عرب لیگ رہنما خصوصی اجلاس کے لیے بغداد میں جمع | حالات حاضرہ | DW | 29.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عرب لیگ رہنما خصوصی اجلاس کے لیے بغداد میں جمع

عرب لیگ کا خصوصی اجلاس آج جمعرات کو عراقی شہر بغداد میں منعقد ہو رہا ہے، جو گزشتہ دو برس کے دوران ہونے والا اس نوعیت کا پہلا اجلاس ہے۔ عرب رہنماؤں کی اس نشست میں شام کے بحران کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔

 اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ کا بحران اور یمن میں مصالحتی عمل جیسے موضوعات پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ بغداد میں عرب لیگ کا اجلاس دراصل ایک سال قبل ہونا تھا، تاہم وہاں پائی جانے والی شورش کے باعث اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔

آخر کار لگتا یوں ہے جیسے یہ ایک اختتامی اجلاس ہے، جس کے شرکا نے ایک پورے عہد کے بارے میں فیصلے کیے۔ آخری بار عرب لیگ کے ریاستی اور حکومتی سربراہان  لیبیا میں اکھٹا ہوئے تھے، وہ بھی سرت میں جو معمر قذافی کی جائے پیدائش ہے۔ اُس وقت آئندہ اجلاس کا جو منصوبہ تیار ہوا تھا وہ اُن انقلابی تحریکوں کی نذر ہو گیا جن کے نتیجے میں قذافی اور اُن کے چند آمر ساتھی سیاسی منظر نامے سے غائب ہی ہو گئے۔ اس لحاظ سے عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی کا یہ بیان حیران کن نہیں جو انہوں نے اس اجلاس سے پہلے دیا تھا۔

’’ عرب لیگ کا یہ اجلاس غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ حالیہ سالوں میں بہت کچھ ہوا ہے۔2011 میں عرب دنیا میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ان سے صرف تیونس، لیبیا، مصر اور یمن ہی متاثر نہیں ہوئے۔ وہ لوگ تھے، شہری جو اپنی ضروریات کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے، وہ اُن چیزوں کا مطالبہ کر رہے تھے جن کا فقدان پوری عرب دنیا میں پایا جاتا ہے۔‘‘

Treffen der Arabischen Außenminister in Bagdad

´عراقی وزیر خارجہ اپنے کویتی ہم منصب کے ساتھ

بغداد حکومت نے عرب لیگ کے اس اجلاس کو کامیاب بنانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ 20 برسوں کے بعد بغداد ميں اس نوعیت کی یہ پہلی ميٹنگ ہے جس کے لیے گزشتہ ہفتے عراق ميں ہونے والے بم دھماکوں کے تناظر میں بہت سخت سکيورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ليکن عرب رہنماؤں کے درميان بہت وسيع اختلاف رائے ہے جس کی وجہ سے عرب ليگ کے اس اجلاس سے بھی کسی مؤثر قرارداد اور فيصلے کی توقع نہيں کی جا رہی ہے۔

ليگ کو ايک سال سے جاری شامی بغاوت کے بارے ميں عرب ممالک کی شامی اپوزيشن کو مسلح کرنے کی تجويز اور عراق کے لیے ايک سياسی قرارداد کے مطالبے کے درميان سمجھوتے کی راہ تلاش کرنا ہوگی۔ عراق کی قومی سلامتی کے نائب مشير صفا حسين پہلے ہی کہہ چُکے ہیں، ''اگر آپ خود شام کی بات کر رہے ہيں تو يہ ايک آسان مسئلہ نہيں ہے۔ اس معاملے پر بين الاقوامی طور پر اور عرب دنيا کے اندر اختلاف رائے ہے۔ ميں نہيں سمجھتا کہ ہميں اس اجلاس سے کسی معجزے کی توقع رکھنی چاہیے ليکن يہ عرب آراء کو قريب تر لانے کا ايک موقع ضرور ہے۔‘‘

عراق کی سلامتی کی صورتحال کے پیش نظراس اجلاس میں بہت سے فرمانروا اور صدور کی نمائندگی اُن کے وزراء یا سفیر کریں گے۔ اس اجلاس میں محض 10 سربراہان مملکت کی شرکت متوقع ہے۔ خیال رہے کہ اپوزیشن ذرائع کے مطابق شام میں گزشتہ برس سے جاری سکیورٹی کے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں 9100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہيں۔ 

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: ندیم گِل

اشتہار