عام انتخابات کے تین ماہ بعد نئی ایرانی پارلیمان کا اولین اجلاس | حالات حاضرہ | DW | 27.05.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

عام انتخابات کے تین ماہ بعد نئی ایرانی پارلیمان کا اولین اجلاس

ایران میں فروری میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی نئی ملکی پارلیمان کا اولین اجلاس کورونا وائرس کی وبا کے باعث تین ماہ کی تاخیر سے آج بدھ ستائیس مئی کو دارالحکومت تہران میں شروع ہوا۔

ایرانی صدر حسن روحانی

ایرانی صدر حسن روحانی

نئے اراکین پارلیمان کی اکثریت نے حفاظتی ماسک پہنے ہوئے تھے اور جنوبی تہران میں واقع پارلیمان کی عمارت میں داخلے سے قبل ان کا جسمانی درجہ حرارت بھی چیک کیا گیا، تاکہ ان کے ممکنہ طور پر بخار کی حالت میں ہونے یا کورونا وائرس سے متاثرہ ہونے کا پتا چلایا جا سکے۔

اکیس فروری کو ہونے والے پارلیمانی الیکشن کے بعد نئی مقننہ کے اولین اجلاس میں تین ماہ سے بھی زیادہ کا عرصہ اس لیے لگا کہ ایران کا شمار مشرق وسطیٰ کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جو چین سے شروع ہونے والی کورونا وائرس کی عالمی وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

نئی ایرانی پارلیمان کے ارکان کی تعداد 290 ہے لیکن وہ منتخب عوامی نمائندوں کے طور پر خارجہ سیاست اور ایران کی جوہری توانائی سے متعلق پالیسی پر زیادہ اثر انداز اس لیے نہیں ہو سکیں گے کہ یہ معاملات ملکی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ہاتھ میں ہیں۔

نو منتخب پارلیمان کے ارکان اگلے ہفتے نئے پارلیمانی اسپیکر کا انتخاب کریں  گے، جس کے عہدے کی مدت صرف ایک سال ہو گی۔

اولین اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملکی صدر حسن روحانی نے کہا، ''ایران کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جنہوں نے خطرناک کورونا وائرس کے خلاف اپنی جنگ میں کامیابی حاصل کی ہے۔‘‘ صدر روحانی کا یہ خطاب سرکاری ٹیلی وژن سے براہ راست نشر کیا گیا۔

ایران میں کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے اب تک تقریباﹰ ایک لاکھ چالیس ہزار افراد متاثر اور ساڑھے سات ہزار سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں۔ نئے کورونا وائرس کی وجہ سے لگنے والی بیماری کووِڈ انیس کے ہاتھوں ایران میں اب تک جو ہزاروں افراد انتقال کر چکے ہیں، ان میں درجنوں اعلیٰ ایرانی اہلکار بھی شامل تھے اور دو ایسے اراکین پارلیمان بھی جو فروری کے الیکشن میں منتخب ہوئے تھے۔

م م / ا ا (روئٹرز، اے ایف پی)

DW.COM