عارف علوی نے بطور صدر پاکستان حلف اٹھا لیا | حالات حاضرہ | DW | 09.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عارف علوی نے بطور صدر پاکستان حلف اٹھا لیا

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے پرانے رفیق کار اور ملکی سیاسی جماعت پی ٹی آئی کے بانی رکن عارف علوی نے آج پاکستان کے تیرہویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔ وہ پانچ سال تک اس عہدے پر فائز رہیں گے۔

پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے عارف علوی سے حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی جس میں سیاسی اور عسکری حکام سمیت متعدد سفارت کاروں نے بھی شرکت کی۔

عارف علوی نے یہ عہدہ سابق صدر ممنون حسین کی جگہ سنبھالا ہے۔ ممنون حسین کی مدت صدارت رواں ماہ کی آٹھ تاریخ کو مکمل ہو گئی تھی۔ وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے حمایت یافتہ تھے۔

پاکستان کے نئے صدر عارف الرحمان علوی نے ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے گھرانے میں آنکھ کھولی۔ 29 جولائی سن 1949 کو کراچی میں پیدا ہونے والے عارف علوی پیشے کے لحاظ سے ڈینٹسٹ ہیں اور ان کا شمار ملک میں دانتوں کے معروف ترین معالجین میں کیا جاتا ہے۔ امریکا کی میشیگن یونیورسٹی سے فارغ التحصیل عارف علوی پاکستان ڈینٹل ایسویس ایشن سے وابستہ رہے بلکہ بطور صدر ایشیاء پیسیفک ڈینٹل فاؤندیشن میں بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

Pakistan Arif Alvi (picture alliance/dpa/S.Akber)

عارف الرحمان علوی نے ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے گھرانے میں آنکھ کھولی

 سن 1969 میں علوی نے بطور اسٹوڈنٹ لیڈر اُس وقت کے جنرل ایوب خان کی ملٹری حکومت کے خلاف چلائی جانے والی تحریک میں حصہ لیا تھا۔ لاہور میں ایک مظاہرے کے دوران اُن کے دائیں بازو میں ایک گولی لگی تھی جسے وہ فخریہ طور پر ’پاکستان میں جمہوریت کی بقا کی جدوجہد کی علامت‘ گردانتے ہیں۔ یہ گولی آج بھی اُن کے بازو میں پیوست ہے۔

اُن کا شمار وزیر اعظم عمران خان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے بانی ارکان میں ہوتا ہے۔ اُن کی سیاسی جدوجہد کا دور پانچ عشروں پر محیط ہے۔

سن 2016 میں عارف علوی کو پارٹی کا صوبائی صدر نامزد کیا گیا اور 25 جولائی کے انتخابات میں عارف علوی دوسری مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے جبکہ 18 جولائی کو پارٹی قیادت نے انہیں صدارتی امیدوار نامزد کردیا تھا۔

ص ح / ا ا / نیوز ایجنسی

DW.COM

اشتہار