عالمی سطح پر آزادی صحافت ’کم ترین‘ سطح پر | حالات حاضرہ | DW | 28.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی سطح پر آزادی صحافت ’کم ترین‘ سطح پر

صحافیوں پر جبر و تشدد اور متعدد مقامات پر حملوں کے تناظر میں گزشتہ برس عالمی سطح پر آزادی صحافت گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کی نچلی ترین سطح پر دیکھی گئی۔

جمہوریت کے حامی بین الاقوامی گروپ فریڈم ہاؤس کی جانب سے بدھ کے روز جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں صحافیوں پر تشدد اور حملے، میکسیکو میں مشکل صحافتی صورت حال اور ہانگ کانگ میں آزادی اظہار پر قدغن جیسے معاملات کی وجہ سے عالمی سطح پر آزادی صحافت نہایت مشکلات کا شکار رہی۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سن 2015ء آزادی صحافت کے اعتبار سے گزشتہ 12 برس کا بدترین برس رہا، جہاں عالمی سطح پر آزادی صحافت مختلف طرح کے مسائل سے دوچار رہی۔

اس رپورٹ میں 199 ممالک اور خطوں میں آزادی صحافت کا جائزہ پیش کیا گیا، جس کے مطابق دنیا میں صرف 13 فیصد آبادی کو آزاد صحافت میسر ہے۔

فریڈم ہاؤس کے مطابق آزادی صحافت کی راہ میں گزشتہ برس سب سے بڑی رکاوٹیں صحافیوں پر حملے، دھمکیاں، اس بابت مختلف نکتہ ہائے نظر اور پولرآئزیشن جیسے معاملات رہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’’ان میں سب سے زیادہ مشکلات مشرق وسطیٰ میں دکھائی دیں، جہاں حکومتوں اور عسکری گروہوں کی جانب سے صحافیوں اور صحافتی اداروں کو دباؤ کا شکار بنایا جاتا رہا، تاکہ وہ رپورٹنگ کرتے ہوئے جانب داری کا مظاہرہ کریں۔ ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے دشمن ہو جیسا ماحول پیدا کیا گیا اور مخالفت میں لکھنے یا بولنے والوں کو حملوں اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔‘‘

Frau im Gefängnis Gitter Gitterstäbe gefangen

کئی صحافیوں کو اپنی ذمہ داریوں کے سلسلے میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑی ہیں

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے، ’’اسی دوران اسلامک اسٹیٹ اور دیگر شدت پسند گروہوں نے میڈیا اداروں پر پرتشدد حملوں کا سلسلہ جاری رکھا، جب کہ اپنے نیٹ ورکس کا استعمال کرتے ہوئے زبردست پروپیگنڈے والے اظہاریے نشر کیے جاتے رہے اور روایتی صحافت یا خبریت کے معیارات کا خیال رکھے بغیر ناظرین اور قارئین کی بڑی تعداد تک پہنچایا جاتا رہے۔‘‘

اس رپورٹ میں خطرے کی گھنٹی بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ میکسیکو میں بھی صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے اور ان کے خلاف حملوں نے صحافت کو نقصان پہنچایا ہے جب کہ ہانگ کانگ میں چین کے خلاف آواز اٹھانے والے مقامی کتب ناشرین کے پانچ ارکان کی اچانک گم شدگی نے صحافتی حلقوں میں خوف کی فضا پیدا کر دی ہے، جس سے آزادی صحافت متاثر ہوئی ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صحافتی اداروں پر پابندیوں کے اعتبار سے چین دنیا بھر میں سرفہرست ہے، بیجنگ حکومت نے مالیات اور ماحول سے متعلق خبروں کو سینسر کرنے کی سرگرمیوں میں خاصا اضافہ کر دیا ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فرانس میں گزشتہ برس جنوری میں شارلی ایبدو پر ہونے والے حملے اور وہاں متعدد صحافیوں کی ہلاکت نے صحافتی برادری میں سلامتی کے حوالے سے خدشات پیدا کیے، جس کی وجہ سے وہاں ’سیلف سینسرشپ‘ کو ہوا ملی۔ اس رپورٹ میں ترکی ، بنگلہ دیش، گمبیا، سربیا، برونڈی اور یمن میں صحافتی سرگرمیوں پر خاصی پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 71 ممالک میں صحافتی سرگرمیوں کی سطح ’جزوی آزادی‘ رہی جب کہ 62 ممالک میں صحافت کو ’آزادی نہیں‘ جیسی سطح کا سامنا رہا۔

DW.COM

اشتہار