عراق سے داعش کے مکمل خاتمے کے ليے عسکری آپريشن شروع | حالات حاضرہ | DW | 23.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق سے داعش کے مکمل خاتمے کے ليے عسکری آپريشن شروع

عراقی افواج نے آج سے ايک بڑا عسکری آپريشن شروع کيا ہے جس کا مقصد شام کی سرحد سے ملنے والے ملک کے مغربی صحرائی علاقوں سے دہشت گرد تنظيم اسلامک اسٹيٹ کے بچے ہوئے شدت پسندوں کا صفايہ ہے۔

عراق ميں جوائنٹ آپريشنز کمانڈ کے سربراہ جنرل عبدل امير يار اللہ نے بتايا کہ الجزيرہ، صلاح الدين، انبار اور نينوی کے صوبوں سے دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے ليے فوجی آپريشن آج بروز جمعرات شروع ہو گيا ہے، جس ميں فوج، وفاقی پوليس اور نيم فوجی دستے بھی حصہ لے رہے ہيں۔ دريائے دجلہ اور دريائے فرات کے درميانی علاقے عراق ميں جہاديوں کی آخری پناہ گاہيں بنے ہوئے ہيں۔ جن علاقوں ميں آپريشن شروع کيا گيا ہے، وہ اکثريتی طور پر خشک، صحرائی علاقے ہيں۔

عراق کے حليف ملک ايران کی جانب سے اسلامک اسٹيٹ کے مکمل خاتمے کا اعلان کيا جا چکا ہے تاہم عراقی وزير اعظم حيدر العبادی کے بقول جب تک مغربی علاقوں سے بھی جہاديوں کو مات نہيں دے دی جاتی، وہ فتح کا باقاعدہ اعلان نہيں کريں گے۔ انہوں نے کہا، ’’آپريشن کے خاتمے کے بعد ہم کاميابی کا باقاعدہ اعلان کريں گے۔‘‘

دريں اثناء شام ميں بھی صدر بشار الاسد کی حامی افواج اور امريکی حمايت يافتہ کرد فورسز باقی رہ جانے والے جنگجوؤں کے صفائے کے ليے چھوٹی کارروائياں جاری رکھے ہوئے ہيں۔

اشتہار