عالمی ماحولیاتی روڈمیپ طے، سکون کا سانس مگر جشن نہیں | سائنس اور ماحول | DW | 15.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

عالمی ماحولیاتی روڈمیپ طے، سکون کا سانس مگر جشن نہیں

عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے شرکاء طویل بحث و مکالمت کے بعد ایک متفقہ لائحہ عمل پر متفق ہو گئے ہیں، تاہم ماحولیاتی تباہی کے انسداد کے اعتبار سے یہ منصوبہ درکار اہداف سے کہیں کم تر ہے۔

چلی کی میزبانی میں ہسپانوی دارالحکومت میڈرڈ میں جاری عالمی ماحولیاتی کانفرنس نے کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی کے حوالے سے نئے عزم اور وعدوں پر اتفاق کیا ہے اور اقدامات کو وقت کی 'فوری ضرورت‘ قرار دیا ہے، تاہم سائنس دانوں کی جانب سے ماحولیاتی تباہی سے بچنے کے لیے دیے گئے اہداف اس حکمتِ عملی سے کہیں بالا ہیں۔ میڈرڈ میں دو دسمبر سے جاری اس کانفرنس کو جمعے کے روز اختتام پزیر ہونا تھا لیکن کسی متفقہ لائحہ عمل تک نہ پہنچ پانے کی وجہ سے یہ اپنے مقررہ وقت سے چھتیس گھنٹے بعد بھی جاری رہی۔

عالمی ماحولیاتی کانفرنس، ناکامی سے بچنے کی کوشش

عالمی ماحولیاتی کانفرنس پر ناکامی کے سائے

اس کانفرنس کے بعد بتایا گیا ہے کہ اس حکمت عملی کے تحت ضرر رساں گیسوں کے موجودہ اخراج اور پیرس ماحولیاتی معاہدے میں طے کردہ اہداف کے درمیان فرق کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کانفرنس کے میزبان ملک چلی کی وزیرماحولیات کیرولینا شمٹ کی جانب سے کہا گیا ہے، ''آج اس دنیا کے شہری مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہم تیز اور بہتر انداز سے سرمایے کی فراہمی اور اشتراک عمل کے شعبوں میں کام کریں۔‘‘

گزشتہ ایک برس میں شدید موسمی حالات اور دنیا بھر میں لاکھوں نوجوانوں کی جانب سے ہفتہ وار ماحولیاتی ہڑتالوں کی وجہ سے مذاکرات کاروں پر دباؤ تھا کہ وہ دنیا بھر کی حکومتوں کو ایک واضح پیغام دیں کہ وہ ماحولیاتی کے شعبے میں اقدامات کو وسعت دیں۔

دو ہفتوں تک جاری رہنے والی یہ کانفرنس کئی مواقع پر اپنی ناکامی کے خدشات کا شکار رہی جب کہ تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک نے اس حوالے سے اپنے اپنے قومی مفادات کے تحفظ پر زور دیا۔

اس نئے معاہدے کے حوالے سے مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے ایک امید کی کرن اور مشترکہ بنیاد تو میسر آتی ہے، تاہم یہ ایک نہایت کمزور معاہدہ ہے۔

ویڈیو دیکھیے 04:19

کراچی میں کچرے کا مسئلہ اور گاربیج کین کی کوششیں

دنیا کے دو سو سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے وفود کے اس اجلاس میں پیرس ماحولیاتی معاہدے میں طے کردہ ہدف یعنی زمینی درجہ حرارت کو دو ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنے کے لیے کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے حکمت عملی وضع کرنا تھا۔ پیرس معاہدے کی رو سے اس منصوبے کو سن 2020 سے نافذ العمل ہونا ہے۔

دنیا کے کئی ممالک میں حالیہ کچھ عرصے میں جنگلاتی آگ لگنے کے واقعات میں اضافے، موسموں کی شدت کے نمایاں اثرات اور نوجوانوں کے مسلسل مظاہروں کے تناظر میں کہا جا رہا تھا کہ مختلف حکومتیں اپنے اپنے ہاں ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے واضح اقدات پر اتفاق کریں گی۔

تاہم اس کانفرنس میں مختلف ممالک کی جانب سے کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی کے حوالے سے توقع کردہ اہداف سے کہیں کم پر اکتفا کیا گیا۔

ماحولیات کے ماہرین کے مطابق اس کانفرنس میں مختلف ممالک کا موقف حیران کن حد تک کمزور اور ناقص تھا۔ ماحولیات کے ماہر اور سائنس دانوں کی یونین کے  ڈائریکٹر آف اسٹریٹیجی اینڈ پالیسی ایلڈن مائر کے مطابق، ''معنی خیر عمل درآمد کی بات آئے تو میں نے سائنس اور ماحولیاتی مذاکرات کاروں کے موقف میں اتنا بڑا فرق پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ دنیا کے وہ ممالک جو ضرر رساں گیسوں کا سب سے زیادہ اخراج کر رہے ہیں، وہ اس سلسلے میں جوش و جذبے سے محروم دکھائی دیے یا ماحولیاتی کے حوالے سے مطالبات کے خلاف مزاحمت کرتے نظر آئے۔‘‘

چین اور بھارت جو ضرر رساں گیسوں کے اخراج کے حوالے سے بالترتیب نمبر ایک اور نمبر چار ہیں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہاں کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے موجودہ اقدامات میں مزید کسی بڑھوتی کے خواہاں نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں واضح اور ٹھوس اقدامات کے مطالبات کے حوالے سے مختلف جزائر کے علاوہ یورپی یونین سرفہرست رہے، جب کہ کسی متفقہ اور ٹھوس حکمت عملی کی راہ روکنے کے اعتبار سے امریکا، سعودی عرب اور اور آسٹریلیا پیش پیش دکھائی دیے۔

ع ت، ع ح (اے ایف پی، روئٹرز)