عراق: راکٹ حملے سے تیل ریفائنری میں آگ لگ گئی | حالات حاضرہ | DW | 30.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

عراق: راکٹ حملے سے تیل ریفائنری میں آگ لگ گئی

عراق کے شمال میں راکٹ حملے کے سبب سینیہ تیل ریفائنری میں آگ لگ گئی تھی جس کی وجہ سے کچھ وقت کے لیے کام روکنا پڑا۔ اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کر لی ہے۔

عراق میں وزارت تیل کا کہنا ہے کہ اتوار کو شمالی صوبے صلاح الدین میں واقع اہم ریفائنری سینیہ پر ایک راکٹ سے حملہ ہوا جس کی وجہ سے فیکٹری آگ کی زد میں آگئی۔ حکام کے مطابق اس کے سبب عارضی طور پر کچھ وقت کے لیے تیل پروڈکشن کو روکنا پڑا تاہم بعد میں کام دوبارہ شروع ہوگیا۔

شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے اپنے ترجمان میڈیا گروپ عماق میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے فیکٹری پر دو میزائل فائر کیے۔ مقامی میڈیا ادارے المعارد کی ایک ٹویٹ میں بھی دھماکے سے لگنے والی آگ اور اٹھتے ہوئے شعلوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی ادارے نے روئٹرز کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔

سینیہ تیل ریفائنری بائجی میں عراق کی سب سے بڑی تیل ریفائنری کے پاس ہی واقع ہے۔ وزات تیل کا کہنا ہے کہ راکٹ حملے کی وجہ سے لگنے والی آگ پھیل کر تیل کو ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں تک پہنچ گئی تھی۔ لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے اور آگ پر چند گھنٹوں کے اندر ہی قابو پالیا گیا جس کے بعد کام دوبارہ شروع ہو گیا۔ 

ویڈیو دیکھیے 01:52

موصل میں زندگی کی رونقیں لوٹ رہی ہیں

ملک کی سب سے بڑی بائجی تیل ریفائنری  بغداد اور موصل شہر کے درمیان میں واقع ہے۔ چند برس قبل شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے موصل شہر پر قبضہ کر لیا تھا اور شہر کی بازیابی کے لیے لڑائی کے دوران سب سے زیادہ نقصان بھی موصل کو ہی پہنچا تھا۔

شدت پسندوں کی مکمل شکست کے بعد 2017 میں بائجی ریفائنری کو دوبارہ کھولا گیا تھا۔ لیکن موصل اور اس کے آس پاس داعش کے خفیہ سیل آج بھی سرگرم ہیں اور وہ وقتا ًفوقتا ًاپنی کاروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ 

ص ز/ ج ا (اے پی، ڈی پی اے، روئٹرز)

DW.COM