طالبان کے گڑھ میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ | حالات حاضرہ | DW | 04.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

طالبان کے گڑھ میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ

افغانستان میں کورونا وائرس کے کیس سامنے آنے کے بعد طالبان نے کہا تھا کہ وہ اس سے نمٹنے کے لیے تیاریاں کر چکے ہیں لیکن اب انہیں شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جانیے طالبان کورونا وائرس کا مقابلہ کیسے کر رہے ہیں؟

حبیب رحمان کا تعلق جنوبی افغانستان کے اس علاقے سے ہے، جہاں پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ ان کے پاس ایسی کوئی سہولت ہی موجود نہیں ہے، جس سے یہ پتا چل سکے کہ ان کی مسلسل کھانسی کورونا وائرس یا کسی اور وجہ سے ہے۔ صوبہ ہلمند میں واقع ایک گروسری اسٹور کے بتیس سالہ مالک حبیب کا کہنا تھا، ''مجھے کھانسی بھی ہے، بخار بھی اور سینے میں درد۔ یہاں نہ تو کورونا وائرس کی تشخیص اور علاج کے لیے کوئی سینٹر ہے اور نہ ہی لوگوں میں مناسب طریقے سے آگاہی کی کوئی مہم چلائی جا رہی ہے۔‘‘

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق افغانستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد سترہ ہزار سے زائد ہو چکی ہے اور ان میں سے ہزاروں کا تعلق ان علاقوں سے ہے، جہاں طالبان کا کنٹرول ہے۔ ایک غیر جانبدار مبصر احمد سعیدی کا کہنا ہے،''مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان بھر میں ٹیسٹنگ کٹس نہیں ہیں۔طبی سامان کی کمی اور ناقص صحت کا نظام اس کے پھیلاؤ کے اہم اسباب ہیں۔‘‘

عشروں سے جاری جنگ کی وجہ سے افغانستان کا شعبہ صحت بری طرح متاثر ہوا ہے اور کابل حکومت بھی کورونا وائرس سے نمٹنے میں بری طرح ناکام ہو رہی ہے۔ کچھ عرصہ قبل افغان طالبان نے نعرہ لگایا تھا کہ وہ کابل حکومت سے بہتر طور پر انتظامی امور سنبھال سکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مارچ کے آغاز میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک آگاہی مہم کا آغاز بھی کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبان دیہات میں صابن اور ماسک تقسیم کر رہے ہیں لیکن اس میں سماجی فاصلہ برقرار نہیں رکھا جا رہا۔ اسی طرح ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک طالبان جنگجو نے سفید حفاظتی سوٹ پہن رکھا ہے اور وہ مقامی رہائشیوں کا بخار چیک کر رہا ہے جبکہ انہیں صفائی برقرار رکھنے کے طریقے بھی بتائے جا رہے ہیں۔

افغانستان میں کورونا وائرس ایران سے واپس آنے والے مہاجرین کے ساتھ ہی داخل ہوا تھا۔ اس وقت طالبان نے سینکڑوں واپس آنے والے افراد کو قرنطینہ میں رہنے کا حکم دیا تھا۔ دریں اثناء کچھ علاقوں میں طالبان نے اب حیران کن طور پر حکومتی طبی اہلکاروں کو داخل ہونے کی اجازت دی ہے تاکہ وہ صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔

دوسری جانب حالیہ چند ہفتوں سے طالبان کے زیر کنٹرول قندوز، ہلمند، اروزگان اور قندہار میں لوگوں کا شکایت کرتے ہوئے کہنا ہے کہ انہیں ان کے حال پر ہی چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایک مقامی ڈاکٹر صبغت اللہ کے مطابق قندوز میں طالبان نے طبی عملے کو داخل ہونے سے روک دیا تھا، ''انہوں نے ہم سے کہا کہ وہ خود ہی کورونا وائرس کے مسئلے کو سنبھال لیں گے۔‘‘

ہلمند کے حاجی قدرت اللہ کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا،'' حال ہی میں یہاں قریبی کلینک میں طالبان ایک پرموشنل ویڈیو بنانے کے لیے آئے تھے لیکن وہ پھر واپس نہیں آئے۔ ہمارے علاقے میں کورونا وائرس کے خطرات سے نمٹنے کے لیے کوئی آگاہی مہم نہیں چلائی گئی۔‘‘

دوسری جانب طالبان کمانڈروں کا کہنا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے خلاف لوگوں کی مدد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اروزگان میں طالبان کمانڈر حافظ محمد کا کہنا تھا، ''جو لوگ بھی بخار، کھانسی اور جسمانی درد میں مبتلا ہوتے ہیں، ہم انہیں ترین کوٹ لے کر جا رہے ہیں۔‘‘ بین الاقوامی میڈیا رپورٹوں کے مطابق طالبان کے متعدد ہائی لیول کمانڈر بھی کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں تاہم طالبان نے ایسی خبروں کو مسترد کیا ہے کہ ان کا کوئی ہائی پروفائل لیڈر اس بیماری میں مبتلا ہے۔

عید پر جاری ہونے والے سالانہ پیغام میں طالبان کے لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس بیماری کے خلاف طبی مدد حاصل کریں۔ تاہم انہوں نے وائرس کو اللہ کا عذاب قرار دیتے ہوئے کہا تھا، '' اللہ سے معافی طلب کی جائے اور احکامات کی پابندی کی جائے۔‘‘

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ان کی طرف سے وائرس سے بچاؤ کے لیے پمفلٹ تقسیم کیے جا رہے ہیں، ''ہماری موبائل ٹیمز موٹر سائیکلوں پر علامات والے مریضوں کو ہسپتالوں میں منتقل کر رہی ہیں۔‘‘ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کو ایک مشکل ہدف کا سامنا ہے۔ ڈاکٹر حمید احمدی کا کہنا تھا، '' نہ تو ایمبولینسں ہیں اور نہ ہی پروفیشنل طبی ٹیمیں، جو کہ مشتبہ مریضوں کا علاج کر سکیں۔‘‘

ا ا / ع ا ( اے ایف پی)