستعفی ہونے کے بعد مجموعی صورت حال مزید گھمبیر ہو گئی ہے۔ الحریری نے چار نومبر کو سعودی عرب میں قیام کے دوران اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ لبنانی شیعہ تنظیم حزب اللہ پوری طرح ایرانی کنٹرول میں ہے۔ الحریری کل منگل اکیس نومبر کو مصر پہنچ کر صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کریں گے۔

DW.COM

اشتہار