’عراق کو داعش سے مکمل طور پر آزاد کرا لیا گیا‘ | حالات حاضرہ | DW | 09.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’عراق کو داعش سے مکمل طور پر آزاد کرا لیا گیا‘

عراقی فورسز کے مطابق ملکی سر زمین کو دہشت گرد تنظیم داعش کے قبضے سے مکمل طور پر آزاد کرا لیا گیا ہے۔ اس بات کا اعلان عراقی فوج کے ایک سینیئر کمانڈر نے آج ہفتہ نو دسمبر کو کیا ہے۔

default

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی

داعش کے خلاف فوجی آپریشن کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالامیر یاراللہ کے مطابق، ’’داعش کے مجرم گروہوں کے چنگل سے عراقی سر زمین کو مکمل طور پر چھڑا لیا گیا ہے۔‘‘ ملک کے مغربی صوبہ انبار سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق عراقی جنرل کا مزید کہنا تھا، ’’ہمارے بہادر فوجیوں نے شام اور عراق کے درمیان بین الاقوامی سرحد پر اپنا کنٹرول مضبوط بنا لیا ہے۔‘‘

داعش کے خلاف فتح کا یہ اعلان عراقی فورسز کی طرف سے گزشتہ تین ہفتے سےجاری اس فوجی آپریشن کا اختتام بھی ہے، جو شامی سرحد کے قریب بڑے صحرائی علاقے سے داعش کے جنگجوؤں کے خاتمے کے لیے جاری تھا۔ اس آپریشن میں عراقی فورسز کو امریکی سربراہی میں قائم اتح‍اد کی فضائی مدد بھی حاصل تھی۔

Irak verwundete und verletzte Soldaten

عراق کے وسیع علاقے پر قبضہ کرنے والے دہشت گرد گروپ داعش کے خلاف عراقی فورسز گزشتہ تین برس سے کارروائی میں مصروف تھیں۔

قبل ازیں آج ہفتہ نو دسمبر کو عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے بھی اس علاقے میں داعش کے خلاف فتح کا اعلان کیا تھا۔ بغداد میں عراقی وزیر اعظم کا کہنا تھا، ’’میں یہ خوشخبری تمام عراقی عوام تک پہنچانا چاہتا ہوں کہ شامی سرحد کے قریب جزیرہ کے علاقے میں داعش کو مکمل طور پر شکست دے دی گئی ہے۔۔۔ اور یہ فتح عراقیوں کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔‘‘ العبادی کا مزید کہنا تھا، ’’یہ فتح صرف اور صرف عراقی عوام ہی کی نہیں بلکہ عربوں، مسلمانوں اور پوری دنیا کی فتح ہے۔‘‘

عراق کے وسیع علاقے پر قبضہ کرنے والے دہشت گرد گروپ داعش کے خلاف عراقی فورسز گزشتہ تین برس سے کارروائی میں مصروف تھیں۔

داعش کو شکست دینے پر امریکا کا خیر مقدم

عراقی حکام کی جانب سے داعش کو مکمل طور شکست دینے کے اعلان پر امریکا کی جانب سے خیرمقدم کیا گیا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کی خاتون ترجمان ہیتھر نوئرٹ کے مطابق، ’’عراقی اعلان اس بات کا اشارہ ہے کہ داعش کی عراق میں خود ساختہ خلافت کے آخری نشانات کو بھی مٹا دیا گیا ہے اور اس علاقے میں داعش کے ظالمانہ قبضے میں موجود عوام کو آزاد کرا لیا گیا ہے۔‘‘

DW.COM