’’ظالم اعداد‘‘، بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ | حالات حاضرہ | DW | 31.08.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’’ظالم اعداد‘‘، بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ

پاکستان میں ایک غیرسرکاری تنظیم کے مطابق رواں برس کے پہلے چھ ماہ میں ملک بھر میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے رپورٹ ہونے والے واقعات میں قریب 32 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

غیرسرکاری تنظیم ساحل گزشتہ سترہ برسوں سے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی سے متعلق رپورٹیں شائع کر رہی ہے۔ اس تنظیم کے مطابق ملک میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کا رپورٹ ہونا، اس اضافے میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے، کیوں کہ ماضی کے مقابلے میں اب ایسے واقعات زیادہ رپورٹ ہو رہے ہیں۔

اس تازہ رپورٹ کے مطابق رواں برس کے پہلے چھ ماہ میں ملک بھر میں 2322 بچے جنسی تشدد کا نشانہ بنے۔ گزشتہ برس اسی عرصے میں پیش آنے والے ایسے واقعے کے مقابلے میں یہ تعداد 32 فیصد زیادہ ہے۔ اس رپورٹ کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں قریب 12 بچے یومیہ کے اعتبار سے جنسی تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔

پاکستان میں سالانہ ہزار سے زائد بچے بچیوں کا ریپ، اسباب کیا؟

بھارت: چار ماہ کی بچی کا ریپ کے بعد قتل، ملزم کو سزائے موت

رپورٹ کے مطابق رواں برس کے پہلے چھ ماہ میں 542 بچے اغوا ہوئے، جنسی زیادتی کے واقعات 360، اجتماعی زیادتی کے  92، اجتماعی زیادتی کی کوشش کے 167، جنسی زیادتی کی کوشش کے 224، بچوں کے ساتھ شادیوں کے 55، بچوں کے گم شدگی کے  236 اور جنسی زیادتی کے بعد بچوں کو قتل کرنے کے  57 واقعات رپورٹ ہوئے۔

ساحل کی رپورٹ ’ظالم اعداد‘ سے وابستہ میڈیا کے شعبے کے سربراہ ممتاز گوہر نے ڈی ڈبلیو سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ پنجاب کے علاقے قصور میں سات سالہ بچی زینب کے ساتھ جنسی زیادتی اور پھر قتل کے واقعے کے بعد سوشل میڈیا، الیکٹرونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا نے عوامی آگہی میں کلیدی کردار ادا کیا اور یہی وجہ ہے کہ اب بہت سے والدین ایسے واقعات کی صورت میں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ رپورٹ درج کرانے پہنچ رہے ہیں۔

گوہر کا کہنا تھا، ’’پرنٹ، الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ مختلف افراد ہمارے رضاکاروں سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق رواں برس کے لیے چھ ماہ میں 23 سو سے زائد بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ وہ واقعات ہیں، جو رپورٹ ہوئے۔ حقیقی صورت حال اس سے کہیں زیادہ بھیانک ہے۔ اسی لیے ہم بار بار کہتے ہیں کہ ہماری رپورٹ فقط ٹِپ آف دا آئس برگ ہے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ جنسی زیادتی کے واقعات کے اعتبار سے پاکستانی صوبہ پنجاب دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں آگے تاہم اس بابت یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دیگر صوبوں میں مختلف سماجی وجوہات کی بنا پر ایسے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو سکتے۔

کیا ہمارے بچے محفوظ ہیں؟

ممتاز گوہر سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ پاکستان میں بچوں کو کتنا تحفظ حاصل ہے، تو انہوں نے کہا، ’’بچوں کو خطرہ ہر طرف موجود ہے۔ ہمارے پاس کئی ایسے کیسز بھی ہیں، جہاں بچے قریبی رشتہ داروں کا ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بنے۔ اس کے علاوہ بچوں کے تحفظ کے لیے مجموعی ماحول بھی متعدد مسائل کا سبب ہے۔ بچوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی بچہ کہیں بھی محفوظ نہیں ہے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کیا ہے اور یہ بھی کہ ایسی کسی واقعے کی صورت میں اسے کس سے بات کرنا چاہیے اور کس سے نہیں۔‘‘

قانونی طور پر بچوں کے تحفظ کے لیے اقدامات

ممتاز گوہر کے مطابق پاکستان میں ایسے واقعات کے حوالے سے متعدد اقدامات کی ضرورت ہے، جن میں تھانوں میں وہ خصوصی کاؤنٹرز شامل ہیں، جو ’چائلڈ فرینڈلی ہوں۔ ’’ایسے واقعات بہت حساس ہوتے ہیں۔ اس میں ڈی این اے، میڈیکل رپورٹ، قتل کی صورت میں پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد سے متعلق عمومی طریقہ کار کی بجائے خصوصی طریقہ کار اختیار کرنا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسا کوئی نظام نہیں ہے۔ ایسے کسی واقعے کی صورت میں جب متاثرہ بچہ اور اس کے والدین تھانے پہنچتے ہیں، تو انہیں ایک اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔‘‘

DW.COM