عالمی یوم بیت الخلا: صاف ٹوائلٹس سے لاکھوں پاکستانی محروم | معاشرہ | DW | 19.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

عالمی یوم بیت الخلا: صاف ٹوائلٹس سے لاکھوں پاکستانی محروم

تازہ ہوا، صاف پانی اور صحت بخش خوراک کی طرح صاف ستھرے بیت الخلا کا استعمال بھی انسانی جسم کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے۔ تاہم پاکستان کے تقریبا چالیس فیصد آبادی آج بھی صاف ٹوائلٹس کی سہولت سے محروم ہیں۔

دنیا بھر میں انیس نومبر یوم بیت الخلا کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک فلاحی تنظیم سلمان صوفی فاؤنڈیشن ’صاف باتھ‘ نامی منصوبے کے ذریعے شہریوں کی صاف ستھرے پبلک ٹوائلٹس تک رسائی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس تنظیم نے رواں برس ستمبر میں کراچی کے علاقے لی مارکیٹ کے بس اسٹاپ کے قریب پرانے کارگو کنٹینر میں مرد اور خواتین کے لیے الگ الگ پبلک ٹوائلٹس نصب کیے تھے۔ یہ ٹوائلٹ صابن، ٹوائلٹ پیپر، اور ہاتھ دھونے کے واش بیسن کے ساتھ حفظان صحت کی دیگر سہولیات سے لیس ہیں۔

کراچی میں سلمان صوفی فاؤنڈیشن نے ’صاف باتھ‘ نامی منصوبے کے تحت پبلک ٹوائلٹس نصب کیے ہیں۔

کراچی میں ’صاف باتھ‘ نامی پبلک ٹوائلٹس

لی مارکیٹ کے ایک کارگو آفس میں ملازمت کرنے والے محمد حنیف کے بقول، ’’اس علاقے میں صاف پبلک ٹوائلٹ کی اشد ضرورت تھی، اس سے قبل ہم کو مجبورا بدبودار  پبلک ٹوائلٹ استعمال کرنا پڑتا تھا۔‘‘

ایس ایس ایف کے بانی سلمانی صوفی کے مطابق ’سیف باتھ‘ منصوبے میں خواتین، معذور اور ٹرانس جینڈر افراد کو صاف واش رومز کی سہولت فراہم کرنے کے لیے خاص طور پر توجہ دی گئی ہے۔

کھلی جگہ پر رفع حاجت کا مسئلہ

بین الاقوامی خیراتی تنظیم واٹر ایڈ کے مطابق تقریبا 208 ملین نفوس پر مبنی ملک پاکستان کی چالیس فیصد آبادی کے پاس صاف ستھرے اور مؤثر بیت الخلا کی سہولت موجود نہیں ہے۔ اسی طرح صاف باتھ منصوبے کے تحت کھلی جگہ پر رفع حاجت کے مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

واٹر ایڈ کے اندازوں کے مطابق 11 فیصد سے زائد پاکستانی لوگ کھلی جگہوں پر ہی رفع حاجت کرتے ہیں۔

انیس نومبر دنیا بھر میں یوم بیت الخلا کے طور پر منایا جاتا ہے۔

واٹر ایڈ  کے اندازوں کے مطابق 11 فیصد سے زائد پاکستانی لوگ کھلی جگہوں پر ہی رفع حاجت کرتے ہیں۔ماہرین صحت اس عمل کو ایک صحت عامہ کا مسئلہ قرار دیتے ہیں کیونکہ اس سے متعدد بیماریاں جنم لیتی ہیں۔

مزید پڑھیے: ٹوائلٹس نہیں ہیں، دیہی خواتین کہاں جائیں

علاوہ ازیں ایس ایس ایف کے ڈائریکٹر آف آپریشنز شہزاد نعیم نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ پبلک ٹوائلٹ کا ایک بلاک تعمیر کرنے میں تقریبا بیس لاکھ روپے کی رقم درکار ہوتی ہے۔ ان کے بقول، لی مارکیٹ اور جھیل پارک میں تعمیر کیے گئے پہلے دو بیت الخلا کارپوریٹ کمپنی ریکٹ بینکیسر نے عطیہ کیے تھے جبکہ لاہور میں بھی ایک پبلک ٹوائلٹ کا آغاز کیا گیا۔’’ نعیم نے مزید بتایا کہ ایس ایس ایف آئندہ برس تک کراچی میں مزید 50 بیت الخلا تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

ع آ / ع ح (تھومس روئٹرز فاؤنڈیشن)

DW.COM