′عالمی لیڈروں بچگانہ جھگڑے‘، لاکھوں افراد بے گھر | معاشرہ | DW | 22.05.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

'عالمی لیڈروں بچگانہ جھگڑے‘، لاکھوں افراد بے گھر

ایک انٹرنیشنل امدادی گروپ کا کہنا ہے کہ اس وقت عالمی لیڈران بچوں کی طرح جگھڑ رہے ہیں۔ اس کیفیت کی وجہ سے ساڑھے چھ لاکھ سے زائد کو بے گھری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

نارویجیئن ریفیوجی کونسل (NRC) نے عالمی لیڈروں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کے یہ صورت حال بچگانہ ہے اور اس باعث لاکھوں افراد کورونا وائرس کی وبا کے دوران گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس امدادی گروپ کے مطابق مہلک وبا کے دوران مختلف تنازعات کی وجہ سے رواں برس مارچ سے لے کر اب تک چھ لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد نے اپنا  گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔

بین الاقوامی امدادی تنظیم نارویجیئن ریفیوجی کونسل نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ان مشکل حالات میں مسلح تنازعات سے متاثرہ انیس مختلف علاقوں سے لاکھوں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ سب سے زیادہ بے گھر ہونے والے افراد کا تعلق براعظم افریقہ کے شورش زدہ ملک جمہوریہ کانگو سے ہے۔ اس افریقی ملک میں سن 2018 میں ہونے والے انتخابات کے بعد سے مسلح گروپ ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔

این آر سی کے سیکرٹری جنرل ژاں ایگیلانڈ کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب ماہرین صحت لوگوں کو تلقین کر رہے ہیں کہ کورونا وائرس کی وبا سے محفوظ رہنے کے لیے گھروں میں مقیم رہنا ضروری ہے، ایسے میں مسلح افراد  لوگوں کو ان کے گھروں سے بیدخل کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایگیلانڈ کا کہنا ہے کہ اب یہ بے گھر لوگ وائرس سے آلودہ ماحول میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

این آر سی امدادی تنظیم کے سیکرٹری جنرل نے نام لیے بغیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صوت حال پر فوری توجہ دیں۔ انہوں نے عالمی لیڈروں سے درخواست کی ہے کہ وہ حالات و واقعات کا احساس کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ خیال رہے کہ امریکا اور چین کے درمیان پہلے تجارتی معاملات پر اور اب کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے معاملے پر ایک دوسرے پر سخت الزامات لگا رہے ہیں۔

نارویجیئن ریفیوجی کونسل کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ لیڈروں کو انتہائی بچگانہ سیاست سے گریز کرتے ہوئے حل طلب عالمی امور پر توجہ مرکوز کرنا چاہیے۔ انہوں نے لیڈروں کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ وبا کے دوران مختلف متنازعہ امور پر عارضی سمجھوتے کریں تا کہ دنیا میں پھیلی وبا سے پیدا بحران کو حل کرنے کی کوششوں کو تیزی حاصل ہو۔

این آر سی کے مطابق رواں برس مارچ سے جنگ زدہ افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں چار لاکھ چالیس ہزار سے زائد افراد کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ اسی طرح مسلح تنازعے کے شکار عرب دنیا کے غریب ملک یمن میں قریب چوبیس ہزار افراد کو شدید جنگی حالات کی وجہ سے بے گھری کا شکار ہونا پڑا۔ جن دوسرے متاثرہ ممالک سے لوگ گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے، ان میں چاڈ، نائجر، شام، میانمار، صومالیہ اور افغانستان شامل ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 03:20

ہزاروں سال پہلے انسان نے افریقہ سے یورپ ہجرت کیوں کی؟

ع ح، ع ا (اے ایف پی، اے پی)