عابد علی: پاکستانی ڈرامے کی تاریخ ساز شخصیت | فن و ثقافت | DW | 06.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

عابد علی: پاکستانی ڈرامے کی تاریخ ساز شخصیت

پاکستان کے مایہ ناز اداکار، ہدایتکار اور پروڈیوسر عابد علی کو جمعے کی سہ پہر کراچی میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ 67 سالہ عابد علی کا انتقال جمعرات کی شب کراچی کے ایک مقامی ہسپتال میں ہوا تھا۔

وہ جگر کے عارضے میں مبتلاء تھے اور گزشتہ چند روز سے ہسپتال میں داخل تھے۔ اگر پاکستان ٹیلی ویژن کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو عابد علی کا شمار پاکستان کے اُن نامور ترین اداکاروں میں ہوتا ہے، جن کے نام پر درجنوں مقبول ترین ٹی وی ڈرامے ہیں۔

عابد علی کے انتقال پر پاکستان میں فلم اور ٹی وی کے شعبے سے وابستہ شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور ان کی وفات کو پاکستانی ٹیلی ویژن کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا گیا ہے۔

ثمینہ احمد نے عابد علی کے ساتھ پی ٹی وی کے کلاسیک ڈرامے 'وارث‘ سمیت متعدد ڈراموں میں کام کیا۔ ان کے بارے میں ثمینہ احمد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ عابد علی ایک بہت پیارے انسان اور بہت اچھے دوست تھے، جن کے ساتھ انہوں نے بہت کام کیا۔ ثمینہ نے بتایا کہ عابد علی سکھانے اور بتانے والے اداکار تھے۔ وہ کام کو بہت سنجیدگی سے لیتے تھے اور ہر سین پر گفتگو کرتے تھے کہ 'اسے ایسے کر لیتے ہیں، تم ایسے کرنا۔ میں ایسے کروں گا۔‘  ثمینہ احمد نے کہا کہ ابھی ان کا بہت سا اچھا کام باقی تھا۔ وہ بہت جلدی چلے گئے مگر بہت سی یادیں چھوڑ گئے اور وہ ہمیں ہمیشہ یاد آئیں گے۔

معروف اداکار اور مارننگ شو کے میزبان فیصل قریشی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انہوں نے عابد علی کے ساتھ دو فلموں سمیت متعدد ڈراموں میں کام کیا۔ فیصل قریشی نے بتایا، ''عابد علی میرے والد کے دوست تھے اور مجھ پر بہت شفیق تھے‘‘۔ ان کے ساتھ اپنی یادیں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ''عابد علی صاحب نے مجھے گود میں کھلایا ہے اور ایک مرتبہ جب میں صرف چند ماہ کا تھا تو میں نے ان پر 'سُوسُو‘ کر دیا تھا جس سے ان کی ٹائی خراب ہو گئی تھی اور وہ آج تک مجھے کہتے تھے کہ میری ایک ٹائی تم پر ادھار ہے اور مجھے نئی ٹائی خرید کر دو‘۔ فیصل قریشی نے بتایا کہ عابد علی صاحب کو اپنی آواز پر بہت عبور تھا اور مکالموں میں کب وقفہ دینا ہے وہ خوب جانتے تھے۔

مقبول اداکار عدنان صدیقی نے عابد علی کو یاد کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اگرچہ وہ نسبتاً خاموش طبع آدمی تھے مگر بہت وضع دار انسان تھے۔ عدنان صدیقی نے عابد علی کے مشہور ڈرامے غلام گردش سمیت کئی ڈراموں میں کام کیا ہے۔

معروف اداکارہ اور ماڈل عفت عمر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ''غلام گردش میں عابد علی نے میرے والد کا کردار ادا کیا تھا اور میں نے انہیں بہت ہی شفیق پایا۔ وہ ہر اچھے کام کو سراہتے تھے اور جب سین اچھا ہو جاتا تو بہت تعریف کرتے تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ میں ان کی بیٹی ایمان علی کی دوست بھی ہوں تو میرے ساتھ مزید شفیق ہو گئے اور ہمیشہ سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دیتے تھے۔ بہت ہی پروفیشنل تھے اور وقت کی بہت زیادہ پابندی کرتے تھے۔ کبھی ان کی وجہ سے کوئی سین لیٹ نہیں ہوا۔‘‘

عابد علی کو یاد کرتے ہوئے پاکستانی فلمی ہدایت کار سید نور نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ان کا عابد علی کے ساتھ 40 سال سے زیادہ پرانا تعلق ہے، جب سید نور فلمیں لکھا کرتے تھے۔ سید نور نے بتایا کہ عابد علی نے ان کی لکھی ہوئی اور بنائی ہوئی کئی فلموں میں کام کیا اور ان کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ مثبت اور منفی دونوں طرح کے کردار بہت اچھے انداز سے کرتے تھے اور ایسے اداکار بہت کم ہوتے ہیں۔

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں پیدا ہونے والے عابد علی نے اپنے فنّی سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان کوئٹہ سے کیا تا ہم کچھ مزید کر دکھانے کی چاہ انہیں لاہور لے آئی جہاں پاکستان ٹیلی ویژن لاہور مرکز سے انہوں نے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا۔ یہ بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی کا دور تھا اور ٹی وی ڈراما ابھی پنپنا شروع ہوا تھا۔

