عاصمہ جہانگیر کانفرنس: ’سب ادارے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہیں‘ | حالات حاضرہ | DW | 20.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

عاصمہ جہانگیر کانفرنس: ’سب ادارے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہیں‘

لاہور منعقدہ تین روزہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس اتوار کی شام ختم ہو گئی، جس میں ملک میں آزادی اظہار، پارلیمانی بالا دستی اور منصفانہ احتساب کے عمل میں رکاوٹوں کے پس منظر میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر شدید تنقید بھی کی گئی۔

انسانی حقوق کی جہدوجہد کرنے والی معروف رہنما عاصمہ جہانگیر کی یاد میں ہونے والی اس کانفرنس کی مجموعی طور پر 20 مختلف نشستوں میں 100 سے زائد مقررین نے خطاب کیا۔ اس کانفرنس میں آزادی صحافت، قانون کی بالا دستی، جموں کشمیر میں انسانی حقوق کے بحران، خواتین اور اقلیتوں کو درپیش مسائل، غیر منصفانہ احتساب، قومی سلامتی کے درست تصور، سوشل میڈیا کی صورتحال اور قانون کی تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کی بہتری کے امور سمیت کئی موضوعات پر تفصیل سے بات کی گئی۔ اس کانفرنس کا اہتمام عاصمہ جہانگیر لیگل سیل اور عاصمہ جہانگیر فاؤنڈیشن نے پاکستان بار کونسل کے تعاون سے کیا تھا۔

اس کانفرنس میں بیرونی ممالک سے آنے والے وفود نے بھی شرکت کی جبکہ پاکستان کے مختلف حصوں سے صحافیوں، وکلاء، سیاسی رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں، مزدور رہنماؤں، دانشوروں اور طالب علموں نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔ برطانیہ اور کئی یورپی ممالک کے سفارتی حکام نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی۔ تاہم صحافیوں کے تحفظ کی ایک بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کے مطابق اس کے ایشیا پروگرام کے کوآرڈینیٹر سٹیون بٹلر کو 'سٹاپ لسٹ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لاہور سے واپس بھیج دیا گیا تھا۔ سی پی جے نے گزشتہ ماہ جاری کردہ اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان میں آزادی صحافت کے لیے حالات مزید ناموافق ہو گئے ہیں۔

'صوبوں کو تاحال آئینی خود مختاری نہیں ملی‘

اتوار کے روز اس کانفرنس کے ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر اور رکن قومی اسمبلی اختر مینگل نے کہا کہ صوبوں کو ابھی تک وہ خود مختاری نہیں ملی، جس کا وعدہ ان سے پاکستانی آئین میں کیا گیا ہے۔ ان کے بقول منتخب صوبائی حکومت صوبائی چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس تک کو تعینات نہیں کر سکتی اور ان کی تقرری بھی وفاقی حکومت کرتی ہے۔

اختر مینگل نے الزام لگایا کہ کوئٹہ یونیورسٹی میں طالبات کے کمروں میں کیمرے لگائے گئے، بچیوں میں تعلیم کی شرح وہاں پہلے ہی کم ہے، اور اب وہاں والدین مزید پریشان ہو گئے ہیں۔ ان کے بقول اس صورت حال کے باوجود اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ابتدائی طور پر نہیں ہٹایا گیا تھا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر نے منصفانہ احتساب کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پوچھا کہ آیا پاکستان میں صرف سیاست دان ہی کرپٹ ہیں؟

انہوں نے کہا کہ دیگر اداروں کے اہلکاروں کا بھی احتساب ہونا چاہیے اور ملک توڑنے، ڈالروں کے عوض پاکستانی شہریوں کو دوسرے ممالک کے حوالے کرنے اور منتخب حکومتوں کو اقتدار سے باہر کرنے والوں کو بھی جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔

'بلوچستان سے پانچ ہزار افراد لاپتہ‘

اختر مینگل نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر جیسی شخصیات پاکستان کے ہر شہر میں پیدا ہوں، تو ہی شاید ملک میں الیکشن منصفانہ ہو سکتے ہیں، صوبے اور سینیٹ با اختیار ہو سکتے ہیں، ''پارلیمنٹ میں فاٹا کی نمائندگی تو ہے لیکن وزیرستان کے وہ ارکان پارلیمان جنہوں نے احتجاج کیا تھا، مشکل سے ہی اپنی جان بچا کر واپس آئے ہیں۔‘‘

