طالبان کے تین قیدیوں کے بدلے میں مغوی پروفیسروں کی رہائی | حالات حاضرہ | DW | 19.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

طالبان کے تین قیدیوں کے بدلے میں مغوی پروفیسروں کی رہائی

افغانستان میں مغوی دو غیر ملکی پروفیسروں کی قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل میں رہائی مل گئی ہے۔ طالبان کے تین قیدی رہا کر دیے گئے ہیں اور انہوں نے ڈیل منگل ہی کو کرنے کا بتایا تھا۔

افغان طالبان نے کہا ہے کہ افغانستان میں قید ان کے تین قیدی رہائی کے بعد قطر پہنچ گئے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ان کی رہائی طالبان کی طرف سے اغوا کیے گئے دوغیر ملکی پروفیسروں کے بدلے کا نتیجہ ہے۔ ان تینوں قیدیوں کو طالبان کے اندرونی حلقے میں انتہائی اہم خیال کیا جاتا ہے۔ انہیں سخت سکیورٹی کی بگرام جیل میں رکھا گیا تھا۔

طالبان نے قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل میں دو غیر ملکی پروفیسروں کو رہا کر دیا ہے۔ ان پروفیسروں میں ایک امریکی کیون کنگ ہیں اور دوسرے آسٹریلوی ٹموتھی ویکس ہیں۔ امریکی پروفیسر کیون کنگ کی بہن نے اپنے بھائی کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔ ان کی رہائی کس مقام پر کی گئی ہے، یہ تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

ایسی اطلاعات آتی رہی ہیں کہ مسلسل قید میں رہنے کی وجہ سے ٹموتھی ویکس اور کیون کنگ کی صحت میں شدید گراوٹ پیدا ہو گئی تھی۔ ان دونوں پروفیسروں کا تعلق افغان دارالحکومت کابل میں واقع امریکن یونیورسٹی سے ہے۔ غیر ملکی پروفیسروں کی رہائی کے لیے قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل کی تفصیلات صدر اشرف غنی نے بارہ نومبر کو ایک خصوصی پریس کانفرنس میں بتائی تھیں۔

Afghanistan Enführter Kevin King (picture-alliance/AP Photo)

مغوی امریکی پروفیسر کیون کنگ اور آسٹریلوی ٹموتھی ویکس کو سن 2016 میں کابل سے اغوا کیا گیا تھا

طالبان نے ان مغربی پروفیسروں کی دو مرتبہ ویڈیوز بھی ریلیز کی تھیں۔ ایک ویڈیو اغواء کے ایک برس بعد ہی جاری کی گئی تھی۔ زرد رنگت اور علیل دکھائی دینے والے دونوں پروفیسروں نے اپنی اپنی حکومتوں سے اپنی اپنی رہائی کی بات چیت شروع کرنے کی اپیل کی تھی۔ ان کی رہائی کا ایک ریسکیو آپریشن بھی امریکی فوج نے کیا تھا لیکن کارروائی کے وقت اس مقام پر دونوں پروفیسر  موجود نہیں ہوئے تھے۔

قطر پہنچنے والے طالبان کے تین قیدیوں میں انس حقانی بھی شامل ہیں جن کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے ہے۔ انس حقانی کی گرفتاری سن 2014 میں خلیجی ریاست بحرین میں ہوئی تھی۔ وہ حقانی نیٹ ورک کے لیڈر جلال الدین حقانی کے بیٹے اور موجودہ کمانڈر سراج الدین حقانی کے چھوٹے بھائی ہیں۔ حقانی نیٹ ورک کو ایک انتہائی خطرناک عسکریت پسند گروپ تصور کیا جاتا ہے۔

ع ح : ع ا (اے پی، روئٹرز)

 

DW.COM