طالبان کی حکومت تسلیم کی جائے؟ فیصلہ کابینہ کرے گی، شیخ رشید | حالات حاضرہ | DW | 19.08.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

طالبان کی حکومت تسلیم کی جائے؟ فیصلہ کابینہ کرے گی، شیخ رشید

پاکستانی وزیر داخلہ شیخ رشید کے مطابق افغان حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے حتمی فیصلہ کابینہ کرے گی۔ ادھر امریکا میں پاکستانی سفیر نے کہا ہے کہ اس حوالے سے فیصلہ عالمی برادری سے مشاورت کے بعد ہو گا۔

پاکستانی وزیر داخلہ شیخ رشید نے بدھ کے دن کہا ہے کہ آیا کابل میں طالبان جنگجوؤں کی حکومت کو تسلیم کیا جائے؟ اس بات کا حتمی فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ ہی کرے گی۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پر امن اور مستحکم افغانستان ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا، ''ہم امن کے داعی ہیں، ہم اجازت نہیں دیں گے کہ ہماری سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہو۔ ساتھ ہی ہم اس بات کی اجازت بھی نہیں دیں گے کوئی دوسرا علاقہ ہمارے خلاف استعمال ہو۔‘‘

دوسری طرف امریکا میں پاکستان کے سفیر اسد مجید کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی حکومت یک طرفہ طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا بلکہ اس حوالے سے عالمی برادری سے مشاورت کی جائے گی اور دیکھا جائے گا کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد کیا طرز عمل اپناتے ہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر منیر اکرم نے کہا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کے اچھے رویے کو یقینی بنانے کے لیے ایک حکمت عملی بنائی جا سکتی ہے۔ ان کے بقول کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ عالمی برادری ان کی حکومت تسلیم کرے، اس لیے اس موقع سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:06

افغانستان میں طالبان کی مختصر تاریخ

امریکی حکومت کے علاوہ متعدد مغربی ممالک کا خیال ہے کہ اب نوے کی دہائی والا زمانہ نہیں رہا جبکہ طالبان بھی بدل گئے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ اب اگر انہوں نے عالمی سیاست کا حصہ بننا ہے تو انہیں اپنے انتہا پسندانہ اطوار بدلنا ہوں گے۔ تاہم افغان عوام کے علاوہ کئی عالمی ماہرین نے اس سوچ سے خبردار کیا ہے۔

اسی اثنا پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اسی بیانیے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ معزول افغان صدر اشرف غنی کی حکومت طالبان کے خلاف غلط جھوٹا پراپیگنڈا کر رہی ہے کیونکہ طالبان نے کابل کا کنٹرول سنبھالتے ہی عام معافی کا اعلان کر دیا ہے جبکہ بچیوں کی تعلیم پر بھی روک نہیں لگائی ہے۔

قریشی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ 'سب جانتے ہیں کہ افغانستان میں ایک بدعنوان نظام تھا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی اولین ترجیح ہے کہ افغانستان میں قیام امن ہو۔

افغانستان پر طالبان کے قبضےکو تنقیدی نگاہ سے دیکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ وقت ضرور بدلا ہے، جس کی وجہ سے اس انتہا پسند گروہ نے بھی اپنی حکمت عملی بدلی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقتدار سنبھالنے کے کچھ عرصے بعد پھرانہی سخت گیر قوانین و ضوابط کو لاگو کر دیں گے، جو انہوں نے سن 1996 تا سن 2010 میں اپنے دور اقتدار میں کیے تھے۔

اسی طرح کے خدشات کا اظہار افغانستان میں انسانی حقوق کے کارکنان، خواتین اور صحافیوں نے بھی کیا ہے جبکہ بالخصوص کابل کے ہوائی اڈے پر جس طرح لوگ ملک سے فرار ہونے کی کوشش میں ہیں، ان مناظر سے افغان عوام کا خوف محسوس کیا جا سکتا ہے۔