اختر مینگل کے مطابق بلوچستان سے جبری طور پر لاپتہ ہو جانے والے افراد کی تعداد پانچ ہزار تک پہنچ چکی ہے اور پچھلے ایک سال میں صرف 400 افراد کو بازیاب کرایا جا سکا۔

انہوں نے مزید کہا کہ قانون کی بالا دستی اور وفاقی پاکستان کی مضبوطی کے لیے صوبائی خود مختاری کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ عدلیہ اور میڈیا کا آزاد ہونا بھی لازمی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کا موقف

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سید افتخار حسین نے اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ''ہم نے ملک کو متفقہ آئین دیا، دہشت گردوں کے خلاف اونچی آواز اٹھائی، آپریشن کی ذمے داری بھی قبول کی، اپنے بارہ سو لوگ شہید کروائے۔ ہماری وجہ سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوا لیکن آج ہمیں ہی غداری کے طعنے دیے جاتے ہیں۔ اگر آئین بنانے والے کمزور کر دیے جائیں یا انہیں جیلوں میں ڈال دیا جائے اور آئین توڑنے والے طاقتور ہو جائیں تو یہ ملک آئین کے مطابق کیسے چل سکتا ہے؟‘‘

افتخار حسین کے بقول بالا دست قوتوں کو اٹھارہویں ترمیم اس لیے ناپسند ہے کہ اس کے تحت زیادہ مالی وسائل صوبوں کو دیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا، ''تمام ادارے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کریں۔ ماضی میں وفاق کی مضبوطی کے نام پر کی جانے والی کارروائیوں نے ملک توڑ دیا تھا۔ اس لیے تمام صوبوں کو ان کے حقوق دینا ہوں گے۔‘‘

اے این پی کے اس رہنما نے کہا،  ''اب خیبر پختونخوا میں آرڈیننس کے ذریعے ایک قانون لایا جا رہا ہے کہ حکومتی ایجنسیاں بغیر ایف آئی آر کے کسی بھی شخص کو کہیں سے بھی گرفتار کر سکتی ہیں۔ ملک میں صرف دو جماعتوں کے خلاف احتساب چل رہا ہے۔ ہمیں دھاندلی کے ذریعے ہرایا گیا۔ نواز شریف کے ساتھ بھی زیادتی کی گئی۔‘‘

قومیتوں کو شناخت دینے سے مضبوطی

اس کانفرنس کے ایک اور سیشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور کا کہنا تھا، ''کسی ادارے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ کس نے سیاست کرنا ہے اور کس نے نہیں، کس کا انٹرویو میڈیا پر چلے گا اور کس کا نہیں، کس کو ووٹ ڈالے جائیں گے اور کس کو نہیں یا پھر یہ کہ کس کی حکومت بنے گی اور کس کی نہیں۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ قومیتوں کو شناخت دینے اور عوام کے حقوق کا احترام کرنے سے ریاستیں مضبوط ہوتی ہیں۔

پاکستان سپریم کورٹ بار کے سابق صدر علی طفر کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم سے صحت اور تعلیم سمیت کئی شعبوں میں مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے خیال میں اکثریت کی رائے پر قانون کی رائے کو فوقیت دی جانا چاہیے۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے احسن اقبال نے کہا کہ آج کی دنیا میں کسی بھی ملک کی سلامتی کو افواج کی تعداد یا اسلحے کے ذخائر بڑھا کر یقینی نہیں بنایا جا سکتا بلکہ ایسا اقتصادی سلامتی کو یقینی بنا کر ہی کیا جا سکتا ہے۔

اس کانفرنس سے خطاب کرنے والے دیگر مقررین میں ممتاز وکلاء رہنما علی احمد اور پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری بھی شامل تھے۔ لاہور کے ایک ہوٹل میں منعقدہ اس تین روزہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے موقع پر پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کے حوالے سے ایک مختصر نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا۔

DW.COM