’عراق میں آئی ایس کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی‘: ایشٹن کارٹر | حالات حاضرہ | DW | 04.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’عراق میں آئی ایس کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی‘: ایشٹن کارٹر

امریکی بحریہ کے ایک فوجی کی عراق میں دوران جنگ ہونے والی ہلاکت کو امریکی وزیر دفاع نے اس امر کی نشاندہی قرار دیا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ کے خلاف جنگ کا خاتمہ ابھی بہت دورہے۔

امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے بُدھ کو یہ بیان جرمنی کے شہر اشٹُٹ گاٹ میں قائم امریکی فوج کے یورپی کمانڈ کے ہیڈ کواٹرز میں بند دروازوں میں ہونے والے اُس اجلاس کے دوران دیا جس میں عراق اور شام میں دہشت گرد گروپ اسلامک اسٹیٹ کے خلاف جاری فوجی مہم میں شامل 11 ممالک کے وزرائے دفاع شریک ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع نے منگل کو کہا تھا کہ عراق میں امریکی فوج کے ایک اہل کار کو شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے ہلاک کر دیا ہے۔ یہ ہلاکت اس وقت ہوئی جب داعش نے شمالی موصل میں کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ اس سے قبل عراق میں امریکی فوجی اتحاد نے ایک ہلاکت کی تصدیق کی تھی تاہم ہلاک ہونے والے کی قومیت کا ذکر نہیں کیا تھا۔

اشٹُٹ گارٹ میں ہونے والے اس اجلاس کے آغاز پر کارٹر نے کہا،’’ہم عراق اور شام میں فوجی مہم کو تیز تر کرنے کے لیے مزید کیا کر سکتے ہیں؟۔‘‘

Deutschland Treffen der Verteidigungsminister der Allianz im Kampf gegen IS

آئی ایس کے خلاف عراق اور شام میں اتحادی فوج کی حکمت عملی پر جرمنی میں ہونے والی کانفرنس

کارٹر اسی نوعیت کے ایک اور سیشن کی صدارت رواں سال فروری میں برسلز میں بھی کر چُکے ہیں۔ منگل کو عراق میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کے بارے میں کارٹر نے مزید کہا،’’گزشتہ روز شمالی عراق میں پیش مرگا فورسز پر حملے سے ہم نے بہت حد تک یہ ثابت کر دیا تھا کہ ہماری فوجی کارروائیاں بہت حد تک امن کا سبب ہیں لیکن بد قسمتی سے اس کارروائی میں ایک امریکی فوجی کی جان ضایع ہو گئی۔‘‘

قانونی طور پر کسی فوجی کی ہلاکت کے بعد اُس کے لواحقین کو مطلع کرنے کے 24 گھنٹے بعد تک ہلاک ہونے والے فوجی کی شناخت ظاہر کرنے پر پابندی عائد ہے۔ اس کے سبب کارٹر نے ہلاک ہونے والے امریکی فوجی کا نام لیے بغیر اس کی ہلاکت کے بارے میں بیانات دیے تاہم فوجی کے گھر والوں نے تصدیق کر دی ہے کہ مارا جانے والا امریکی فوجی چارلی کیٹنگ ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے اس کی ہلاکت پر شدید دُکھ ظاہر کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

Irak Autobombe im Saydiya Bezirk

عراق میں دہشت گردی کا بازار گرم ہے

2014 ء میں امریکی سربراہی میں اتحادی فورسز کی طرف سے اسلامک اسٹیٹ کے خلاف کریک ڈاؤن مہم کے آغاز سے اب تک یہ تیسرے امریکی فوجی کی ہلاکت ہے۔

گزشتہ ماہ یعنی اپریل میں امریکا نے اپنے 200 اضافی فوجیوں کو عراق بھیجنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ ان امریکی فوجیوں کو اسلامک اسٹیٹ کے ساتھ نبرد آزما اُن عراقی فوجیوں کی مشاورت کے لیے تعینات کیا گیا جو جنگ کے مرکزی محاذ پر لڑ رہے ہیں۔

دریں اثناء اوباما کے ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکا کی طرف سے کیے جانے والے یہ فوجی اقدامات ناکافی ہیں۔ کارٹر نے کہا ہے کہ امریکی سربراہی میں سرکردہ اتحادی فورسز کو اپنی سرگرمیوں میں اضافے کے مواقع کی تلاش میں رہنا چاہیے۔ کارٹر نے کہا ہے کہ وہ پوری امید کرتے ہیں کہ اسلامک اسٹیٹ کے خلاف یہ مہم آخرکار کامیاب ہوگی۔ کارٹر نے اپنے مغربی اتحادیوں سے کہا،’’آپ کی مدد سے یہ مہم تیز تر ہوجائے گی۔‘

DW.COM

اشتہار