عالمی عدالت کے خلاف امریکی پابندیاں: برطانیہ عدالت کا حامی | حالات حاضرہ | DW | 14.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

عالمی عدالت کے خلاف امریکی پابندیاں: برطانیہ عدالت کا حامی

برطانیہ نے عشروں بعد کسی بین الاقوامی معاملے میں ایسا موقف اپنایا ہے، جو امریکا اور برطانیہ کے مابین خلیج کی عکاسی کرتا ہے۔ لندن حکومت نے واشنگٹن کے موقف سے اختلاف کرتے ہوئے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی حمایت کر دی ہے۔

برطانوی دارالحکومت سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ان دنوں امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ اور ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے مابین کھچاؤ کی صورت حال پائی جاتی ہے، جو بہت سے بین الاقوامی حلقوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ انٹرنیشنل کریمینل کورٹ کے اہلکاروں کے خلاف پابندیاں عائد کر چکی ہے۔

لیکن ان امریکی پابندیوں کے صرف دو روز بعد ہفتہ تیرہ جون کی شام برطانوی وزیر خارجہ ڈومینیک راب نے کہا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ طور پر کام کرنے دیا جانا چاہیے اور اس عدالت یا اس کے اہلکاروں کو اپنے خلاف کسی بھی طرح کی پابندیوں کے خوف کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔

ڈومینیک راب نے یہ بات اس لیے کہی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئی سی سی کے چند اہلکاروں کے خلاف اقتصادی اور سفری پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔

اس سلسلے میں برطانوی وزیر خارجہ نے کہا، ''برطانیہ بدترین نوعیت کے بین الاقوامی جرائم کے خلاف اور ان کے مرتکب افراد کو حاصل مامونیت کے مقابلے کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔‘‘

ڈومینیک راب نے کہا، ''ہم اس عدالت میں مثبت اصلاحات کے عمل کی حمایت بھی جاری رکھیں گے، تاکہ یہ زیادہ سے زیادہ ممکنہ حد تک مؤثر رہتے ہوئے اپنا کام کر سکے۔ آئی سی سی کے اہلکاروں کے لیے یہ ممکن ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھی طرح کی پابندیوں کے خوف کے بغیر اور اپنی آزاد اور غیر جانبدار حیثیت برقرار رکھتے ہوئے اپنے فرائض انجام دے سکیں۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات گیارہ جون کو اس بین الاقوامی عدالت کے چند ایسے اہلکاروں کے خلاف سفری اور اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں، جو اس بارے میں چھان بین کر رہے ہیں کہ آیا افغانستان میں اپنے طویل قیام کے دوران امریکی فوجی دستے وہاں جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے۔

م م / ع س (روئٹرز، اے ایف پی)

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات