’عراق اور شام میں اب تک قریب 100 جرمن جہادی ہلاک ہوئے ہیں‘ | حالات حاضرہ | DW | 23.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’عراق اور شام میں اب تک قریب 100 جرمن جہادی ہلاک ہوئے ہیں‘

جرمن وزیر داخلہ تھامس ڈے میزیئر نے کہا ہے کہ سن 2012 سے اب تک شام اور عراق جاکر اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں کے ساتھ لڑنے والے قریب 100 جرمن جہادی ہلاک ہوچُکے ہیں۔

اتوار کو جرمن اخبار ’بِلڈ اَم زونٹاگ‘ میں چھپنے والے بیان میں جرمن وزیر نے مزید کہا کہ 2012 ء سے عراق اور شام جا کر اسلامک اسٹیٹ یا داعش کی صفوں میں شامل ہونے والے جرمن باشندوں کی تعداد قریب 700 بنتی ہے، جن میں سے 100 کے قریب اب تک اسلامک اسٹیٹ کے انتہا پسند جنگجوؤں کا ساتھ دیتے ہوئے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چُکے ہیں۔

جرمن وزیر داخلہ تھامس ڈے میزیئر نے اخبار کو بیان دیتے ہوئے یہ بھی بتایا کے عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر اسلامک اسٹیٹ کا غلبہ ہے اور داعش کے ان جہادیوں کا ساتھ دینے کے لیے ان دونوں ممالک کا رُخ کرنے والے جرمن باشندوں کی کُل تعداد کا ایک تہائی حصہ واپس جرمنی لوٹ چُکا ہے۔

جرمن وزیر کے مطابق برلن حکومت نے شام اور عراق جا کر اسلامک اسٹیٹ میں شمولیت حاصل کرنے کے متمنی جرمن باشندوں کو روکنے کے لیے ان مملک کا سفر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

IS Kämpfer Videostill

عراق میں آئی ایس کے جنگجوؤں کی پریڈ

ڈے میزیئر نے اخبار ’بِلڈ اَم زونٹاگ‘ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کے غیر قانونی طور پر سفر کرکے عراق اور شام پہنچنے والے اُن 800 جرمن باشندوں میں سے 600 کے کیسس زیر تقتیش ہیں جنہوں نے ان ممالک پہنچ کر وہاں داعش کی جنگ میں شرکت اختیار کی ہے اور اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں کے ساتھ مسلح جھڑپوں میں حصہ لیا تھا۔

جرمن وزیر نے ملکی قوانین میں حالیہ تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حکام کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے وار زون یا جنگی زون کے سفر کی کوشش کرنے والوں کے شناختی کاغذات ضبط کرلیں۔ اس کارروائی کے نتیجے میں یہ جرمن باشندے تین سال تک جرمنی چھوڑنے سے قاصر رہیں گے اس طرح عراق یا شام جا کر وہاں کی جنگ میں حصہ لینے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے والوں کی کوششوں کو بھی ناکام بنانے میں مدد ملے گی۔

Irak Selbstmordanschlag nahe Bagdad

اسلامک اسٹیٹ کے دہشت گردوں نے عراق اور شام کے متعدد علاقوں کو تباہ کر دیا ہے

جرمنی کے قوانین میں تبدیلیوں نے حکام کے لیے اس امر کو بھی ممکن بنا دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کر پائیں گے۔

یاد رہے کے حال ہی میں برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمان ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خطرے کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ اس اجلاس میں دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مربوط تعاون پر بات کی گئی اور غور کیا گیا کہ کس طرح ان شدت پسند یورپیوں سے نمٹا جائے جو عراق اور شام سے عسکری تربیت لے کرواپس لوٹ رہے ہیں۔

DW.COM

اشتہار