عالمی یوم مہاجرت اور پاکستان میں افغان مہاجرین کی مشکلات | حالات حاضرہ | DW | 20.06.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی یوم مہاجرت اور پاکستان میں افغان مہاجرین کی مشکلات

آج دنیا بھر میں مہاجرین کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ پشاور کے قریب افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے قائم مرکز میں عالمی یوم مہاجرین کی وساطت سے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

لیکن پاکستان میں مقیم لاکھوں افغان مہاجرین بے پناہ مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ جہاں غیر قانونی طور پر پاکستان میں رہائش پذیر مہاجرین کو تنگ کیا جارہا ہے، وہاں ویزہ اور مطلوبہ دستاویزات رکھنے والے بھی گھروں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ یہ مہاجرین خود کو پاکستان میں تو غیر محفوظ تصور کرتے ہی ہیں لیکن افغانستان کو اس سے بھی زیادہ زیادہ غیر محفوظ قرار دیتے ہیں۔

ان مسائل میں اضافے کی ایک بڑی وجہ پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملہ اور گزشتہ سال طورخم سرحد پر سکیورٹی اہلکاروں کے مابین فائرنگ بھی رہی جس میں پاکستانی فوج کے چار جبکہ ایک افغان فوجی جاں بحق ہوا۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان آمدو رفت بند کی گئی۔ ان دونوں واقعات کے بعد پاکستان میں افغان مہاجرین کی واپسی کے مطالبے نے زور پکڑا۔ ایسے میں پولیس نے غیرقانونی طور پر افغان مہاجرین کے خلاف کریک ‌ڈاون کا آغاز کیا اور ملک بھر سے  ہزاروں غیرقانونی طور پر رہائش پ‍ذیر افغان خاندانوں کو طورخم کے راستے افغانستان جانے کے لیے پشاور پہنچایا گیا۔ 

سال رواں فروری میں پاکستان نے ملک میں مقیم مہاجرین کے لیے رجسٹریشن اور ویزہ پالیسی کا اعلان کیا جس کی وجہ سے افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کا عمل سست روی کا شکار ہوگیا۔ مہاجرین اب افغانستان میں پرتشدد کاروائیو‌ں میں اضافے کی وجہ سے وہاں جانے کے لیے تیار نہیں۔

پشاور کے علاقہ تہکال میں تین دہائیوں سے رہائش پذیر افغان باشندے عظمت اللہ نے بتایا، ’’اب تو نہ افغانستان جاسکتے ہیں اور نہ ہی ہمیں یہاں چھوڑا جاتا ہے۔ یہاں خوف کے مارے گھر سے نہیں نکل سکتے۔ ویزہ اور کارڈ رکھنے والے بھی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری سے ڈرتے ہیں۔ دراصل یہ ڈر اب افغانستان واپسی کا ہے جہاں انہیں پاکستانی جاسوس کا نام دیتے ہیں۔ یہاں تیس سال گزارے ہیں لیکن ہم پر شک کیا جاتا ہے کہ بھارت کی ایما پر یہاں بدامنی پھیلارہے ہیں۔‘‘

پاکستان میں ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ افغان مہاجرین کی وجہ سے ملک میں امن و امان کی صورتحال مزید بگڑ گئی۔ اس کے علاوہ یہ تاثر بھی ہے کہ بھارتی اور افغان خفیہ ایجنسیاں مل کر پاکستان میں دہشت گردی کو بڑھاوا دے رہی ہیں۔ بھارتی نیوی کے افسر کلبھوشن یادو کی دہشت گردی پھیلانے کے اعتراف نے اس تاثر کو مزید پختہ کردیا ۔

ادھراقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے نے بھی پاکستان کی طرف سے چار دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دینے کی عمل کی تعریف کی ہے۔  یواین ایچ سی ار کے تعاون سے اب تک چار اعشایہ دو ملین افغان وطن واپس جاچکے ہیں لیکن یو این ایچ سی ار کے مطابق پاکستان میں اب بھی ساڑھے تیرہ لاکھ مہاجرین رجسٹرڈ ہیں جبکہ ایک ملین سے زائد افغان باشندے غیر قانونی طور یہاں مقیم ہیں۔

پشاور پولیس کے مطابق  بعض غیر رجسٹرڈ افغا ن ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان میں ملوث ہیں۔ پشاور صدر کے انجمن تاجران کے صدر مجیب الرحمان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’بڑے بازاروں میں سینکڑوں کی تعداد میں افغان تاجر غیر قانونی طور پر موجود ہیں۔ آئے روزپولیس ان کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔ ان میں کئی نے جعلی شناختی کارڈ بنا رکھے ہیں۔ انہوں نے کاروبار پر بھی قبضہ کر رکھا ہے۔ پاکستان نے افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے متعدد بار ڈیڈ لائن دی ہے لیکن اب یہ ڈیڈ لائن سال رواں کے آخر تک دی گئی ہے۔

Pakistan Peschawar - International  Refugees Day (DW/F. Khan)

پشاور کے قریب افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے قائم مرکز میں عالمی یوم مہاجرین کی وساطت سے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا

افغان امور کے ماہر گوہر علی خان نے افغان مہاجرین کے مستقبل کے بارے میں بتایا، ’’پاکستان میں چار عشروں سے افغان مہاجرین مقیم ہیں لیکن  حکومت ان کے لیے پالیسی نہ بنا سکی۔ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے سینتیس سالہ عوامی قربانی کو ضائع کیا جارہا ہے۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے قریب آنے کی بجائے کوئی اور اس کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ‘‘

پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے کے مطابق افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں خیبر ایجنسی، مہمند اور باجوڑ ایجنسی سے ملحقہ سرحد پر آہنی باڑ لگائی جائے گی۔

 

اشتہار