عراق میں داعش کا خود کش حملہ، دو فوجی جنرل ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 27.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق میں داعش کا خود کش حملہ، دو فوجی جنرل ہلاک

عراقی فوج کے ذرائع نے بتایا ہے کہ عسکریت پسند گروپ اسلامک اسٹیٹ یا داعش کے ایک خود کش حملے میں فوج کے دو جنرل ہلاک ہو گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ واقعہ ملک کے مغربی صوبے انبار میں پیش آیا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اس خود کش حملے میں صوبے انبار میں جاری آپریشن کے نائب سربراہ، اسٹاف میجر جنرل عبدالرحمٰن ابو رغیف اور 10 ویں ڈویژن کےکمانڈر، اسٹاف بریگیڈیئر جنرل سفین عبدالمجید ہلاک ہوئے ہیں۔ فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحیٰی رسول کے مطابق اس حملے میں ان دونوں بہت اعلیٰ افسروں کے علاوہ بھی متعدد فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ جنرل رسول نے مزید بتایا کہ اس واقعے میں ایک خود کش بمبار نے بارود سے بھری اپنی گاڑی رمادی کے شمالی علاقے میں ایک فوجی قافلے سے ٹکرا دی۔

رمادی پر اسلامک اسٹیٹ نے مئی میں قبضہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے ملکی فوج شیعہ ملیشیا گروپوں، اتحادی افواج کی فضائی کارروائیوں اور سنی قبائل کی مدد سے اس شہر کو آزاد کرانے کی کوششوں میں ہے۔ تاہم ابھی تک اس تناظر میں کوئی واضح کامیابی حاصل نہیں ہو پائی۔

بریگیڈیئر جنرل یحیٰی رسول نے مزید بتایا کہ جس وقت بارود سے بھری یہ گاڑی فوجی قافلے کی جانب بڑھنا شروع ہوئی تو اسے روکنے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔ ’’لیکن نتیجہ اس دھماکے کی صورت میں نکلا‘‘۔ ان کے بقول کم از کم دس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

دہشت گرد تنظیم آئی ایس نے جون 2014ء میں اپنی شدت پسندانہ کارروائیوں کو تیز کرتے ہوئےعراق کے ایک تہائی حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ بغداد حکومت دو صوبوں کے کچھ حصوں کو تو آئی ایس سے آزاد کرانے میں کامیاب ہو چکی ہے لیکن انبار سمیت مغربی عراق کے بہت سے علاقے ابھی بھی اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں کے قبضے میں ہیں۔

دوسری جانب عراقی شہر کرکوک کے قریب بجوہ کے علاقے میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں بھی کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ بھی ایک کار بم کے ذریعے کیا گیا تھا۔ ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