طبی معجزہ: ذہنی طور پر مردہ خاتون نے صحت مند بیٹی کو جنم دے دیا | صحت | DW | 28.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

طبی معجزہ: ذہنی طور پر مردہ خاتون نے صحت مند بیٹی کو جنم دے دیا

چیک جمہوریہ میں ذہنی طور پر مردہ ایک حاملہ خاتون نے ایک صحت مند بیٹی کو جنم دیا ہے۔ یہ خاتون گزشتہ تین ماہ سے کومے کی حالت میں تھی اور ڈاکٹروں نے اس بچی کی پیدائش کو ایک ’بے مثال‘ طبی معجزے کا نام دیا ہے۔

چیک جمہوریہ کے شہر برنو سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اس بچی کی پیدائش اسی شہر کے یونیورسٹی کلینک میں ہوئی۔ اس سے قبل ڈاکٹروں نے بچی کی والدہ کے ذہنی طور پر مردہ ہونے کے باوجود مشینوں کے ذریعے اس کے جسم کے انتہائی اہم اعضاء کی کارکردگی کو اس لیے معمول کے مطابق رکھا ہوا تھا کہ کسی طرح اس بچی کی جان بچائی جا سکے۔

اس ہسپتال کے ایک ترجمان نے اس بچی کی پیدائش کے بعد بتایا، ''بچی کی صحت اچھی ہے اور وہ ٹھیک ٹھاک ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس بچی کی پیدائش ایک ایسا معجزہ ہے، جس کی دنیا میں کوئی مثال موجود ہی نہیں۔‘‘

چیک جمہوریہ کے نشریاتی ادارے سی ٹی کے مطابق اس بچی کی پیدائش ایک سیزیریئن آپریشن کے ذریعے اگست کے وسط میں ہوئی اور پیدائش کے وقت اس کا وزن 2.1 کلوگرام تھا۔ یہ بچی ہسپتال سے فارغ کیے جانے کے بعد رواں ہفتے کے اوائل سے اپنے والد کے پاس ہے، جہاں اس کی عام نومولود بچوں کی طرح دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے بتایا ہے کہ اس بچی کی پیدائش کے بعد ڈاکٹروں نے اس کی والدہ کو مصنوعی طور پر زندہ رکھنے والی مشینیں بند کر دیں کیونکہ ذہنی طور پر مردہ ہونے کے باوجود اسے محض اس لیے 'لائف سپورٹ‘ پر رکھا گیا تھا کہ رحم مادر میں موجود بچی کی جان بچائی جا سکے۔

اس خاتون کی عمر 27 سال تھی اور حمل کے 16 ویں ہفتے کے دوران اس کے دماغ کی ایک شریان پھٹ گئی تھی۔ اس خاتون کا شوہر ایک پولیس اہلکار ہے، جو چند ماہ قبل مئی کے مہینے میں جب ایک مرتبہ رات گئے اپنی ڈیوٹی سے واپس آیا تھا، تو اس نے اپنی حاملہ بیوی کو گھر کے بیڈروم میں فرش پر بے ہوش پایا تھا۔

پھر جب اس خاتون کو ہسپتال پہنچایا جا رہا تھا، تو دماغ میں اندرونی طور پر خون بہتے رہنے سے اس کی حالت اور خراب ہو گئی تھی۔ ڈاکٹروں کے مطابق ہسپتال پہنچائے جانے تک اس خاتون کا ذہنی طور پر انتقال ہو چکا تھا۔

اس واقعے سے پہلے جنوری 2016ء میں بھی چیک جمہوریہ کے دارالحکومت پراگ سے تقریباﹰ 200 کلومیٹر جنوب مشرق کی طرف واقع برنو شہر کے اسی یونیورسٹی کلینک میں ایک ایسا بچہ بھی پیدا ہوا تھا، جس کی والدہ ٹریفک کے ایک حادثے کے بعد کومے میں تھی لیکن بعد میں اس خاتون کو دوبارہ ہوش آ گیا تھا۔

م م / ع ا / ڈی پی اے

DW.COM