عائشہ فاروق پاک فضائیہ کی پہلی لڑاکا پائلٹ بن گئیں | معاشرہ | DW | 13.06.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

عائشہ فاروق پاک فضائیہ کی پہلی لڑاکا پائلٹ بن گئیں

عائشہ فاروق پاکستان کی وہ پہلی خاتون پائلٹ ہیں جنہوں نے لڑاکا پائلٹ بننے کے لیے آخری ٹیسٹ بھی پاس کر لیا ہے۔ وہ ان انیس پاکستانی خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے گزشتہ دس سالوں میں پاکستان ائیر فورس سے تربیت حاصل کی۔

صوبہ پنجاب کے تاریخی شہر بہاولپور سے تعلق رکھنے والی عائشہ کے علاوہ پانچ اور خواتین بھی فائٹر پائلٹ ہیں لیکن جنگ کے حتمی ٹیسٹ کے لئے ابھی ان کو کوالیفائی کرنا ہے۔

26 سالہ نرم گفتار عائشہ کا سرگودھا کی مصحف بیس میں موجود اپنے مرد ساتھیوں کے بارے میں کہنا تھا کہ انہیں کچھ مختلف نہیں محسوس ہوتا۔ ان سب کی سرگرمیاں ایک سی ہوتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان کی دفاعی فورسز میں خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین کے رویوں میں تبدیلی آرہی ہے۔

طالبان عسکریت پسندی اور فرقہ وارانہ تشدد میں تیزی سے اضافے پر عائشہ کا کہنا تھا کہ اپنے ملک کے جغرافیائی محل وقوع اور دہشت گردی کی وجہ سے یہ بہت اہم ہےکہ ہر وقت تیار رہا جائے۔

اپنے مرد ساتھیوں کے برعکس نازک جسامت رکھنے والے عائشہ نے اپنی بیوہ اور غیر تعلیم یافتہ ماں سے اختلاف رائے کے باوجود ائیر فورس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بہت سی لڑکیاں ایسا سوچ بھی نہیں سکتیں کہ وہ کبھی طیارہ اڑائیں گی۔

ائیر فورس حکام نے بتایا کہ خاندانی دباؤ اور مردوں کی روایتی ڈومین کی وجہ سے بہت سی خواتین کو منع کیا جاتا ہے کہ وہ مسلح افواج کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں۔

پاکستان کی مسلح افواج میں اب تک تقریباﹰ چار ہزار خواتین موجود ہیں جو زیادہ تر ڈیسک ملازمتوں اور طبی کام تک محدود ہیں۔

پاکستانی خواتین پر میدان جنگ میں لڑنے کے لئے اب بھی پابندی عائد ہے۔ پاکستا ن ائیر فورس میں اس وقت 316 خواتین خدمات انجام دے رہی ہیں۔

24 سالہ ایویونکس انجینئیر انعم حسن نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے فرنٹ لائینز کا دفاع بہت ضروری ہے۔

hm/ia(Reuters)