عالمی آبادی رپورٹ: 2100ء تک زمین پر تقریباﹰ گیارہ ارب انسان | معاشرہ | DW | 18.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

عالمی آبادی رپورٹ: 2100ء تک زمین پر تقریباﹰ گیارہ ارب انسان

اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ عالمی آبادی سے متعلق رپورٹ میں اگلے آٹھ عشروں میں کم رفتار اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں صدی کے اختتام تک زمین پر اندازہﹰ تقریباﹰ گیارہ ارب انسان آباد ہوں گے۔

اقوام متحدہ کی گزشتہ رپورٹ میں شامل کردہ تخمینوں میں بتایا گیا تھا کہ رواں صدی کے اختتام تک زمین پر انسانی آبادی 11 ارب سے زائد ہو جانا تھی۔ تازہ ترین رپورٹ میں تاہم کہا گیا ہے کہ آج سے 81 برس بعد سن 2100ء میں زمین پر مجموعی انسانی آبادی 10.9 ارب ہو گی۔

اس رپورٹ کے مطابق اس وقت انسانی آبادی کا مجموعہ 7.7 ارب بنتا ہے، جو سن 2050ء تک بڑھ کر 9.7 ارب ہو جائے گا۔ لیکن اس کے بعد کی نصف صدی میں ممکنہ طور پر زمین پر انسانی آبادی میں بہت تیز رفتار اضافہ نہیں ہو گا اور رواں صدی کے دوسرے نصف حصے میں یہ اضافہ صرف 1.2 ارب کے برابر رہے گا۔

اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ اس نئی ورلڈ پاپولیشن رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سن 2100ء میں زمین پر انسانی آبادی سے متعلق گزشتہ اندازہ دو سال پہلے لگایا گیا تھا، جو 11.2 ارب بنتا تھا۔ اب لیکن اس نئی رپورٹ میں 10.9 ارب انسانوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ماہرین کے خیال میں اب اس صدی کے اختتام پر زمین پر انسانی آبادی گزشتہ اندازوں سے 300 ملین یا 30 کروڑ کم ہی رہے گی۔

Südsudan Neugeborenes in Juba

افریقہ کی آبادی میں اگلے آٹھ عشروں میں بھی بہت تیز رفتار اضافہ ہوتا رہے گا

افریقہ کی آبادی میں مسلسل اضافہ

اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس کمی کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی ہے کہ دنیا کے کئی ممالک، خاص کر ترقی یافتہ ریاستوں میں شرح پیدائش میں مسلسل کمی ہو رہی ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک میں آبادی میں اضافہ آج بھی بہت زیادہ اور تیز رفتار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئندہ آٹھ عشروں میں مختلف براعظموں میں انسانی آبادی میں تبدیلی کی شرح بھی مختلف رہے گی۔

اس بات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ سب سے کم ترقی یافتہ براعظم افریقہ میں، جہاں آج بھی عام انسانوں کو بے تحاشا غربت کا سامنا ہے، آبادی میں اضافے کی شرح مسلسل زیادہ ہی رہے گی۔ خاص کر صحارا سے جنوب کی طرف واقع ریاستوں کی آبادی تو سن 2050ء تک ہی دوگنا ہو جائے گی۔

آبادی میں اضافہ اور نو بڑے ممالک

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے مطابق دنیا میں انسانی آبادی میں اضافے میں سے نصف کے ذمے دار صرف نو ایسے بڑے ممالک ہیں، جن میں جنوبی ایشیا سے پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں۔ یہ نو ممالک بھارت، نائجیریا، پاکستان، کانگو، ایتھوپیا، تنزانیہ، انڈونیشیا، مصر اور امریکا ہیں۔

Symbolbild Geburtenrate

یورپ اور شمالی امریکا کی آبادی میں مجموعی اضافہ صرف دو فیصد کے برابر رہنے کی توقع ہے

دوسری طرف شمالی امریکا اور یورپ جیسے ترقی یافتہ براعظموں میں اس صدی کے اختتام تک آبادی میں اضافہ اتنا سست رفتار ہو گا کہ شرح پیدائش اور شرح انتقال کے فرق کو مدنظر رکھا جائے تو ان براعظموں کی 2100ء تک مجموعی آبادی میں صرف دو فیصد کا انتہائی معمولی اضافہ ہی ہو گا۔

انسانوں کی اوسط متوقع عمر میں بھی اضافہ

تازہ ترین ورلڈ پاپولیشن رپورٹ کے مطابق زمین پر انسانی آبادی میں اوسط متوقع عمر میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آج زمین پر کوئی بھی عام انسان اوسطاﹰ 72.6 سال تک زندہ رہتا ہے، جو 1990ء کے مقابلے میں آٹھ سال زیادہ ہے۔ سن 2050ء تک یہی انفرادی اوسط متوقع عمر مزید اضافے کے ساتھ 77.1 سال ہو جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق آج دنیا میں ہر گیارہویں انسان کی عمر 65 برس سے زیادہ ہے۔ 2050ء تک ہر چھٹا انسان 65 سال سے زیادہ کی عمر کا ہو گا۔ اس کے علاوہ 2018ء میں دنیا میں 80 سال سے زائد عمر کے انسانوں کی مجموعی تعداد 143 ملین تھی، جو اگلے تین عشروں میں تین گنا ہو کر 426 ملین ہو جائے گی۔

م م / ع ا / ڈی پی اے، یو این

DW.COM