یہ وقت عابد علی کے لیے بہت موزوں تھا، انہوں نے اپنے ابتدائی ایّام ہی میں ڈراما سیریل 'جھوک سیال‘ سے شہرت حاصل کی۔ پاکستانی ٹیلی ویژن لاہور مرکز کے حکام کا کہنا ہے کہ اس ڈرامے نے پاکستان کے ڈرامے کو ہمیشہ کے لیے ایک نئی جہت سے روشناس کروا دیا۔

جھوک سیال کے بعد عابد علی صاحب نے پی ٹی وی کو ایک اور کلاسک ترین ڈراما 'وارث‘ دیا۔ اس ڈرامے کی ہدایات نصرت ٹھاکر نے انجام دی تھیں اور اس میں انہوں نے دلاور نام کا کردار ادا کیا جو آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔

وارث کے بعد انہوں نے 80 کی دہائی میں کئی سُپر ہِٹ ڈرامے دیے جن میں سمندر، پیاس ، آن، ہزاروں راستے، سورج کے ساتھ ساتھ بہت مقبول ہوئے تھے۔

پاکستان کے سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جب 70 کی دہائی میں پاکستان میں فلموں کے فروغ کے لیے نیفڈیک کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا، تو اس کے تحت 'خاک اور خون‘ کے نام سے ایک فلم بھی بنائی گئی۔ یہ فلم عابد علی صاحب کی فلموں میں باقاعدہ آمد تھی۔ عابد علی نے200 سے زیادہ فلموں میں کام کیا تاہم وہ عموماً کریکٹر رولز ہی کرتے رہے جبکہ چند ایک فلموں میں انہوں نے ولن کے کردار بھی کیے۔ لیکن ان کی وجہ شہرت ہمیشہ ٹی وی ڈراما ہی رہی۔

نوے کی دہائی کے اوائل میں جب پاکستان میں پہلے نجی ٹی وی چینل 'این ٹی ایم‘ کی بنیاد رکھی گئی تو ملک میں نجی پروڈکشن کی ضرورت محسوس ہوئی۔ عابد علی صاحب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان میں بننے والی پہلی نجی ڈراما پروڈکشن 'دوریاں‘ ان کی کاوش تھی جو 1991 میں این ٹی ایم پر پیش کی گیا تھا۔ 'دوریاں‘سے عابد علی صاحب کا سفر بطور ہدایت کار اور پروڈیوسر شروع ہوا اور انہوں نے 'دشت‘ ، 'دوسرا آسمان‘ اور 'ہوا پہ رقص‘ سمیت کئی یادگار ڈرامے دیے۔ یہ وہ دور تھا جب نجی ٹی وی کی نرم پالیسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عابد علی صاحب نے کئی ایسے موضوعات پر ڈرامے بنائے جو سرکاری ٹیلی ویژن پر شجر ممنوعہ سمجھے جاتے تھے۔

عابد علی نے اپنے پروڈیوس کیے بیشتر ڈراموں میں خود بھی اداکاری کی اور رواں صدی کے آغاز پر جب پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز کا آغاز ہوا تو انہوں نے اپنی پروڈکشن کمپنی قائم کی جس کے تحت انہوں نے درجنوں سوپ اوپرا تخلیق کیے جن میں 'ماسی اور ملکہ‘ نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی۔

عابد علی صاحب نے دو شادیاں کیں، ان کی پہلی شادی 70 کی دہائی کے وسط میں اداکارہ اور گلوکارہ حمیرا چوہدری سے ہوئی جنہوں نے ان کے ساتھ ڈراما سیریل 'جھوک سیال‘ میں بطور ہیروئین کام کیا تھا۔ حمیرا چوہدری لاہور میں سکونت پذیر ہیں اور ان سے عابد علی کی تین بیٹیاں بالترتیب مریم علی، ایمان علی اور راحمہ علی ہیں۔ ایمان علی پاکستان کی سُپرماڈل رہ چکی ہیں اور انہوں نے کئی فلموں اور ڈراموں میں بھی کام کیا ہے۔ جبکہ راحمہ علی بھی اداکاری اور گلوکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

رواں صدی کے آغاز میں عابد علی نے دوسری شادی اداکارہ رابعہ نورین سے کی جن کے ساتھ وہ کراچی میں رہتے تھے۔

عابد علی صاحب مسلسل کام کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ آج بھی پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو انٹرٹینمنٹ پر ان کے تین ڈرامے چل رہے ہیں جن میں 'میرا رب وارث ‘ ، 'دل کیا کرے‘ اور 'رمزِ عشق‘ شامل ہیں اور حال ہی میں گزشتہ عید پر ان کی حریم فاروق اور علی رحمان کے ساتھ ایک فلم 'ہیر مان جا‘ ریلیز ہوئی تھی جس کی اس وقت بھی پاکستان سمیت دنیا بھر کے متعدد سنیما گھروں میں نمائش جاری ہے۔

عابد علی کو جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان کی حکومت کی جانب سے ان کے فن کے اعتراف میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی بھی دیا گیا تھا۔